طالبان کا افغانستان پر قبضہ: ہزاروں افغان شہری ملک سے نکلنے کی بے تاب خواہش لیے ایئرپورٹ پر موجود

- مصنف, سکندر کرمانی
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کابل
’پیچھے ہٹو، پیچھے ہٹو‘ یہ آواز ایک برطانوی فوجی کے چلانے کی ہے جو ان افغان شہریوں پر چیخ رہا ہے جو اس محفوظ عمارت کے باہر بے چینی سے کھڑے ہیں جہاں برطانوی سفارتی عملے کو افغانستان سے انخلا سے قبل لایا گیا تھا۔
اس اہلکار کے سامنے بہت سے افغان شہریوں نے دیوانہ وار اپنے برطانوی پاسپورٹ ہوا میں اس امید پر لہرائے کہ شاید انھیں بھی اندر جانے کی اجازت مل جائے لیکن افغان سکیورٹی گارڈز انھیں مسلسل پیچھے دھکیل رہے تھے۔
اس ہجوم میں بہت سے افراد کو افغانستان سے انخلا کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملا تھا لیکن وہ کسی بھی صورت میں ملک سے نکلنے کے لیے بے چین تھے جبکہ دیگر کو سفارتخانے کی جانب سے ای میلز موصول ہوئی تھیں کہ وہ وہاں آئیں اور پرواز ملنے تک انتظار کریں۔
ان میں ایک مغربی لندن میں ایک ٹیکسی سروس اوبر ڈرائیور ہلمند خان بھی ہیں جو چند ماہ قبل ہی اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ اپنے رشتے داروں سے ملنے کابل آئے تھے۔
انھوں نے کچھ برطانوی پاسپورٹ میری جانب اچھالے اور اپنے دو چھوٹے بیٹوں کے ہمراہ مایوسی سے مجھے بتایا کہ 'میں گذشتہ تین دنوں سے اندر جانے کی کوشش کر رہا ہوں۔'
یہیں پر برطانوی فوج کے لیے بطور مترجم خدمات انجام دینے والے خالد بھی موجود تھے۔ ان کے ہاں دو ہفتے پہلے ہی بچے کی ولادت ہوئی ہے اور انھیں خطرہ ہے کہ اس طرح کے حالات میں ان کا بچہ مر سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'میں صبح سے یہاں ہوں، راستے میں طالبان نے میری پیٹھ پر مجھے کوڑے مارے ہیں۔'
ایک چھوٹا سا راستہ اس عمارت کا داخلی دروازہ ہے اور یہاں ہزاروں افغان شہری جمع ہیں جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے ملک سے انخلا کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔
برطانوی فوجی بعض اوقات اس ہجوم کو سنبھالنے کے لیے ہوائی فائرنگ کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں اندر جانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ کسی طرح ہجوم کو ہٹاتے دھکیلتے آگے پہنچیں اور اپنی دستاویزات اس امید کے ساتھ ان کے سامنے لہرائیں کہ یہ آپ کو اندر جانے کی اجازت دے دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہوائی اڈے کے دروازوں پر صورت حال اور بھی زیادہ افراتفری کی شکار ہے جو امریکی فوجیوں کے زیر انتظام ہے جبکہ شہریوں کے داخلے کے لیے ایئرپورٹ کے مرکزی دروازے کے سامنے طالبان باقاعدگی سے ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں اور ہجوم کو پیچھے دھکیل رہے ہیں جو اندر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
'کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں؟ کیا یہ مجھے اندر جانے دیں گے۔‘
مجھے افغان شہریوں کے اس طرح کے سوالوں کا مسلسل سامنا رہا جو اس برطانوی اہلکاروں کے زیر انتظام عمارت میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے اور جنھیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں۔
بہت سے افراد نے مجھے اپنی دستاویزات دکھانے کی کوشش کی جو وہ اپنے ساتھ لائے تھے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کہ انھوں نے افغانستان میں بین الاقوامی فوجیوں یا سفارتخانوں کے ساتھ کام کیا ہے۔
ایک نوجوان خاتون نے مجھے بتایا کہ وہ بین الاقوامی باسکٹ بال کی کھلاڑی ہے۔ اس کا برطانوی سفارتخانے سے کوئی رابطہ نہیں ہے مگر اس کا کہنا ہے کہ اسے جان کا خطرہ ہے۔ اپنے خوف کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کی آواز رندھ گئی۔
طالبان نے متعدد بار کہا ہے کہ حکومت سے منسلک تمام افراد کو عام معافی دی گئی ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں 'تمام فریقوں کی نمائندہ' حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن یہاں بہت سے افراد کو اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شہر کے دیگر حصوں میں معاملات پرسکون ہیں، یہ ایک دوسری دنیا کا احساس دیتا ہے۔ دکانیں اور ریستوران کھل رہے ہیں۔ تاہم سبزی اور فروٹ منڈی میں دکانداروں نے مجھے بتایا کہ گاہکوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
کاسمیٹک بیچنے والے ایک دکاندار نے بتایا کہ اب بازاروں میں خواتین شاذو نادر دکھائی دیتی ہے حالانکہ وہاں خواتین کا بازاروں میں آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔
شہر میں ہر جگہ طالبان افغان فوجیوں سے چھینی گئی گاڑیوں میں گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ شہر میں امن و امان اور لوٹ مار روکنے کے لیے پہرہ دے رہے ہیں۔ چند شہریوں نے ہمیں بتایا کہ اب وہ پہلے سے زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں کیونکہ کم از کم اب عسکریت پسند قتل و غارت یا بم دھماکے نہیں کر رہے۔
بہت سے لوگ اب بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ طالبان کی حکومت میں زندگی کیسی ہوگی۔
ایک ٹیکسی ڈرائیور نے مجھے بتایا کہ اس نے گاڑی میں موسیقی چلاتے ہوئے جنگجوؤں کے ایک گروہ کو شہر کے دوسرے حصے میں چھوڑا تھا۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے مجھے بتایا کہ 'انھوں نے مجھے کچھ نہیں کہا، وہ پہلے کی طرح سخت نہیں رہے۔'
لیکن دوسری طرف ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں کہ طالبان صحافیوں یا سابق حکومتی شخصیات کے گھروں پر آ کر ان سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ انھیں تشدد کا نشانہ بنائے جانے میں زیادہ وقت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے

ہوائی اڈے پر خالد اور سابق مترجم اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ آخر کار برطانوی عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ باقی ابھی بھی اس جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں اور ایک افغان نژاد برطانوی نے مجھ سے درخواست کی کہ میں اس کی مدد کروں۔
اس نے پوچھا کہ 'میں اپنے بچوں کے ساتھ اس ہجوم سے کیسے نکل سکتا ہوں؟'
بہت سے ایسے افراد جو انخلا کے اہل نہیں ہیں مگر وہاں سے جلد از جلد نکلنے کے لیے بے تاب ہیں، اُنھیں ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا کرنے کے لیے وہیں چھوڑ دیا جائے گا۔












