پاکستان افغان سرحد: شمالی وزیرستان میں غلام خان کراسنگ سے افغانستان تجارت لوگوں کی زندگیاں کیسے بدل رہی ہے

پاکستان افغانستان سرحد
    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو، شمالی وزیرستان

(بی بی سی کی ٹیم بھی صحافیوں کے اس گروپ میں شامل تھی جسے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے شمالی وزیرستان کے علاقوں میران شاہ اور غلام خان کا دورہ کروایا۔ بی بی سی نے پاکستان افغانستان سرحد کی دونوں جانب یعنی شمالی وزیرستان اور خوست سے تعلق رکھنے والے تاجروں سے بھی بات کی۔)

'اس ایک سال میں میرا تقریباً ساڑھے تین سو ٹن کوئلہ سرحد پر ضائع ہوا ہے۔ پاکستانی شہریوں کے تجارتی قافلے تو بغیر اجازت نامے کے کابل تک چلے جاتے ہیں، مگر ہماری افغانستان سے آنے والی گاڑیوں کو اجازت نامہ ہونے کے باوجود میران شاہ سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔'

یہ الفاظ خوست سے تعلق رکھنے والے تاجر انور افغان زدگان کے ہیں جنہیں شکوہ ہے کہ ان کے تجارتی قافلے سرحد پر ہی آف لوڈ کیے جاتے ہیں اور گاڑیاں تبدیل کرنے کے اس عمل میں اکثر انہیں بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ افغانستان سے پاکستان کوئلہ برآمد کرتے ہیں جبکہ پاکستان سے مختلف اشیا افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک لے جاتے ہیں۔ ان کا کاروبار دونوں ملکوں کی سرحد پر واقع تیسرے بڑے کراسنگ پوائنٹ یا راہداری غلام خان کے ذریعے چل رہا ہے۔

غلام خان کراسنگ پوائنٹ دونوں ملکوں کے درمیان چار بڑی تجارتی راہداریوں میں سے ایک ہے اور تجارتی حجم کے لحاظ سے طور خم اور چمن کے بعد اس کا تیسرا نمبر ہے۔ یہ پاکستانی ضلع شمالی وزیرستان کو افغان صوبے خوست سے جوڑتی ہے۔

اگرچہ حال ہی میں پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس نے اپنی ایک رپورٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ’کاروبار دوست‘ پالیسیوں کا فقدان ہے اور تجارتی حجم ڈھائی ارب ڈالر سے کم ہو کر صرف ایک ارب ڈالر ہو گیا ہے مگر شمالی وزیرستان میں حکام کہتے ہیں کہ مجموعی صورتحال کچھ بھی ہو، مقامی سطح پر تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

ایک وقت تھا جب شمالی وزیرستان دہشتگردوں کا مرکز تھا اور یہاں پاکستان کے ’سیٹلڈ‘ علاقوں سے شہریوں کی آمدورفت تقریباً ناممکن تھی۔

یہاں سکیورٹی صورتحال میں اب بہت بہتری آ چکی ہے مگر یہ علاقے اب بھی خطرناک سمجھے جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہاں دہشت گردوں کے ’سلیپر سیلز‘ کا موجود ہونا ہے۔

پاکستان افغانستان سرحد

مجھے یاد ہے تین برس پہلے جب میں باجوڑ ایجنسی کی سرحد پر بارودی سرنگوں کی موجودگی سے متعلق رپورٹنگ کے لیے گئی تو بازار میں ایک شخص نے ہماری گاڑی کے پاس کھڑے ایک نوجوان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ٹی ٹی پی سے تعلق رکھتا ہے اور ’یہ لوگ اب بھی یہیں ہیں مگر انڈر گراونڈ ہو چکے ہیں اور فی الحال کارروائیاں نہیں کر رہے۔‘

یہ تو تین سال پہلے کی بات ہے مگر حالیہ چند ماہ میں یہ ’سلپیر سیلز‘ پھر سے سرگرم ہوئے ہیں اور ملک کے شہری علاقوں میں ان کی کارروائیاں بڑھی ہیں۔ یہاں تک کہ آئی ایس پی آر کے ساتھ جس روز ہم نے سرحدی علاقے میران شاہ اور غلام خان کا دورہ کیا، عین اسی وقت پشاور میں خودکش دھماکہ ہوا۔

مگر ان تمام خطرات کے بیچ معاشی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ سرحد پر باڑ نصب ہونے سے غیر رسمی تجارتی راستے بند ہوئے تو باقاعدہ کراسنگ پوائنٹس کو فعال کیا جا رہا ہے۔ طورخم اور چمن کراسنگ پوائنٹ پر ہفتہ بھر دن رات کام چلتا ہے تو غلام خان اور انگوراڈہ پوائنٹس بھی فعال ہو گئے ہیں۔

