افغانستان میں طالبان کے اقتدار اور خراب معیشت نے پاکستانی افراد کو کیسے متاثر کیا؟

،تصویر کا ذریعہIslam Gul Afridi
- مصنف, اسلام گل آفریدی
- عہدہ, صحافی
کچی سڑک مشکل پہاڑی راستے اور مٹی سے بنے ہوئے مکانات، یہ ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے مرکز سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں افغان سرحد کے قریب شنواری قبیلے کی ذیلی شاخ میرداد خیل کا علاقہ ہے۔
یہاں مقامی لوگوں کی آمدن کا واحد ذریعہ معاش ہمسایہ ملک افغانستان میں نوکری یا سرحد سے چھوٹے پیمانے پر تجارتی سامان پاکستان لانا ہے۔ تاہم گذشتہ سال 15 اگست کو طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اس علاقے کے نوجوان بڑی تعداد میں بے روزگار ہوئے ہیں۔
ندیم شنواری گذشتہ دس سال سے کابل میں ایک منی ایکسچینچ کمپنی میں کام کر رہے تھے۔ اُن کی تنخواہ لگ بھگ 50 ہزار روپے تھی اور رہائش اور دیگر اخراجات کمپنی برادشت کرتی تھی۔ ڈیڑھ ماہ پہلے وہ نوکری چھوڑ کر پاکستان آ چکے ہیں لیکن اُن کے بھائی اب بھی وہاں ایک تعمیراتی کمپنی میں کام کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے بتایا کہ طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد افغانستان کا معاشی نظام بُری طرح متاثر ہوا ہے اور گذشتہ کئی ہفتوں سے طالبان کے جانب سے اسلحہ کے تلاش میں گھروں، رہائشی فلیٹس، دفاتر میں چھاپوں کی وجہ سے پریشانی مزید بڑھی ہے۔
ندیم اور ان کے بھائی اپنے خاندان کے 20 افراد کے کفیل ہیں۔ اُن کے بوڑھے والدین اور ایک معذور بھائی، جن کے نو بچے ہیں، ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ اُن کے 70 سالہ والد مدار رحمان ایک طرف بیٹے کے بے روزگاری سے پریشان ہیں تو دوسری طرف اُن کو اس بات پر خوشی ہے کہ کم از کم پاکستان آنے کے بعد اُن کے بیٹے کی زندگی محفوظ ہے۔
وہ اپنے دوسرے بیٹے (جو اب بھی افغانستان میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہے) کی زندگی کے لیے پریشان ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ 20 سال پہلے وہ کابل میں ایک ہوٹل چلاتے تھے لیکن خراب سیاسی صورتحال اور وقفے وقفے سے حکومتوں کی تبدیلی کے بعد مجبوراً وہ سنہ 1991 میں سب چھوڑ چھاڑ کر پاکستان آ گئے۔

،تصویر کا ذریعہIslam Gul Afridi
کابل میں وزارت خزانہ کے اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر بتایا کہ افغانستان میں تمام سرکاری ملازمین کو مرحلہ وار تنخواہیں سرکاری خزانے سے ادا کر دی گئی ہیں تاہم اساتذہ اور ڈاکٹروں کے تنخواہیں امدادی ادارے دے رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ طب اور یونیورسٹی کی خواتین کا عملہ اپنے معمول کے مطابق اور بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی ڈیوٹی پر موجود ہے۔ اُنھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے سے پہلے نجی سطح پر بڑی تعداد میں پاکستانی تعلیم، مواصلات، تجارت اور طب کے شعبے میں کام کر رہے تھے لیکن مالی مسائل کی وجہ بہت سے لوگ کام چھوڑ کر واپس اپنے ملک جا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا مواصلات کے شعبے میں اُن کی دوبارہ تعیناتی کا عمل شروع ہو چکا ہے، لیکن اس بارے میں انھوں نے کوئی اعداد و شمار نہیں بتائے۔
لنڈی کوتل کے عبدالخالق نے بیرونی ملک سے شعبہ معاشیات میں اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے بعد تین سال چین اور 2011 سے اگست 2021 تک افغانستان میں ایک بڑی نجی یونیورسٹی میں پروفیسر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ اُن کی تنخواہ چار ہزار ڈالر کے لگ بھگ تھی تاہم طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہ نوکری ختم ہو گئی اور وہ پاکستان لوٹ آئے جہاں وہ ابھی بے روز گار ہیں۔
اُن کے مطابق ان کی فیکلٹی میں دیگر 60 پاکستانی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے
افغان صحافی اُمید حیران نے بتایا کہ افغانستان میں اعلیٰ تعلیم، ٹیلی کمیونیکشن اور طب کے شعبے میں پاکستانیوں کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔ اُن کے بقول ہندوستان، بنگلہ دیش، افریقہ اور دیگر ممالک کے لوگوں کی اعلٰی ڈگریوں کے باوجود پاکستانیوں کو یہاں زیادہ ترجیح دی جاتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAbdul Khaliq
اُنھوں نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لگ بھگ چھ ہزار پاکستانی افغانستان کے مختلف شہروں میں کام کرتے تھے تاہم ملک کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے یہ تعداد اب نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
لنڈی کوتل ہی سے تعلق رکھنے والے ایوب جان پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں۔ پشاور سے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ سنہ 2005 سے کابل کے ایک بڑے نجی ہسپتال میں کام کر رہے تھے لیکن گذشتہ سال وہ بھی نوکری چھوڑ کر پاکستان آ گئے۔
اُنھوں نے کہا کہ صرف کابل شہر میں دو سو کے قریب نجی ہسپتال کام کر رہے تھے، پھر بھی مقامی لوگ زیادہ تر اُن مراکز میں علاج کروانے کو ترجیح دیتے تھے جہاں پر پاکستانی ڈاکٹر ہوتے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہاں اس وقت بھی ماہر طبی عملے کی انتہائی کمی کی وجہ سے معمولی بیماریوں میں مبتلا مریض بھی موت کے منھ میں جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہIslam Gul Afridi
ندیم شنواری نے کئی ہفتے انتظار کے بعد پشاور میں ایک منی ایکسچینچ کمپنی میں بیس ہزار ماہانہ تنخواہ پر کام شروع کر دیا ہے لیکن ساتھ ساتھ وہ گاؤں کے دوسرے لوگوں کے طرح اس انتظار میں بھی ہیں کہ اگر افغانستان میں معاشی حالات دوبارہ بہتر ہوں اور وہ واپس کابل چلے جائیں۔ تاہم ابھی ایسا فوری طور پر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
افغان سرحد طورخم پر کام کرنے والے مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم سماجی کارکن اسرار شنواری نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے چھ ہزار سے زیادہ مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں کیونکہ سرحد پر آمد و رفت کے لیے سخت شرائط کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں کم ہو گئی ہیں۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایپکس کمیٹی کے تیسرے اجلاس میں کہا تھا کہ ہمسایہ ملک افغانستان کو معاشی مسائل سے نکالنے کے لیے صحت، بینکنگ اور مواصلات کے شعبے میں ماہر افراد بھیجے جائیں گے، تاہم سابق افغان صدر حامد کرزئی نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں لاکھوں کی تعداد میں تعلیم یافتہ باصلاحیت لڑکے اور لڑکیاں موجود ہیں۔
طالبان نے بھی عمران خان کے اس بیان پر کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا تھا۔