یہاں ابھی وہ سہولیات تو میسر نہیں جو طورخم اور چمن میں نظر آتی ہیں مگر تجارت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ غلام خان کراسنگ پوائنٹ شمالی وزیرستان میں سنہ 2014 میں ضرب عضب آپریشن شروع ہونے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل اس پوائنٹ سمیت مختلف راستوں سے غیر رسمی اور غیر قانونی تجارت جاری تھی۔

سنہ 2018 میں اس کراسنگ پوائنٹ کو باضابطہ طور پر کھولا گیا تاہم کورونا وائرس کی وبا کے دوران یہ کچھ عرصہ بند رہا اور اب اسے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے مکمل طور پر فعال ہوئے ایک سال سے زائد عرصہ بیت گیا ہے۔

ہم میران شاہ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے غلام خان کے ایک سکیورٹی قلعے میں قائم ہیلی پیڈ پر پہنچے اور پھر چند کلومیٹر کا فاصلہ گاڑیوں پر طے کیا گیا۔ یہاں میڈیا ٹیمز کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے مگر سڑک کے اردگرد معمول کی زندگی بھی رواں دواں تھی۔

کنٹینرز اور سامان سے لدے ٹرکوں کی ایک بڑی تعداد سڑک کے دونوں جانب موجود تھی۔ یہ علاقہ زیادہ آباد نہیں تاہم اب یہاں لوڈنگ پورٹس بننے کے بعد روزگار کے مواقع پیدا ہونے سے علاقے کی آبادی بھی بڑھ رہی ہے۔

پاکستان افغانستان سرحد

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران غلام خان کراسنگ پوائنٹ کے ذریعے شمالی وزیرستان میں دس سے بارہ ہزار افراد کو براہ راست نوکریاں ملی ہیں جبکہ ایک سال میں تین ارب روپے کا کاروبار ہوا۔

یہ ایک سادہ سا کراسنگ پوائنٹ ہے۔ سڑک کنارے پاکستان کی جانب چند چھوٹی عمارتیں ہیں جن میں کچھ دفاتر اور انتظار گاہ شامل ہیں۔ افغانستان کی جانب ایک دفتر ہے مگر کوئی انتظار گاہ موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ہمیں سرحد کے قریب فلمنگ کی اجازت نہیں تھی جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ دوسری طرف افغان طالبان نے تصاویر اور ویڈیو سے منع کر رکھا ہے۔ سرحد کے پار طالبان کا سفید جھنڈا لہرا رہا تھا۔

دوسری جانب درجنوں افراد غالباً اپنی دستاویزات مکمل ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ سڑک کی ایک جانب دو برقعہ پوش خواتین بھی بیٹھی تھیں۔ یہیں کئی ٹرک اور کنٹینرز بھی تھے جن میں کچھ پاکستان میں داخل ہونے اور کچھ افغانستان داخلے کا انتظار کر رہے تھے۔ یہاں سرحدی باڑ بھی موجود ہے جو پاکستانی فوج نے حالیہ چند برسوں میں نصب کی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہاں موجود ایک تاجر ضربت خان نے بتایا کہ وہ خوست سے کوئلہ درآمد کرتے ہیں جبکہ پاکستان سے چاول افغانستان لے جاتے ہیں۔ وہ اس وقت اپنی دستاویزات کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔

’کاغذی کارروائی میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، پاکستان کی طرف اور نہ ہی افغانستان کی جانب سے۔ ایک گھنٹے میں کام ہو جاتا ہے اور پھر میں خوست چلا جاتا ہوں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ سرحد پر باقاعدہ کراسنگ پوائنٹ بننے سے انھیں کاروبار میں آسانی ہوئی ہے۔

تاجر ضربت خان
،تصویر کا کیپشنضربت خان خوست سے کوئلہ درآمد کرتے ہیں جبکہ پاکستان سے چاول افغانستان لے جاتے ہیں

’جب یہاں سرحد بند تھی تو ہمیں طورخم کے ذریعے کام کرنا پڑتا تھا جو بہت مشکل تھا اور اس میں نقصان تھا۔ اب میں مہینے کا پچاس ہزار تو بہت آرام سے کما لیتا ہوں اور صرف میں ہی نہیں، یہاں گاؤں والوں کو روزگار ملا ہے۔ لڑکے گاڑیوں پر سامان لادتے اور اتارتے ہیں تو ان کو دیہاڑی ملتی ہے، یہاں دکانیں کھلی ہیں، کسی نے ہوٹل کھول لیا، گاڑیاں لے لی ہیں تو سب کا کام چل پڑا۔‘

ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی تاجروں کے لیے تو آسانی ہے مگر افغانستان سے آنے والوں کو قدرے مشکل حالات کاسامنا رہتا ہے۔

خوست کے تاجر انور افغان کہتے ہیں کہ انھیں پاکستانی حکام کی جانب سے کاغذی کارروائی میں مشکل پیش آتی ہے۔

’افغانستان سے آنے والی گاڑیوں کی سخت تلاشی لی جاتی ہے۔ پاکستان کی طرف چیکنگ پوائنٹس کم ہیں اور تلاشی بہت سخت ہوتی ہے۔ تو ہمارے ٹرک کئی کئی دن وہیں (غلام خان کراسنگ پوائنٹ ) پر رہتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’غلام خان میں اجازت نامے والی گاڑیاں بھی صرف میران شاہ تک ہی جا سکتی ہیں مگر طورخم سے یہی ٹرانسپورٹرز پنجاب اور پشاور تک جاتے ہیں۔ ان انتظامات میں بہتری ہوئی تو تجارت مزید بڑھے گی۔ اس لیے ہم تو حکومت پاکستان سے یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ یہاں ٹرمینل بڑھائے جائیں تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔‘

اس سوال پر کہ طالبان حکومت آنے کے بعد ان کا کاروبار کیسا ہے، انھوں نے بتایا کہ ان سمیت دیگر تاجروں کے کاروبار میں اضافہ ہوا ہے۔

’اب پاکستان سے یہاں بہت بڑی تعداد میں کاروبار ہو رہا ہے اور ہم بھی کر رہے ہیں۔ پہلے سرحدی پوائنٹس پر کرپشن زیادہ تھی، طالبان کے خوف سے اب کرپشن ختم ہوئی ہے تو ہمیں زیادہ فائدہ ہے۔ ہم تو تاجر ہیں اور تاجر دنیا بھر میں جہاں بھی ہوں وہ صرف امن چاہتے ہیں۔‘

انور افغان

،تصویر کا ذریعہAnwar Afghan

،تصویر کا کیپشنخوست کے تاجر انور افغان کہتے ہیں کہ انھیں پاکستانی حکام کی جانب سے کاغذی کارروائی میں مشکل پیش آتی ہے

یہی سرحد پر موجود ایک اور پاکستانی ڈرائیور نے بتایا کہ انھیں صرف اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کسی وجہ سے سرحدی پوائنٹ بند ہو جائے۔

دوسری طرف شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال پشاور کوہاٹ وغیرہ کی نسبت بہتر ہے۔

’ہمارے پاس اب انویسٹمنٹ آ رہی ہے۔ لوگ سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خوست سے جو کوئلہ یہاں آتا ہے وہ ملک کے دیگر حصوں میں سیمنٹ کی فیکٹریوں کے لیے پہنچایا جاتا ہے۔ یہ کوئلہ پاکستان میں پیدا ہونے والے کوئلے کی نسبت کوالٹی میں بہتر اور قیمت میں سستا ہے۔ اس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا بھی آرپار لائی جاتی ہیں۔

’چین کی بعض کمپنیوں نے یہاں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے جبکہ خود ماڑی پیٹرولیم بھی ایک منصوبے کا آغاز کر رہی ہے۔ ایک سال قبل یہاں ایک دن میں تیس چالیس گاڑیاں چلتی تھیں، اب یومیہ تین سے چار سو گاڑیاں سرحد کے آر پار چلتی ہیں۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ یہاں امن و امان کی صورت بہتر ہوئی ہے۔‘

خیال رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2019 سے فروری 2022 کے درمیان اس کراسنگ پوائنٹ سے 62 ہزار سے زائد ٹرک تجارت کے غرض سے پاکستان میں داخل ہوئے جبکہ 62 ہزار ٹرک پاکستان سے افغانستان گئے۔

تاہم وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ دہشتگردوں کے سلیپر سیلز بھی موجود ہیں جن کے خلاف فوجی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

یہاں ہماری ملاقات افغانستان سے آنے والے ایک شخص غلام خان سے بھی ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے نواسے کو غلام خان کراسنگ کے راستے پشاور لے جا رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ پیدل سرحد کی اس جانب آئے ہیں۔ یہی بات یہاں ضربت خان نے بھی کی اور کہا کہ ان سمیت مقامی کمیونٹی کا یہ مطالبہ ہے کہ یہاں بس ٹرمینل بنایا جائے تاکہ لوگ بسیں چلا سکیں۔ ’اس سے لوگوں کو بھی آمدورفت میں آسانی ہو گی، ان کا سفری خرچہ کم ہوگا اور ہمیں مزید کاروبار کا موقع ملے گا۔‘

دوسری طرف افغانستان کے صوبے خوست سے تعلق رکھنے والے انور افغان کہتے ہیں کہ ’پہلے بہت سختی تھی مگر اب گزارہ ہو جاتا ہے۔ ہماری درخواست ہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ ہو رہی ہے تو اس میں وہی سہولیات دی جائیں جو چمن اور طورخم میں ہیں۔ چوبیس گھنٹے آنا جانا ہو اور تاجر برادری کو آنے جانے میں آسانی ہو۔‘