تحریک عدم اعتماد: ق لیگ کی قیادت اسلام آباد سے روانہ، ایم کیو ایم کی شہباز اور فضل الرحمان سے ملاقات

پرویز الہیٰ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@chparvezelahi

وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کس دن ہو گی، یہ تو آئندہ آنے والے دنوں میں ہی معلوم ہو گا مگر اس دوران ہونے والی ’نمبر گیم‘ میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کا کردار نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔

عمران خان اور ان کی حکومت کے بارے میں تنقیدی انٹرویو اور بدھ کو اس کے بارے میں وضاحتی بیان کے بعد چوہدری پرویز الٰہی سمیت مسلم لیگ ق کی قیادت کی اچانک لاہور روانگی نے تحریکِ عدم اعتماد کے حوالے سے موجود سیاسی غیر یقینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

منگل کی شب نشر ہونے والے انٹرویو میں حکومتی اتحادی اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حکومتی اتحادیوں کا جھکاؤ اپوزیشن کی جانب ہے لیکن بدھ کو انھوں نے واضح کیا کہ اب تک انھوں نے حکومت نہیں چھوڑی۔

ایسے میں ق لیگ کی جماعت کے تمام سینیئر رہنماوں کی اسلام آباد سے لاہور روانگی کو سیاسی اعتبار سے اہم سمجھا جا رہا ہے جس سے پہلے اسلام آباد میں پارٹی قیادت کی ایک ملاقات بھی ہوئی۔

بی بی سی نے ق لیگ کے رہنما اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ سے اس اچانک فیصلے پر بات کرنے کے لیے رابطہ کیا تو ان کا نمبر بند تھا۔

Facebook پوسٹ نظرانداز کریں

مواد دستیاب نہیں ہے

Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.

Facebook پوسٹ کا اختتام

ایم کیو ایم سے شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان کی ملاقات

ق لیگ کی غیر موجودگی میں اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان ایک اور اہم اتحادی کے پاس پہنچے جن کی جانب سے بھی اب تک حکومت کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ تو نہیں کیا گیا لیکن ساتھ دینے کا بھی کوئی واضح اعلان نہیں ہوا۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اپوزیشن کے رہنماؤں سے ایم کیو ایم قیادت کی ملاقات پارلیمنٹ لاجز میں ڈاکٹر خالد مقبول کی رہائش گاہ پر ہوئی جو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔

اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان، شاہد خاقان عباسی اور عبدالغفور حیدری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

ایم کیو ایم رہنما اور وفاقی وزیر امین الحق نے کہا ہے کہ مذاکرات کاعمل جاری رہے گا اور رابطہ کمیٹی باہمی مشاورت سے تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ کرے گی۔

اس سے قبل بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے رہنما ایم کیو ایم فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کی گورنرشپ کی پیشکش میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے بھی فیصل سبزواری کے موقف کی تائید کی اور بتایا کہ ایم کیو ایم کی قیادت سے ملاقات میں نہ گورنر شپ کا مطالبہ کیا گیا اور نہ ہی پیپلز پارٹی نے پیشکش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پُرامید ہیں کہ حکومت عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کا ساتھ دے گی اور بلدیاتی نظام میں جو ترمیم کے لیے سپریم کورٹ کا حکم ہے اس پر صوبائی حکومت پہلے ہی کام کر رہی ہے۔

سعید غنی کا کہنا ہے ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ کے شہریوں کے لیے ملازمتوں میں 40 فیصد کوٹہ کا مطالبہ کیا ہے جو کہ قابل فہم مطالبہ ہے۔

جب فیصل سبزواری سے پوچھا گیا کہ کیا مسلم لیگ ق، بلوچستان عوامی پارٹی اور ایم کیو ایم کوئی مشترکہ فیصلہ کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ق کسی منصب کی خواہشمند ہے جبکہ ایم کیو ایم ’کسی منصب یا وزارت میں دلچسپی نہیں رکھتی‘ تاہم مسلم لیگ ق سے رابطہ ضرور ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

ن لیگ کی مخلوط حکومت کی تجویز

ان سیاسی ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو کے ایک نکتے سے ن لیگ کے سینیئر رہنما نے پردہ اٹھایا۔

رہنما ن لیگ احسن اقبال نے بدھ کے دن اسلام آباد میں ہی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہپباز شریف کی تجویز ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد قومی اسمبلی میں نمائندہ جماعتوں کو مل کر مخلوط حکومت بنانی چاہیے تاکہ ملک کے بڑے مسائل کو اتفاق رائے سے حل کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ آئین میں اس کی کوئی ممانعت نہیں۔

احسن اقبال نے وزیر اعظم عمران خان کی سوات میں تقریر پر بھی ردعمل دیا اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم کی جانب سے ممانعت کے باوجود سوات میں جلسہ کرنے پر ان کی رکنیت معطل کی جائے۔

انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی تقرریں نشر ہونے پر پابندی لگائی جائی۔ احسن اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ وزرا کے بیانات کا نوٹس لے۔ وزرا جھتوں کی سیاست کر رہے ہیں، ہجوم گردی کی سیاست کے ذریعے نمائندوں کو کہہ رہے ہیں کہ ہم دیکھیں گے کہ کیسے عمران خان کے خلاف ووٹ دیتے ہو۔

’ان کے پاس نمبرز نہیں، اگر نمبرز ہیں تو 48 گھنٹوں میں اجلاس بلائیں، ہماری تحریک کو ناکام بنائیں۔‘

’کیا ہارس ٹریڈنگ کی آئین میں اجازت ہے'

’اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں ہارس ٹریڈنگ کے لیے نوٹوں کی بوریاں لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمارے ایم این ایز کی وفاداریاں خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سندھ سے گارڈ لائے گئے ہیں کہ کوئی اندر نہ آ جائے۔ میں الیکشن کمیشن سے پوچھتا ہوں کہ کیا ایسی ہارس ٹریڈنگ کی آئین میں اجازت ہے؟‘

یہ الفاظ وزیر اعظم عمران خان کے ہیں جو بدھ کے روز سوات میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ یہ جلسہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسلام آباد میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد سے پہلے سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ حکومت کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزمات پہلے بھی لگائے جا چکے ہیں جن کی اپوزیشن خصوصاً پیپلز پارٹی تردید کر چکی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’یہ ہمارے ایم این ایز کو خریدنے آئے ہیں۔ ان کو ڈر ہے ان کے کرپشن کے کیسز تیار ہیں اور عمران خان تھوڑی دیر اور رہا تو یہ سب جیل جائیں گے۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’انھوں (اپوزیشن) نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر یہ کامیاب ہو گئے تو سب سے پہلے یہ نیب کو ختم کریں گے، اپنے کیس ختم کریں گے۔ آنے والے دن پاکستان کے لیے فیصلہ کن دن ہیں، فیصلہ ہو گا کہ پاکستان کیسا ہو گا۔‘

عمران خان، عدم اعتماد

،تصویر کا ذریعہtwitter/@PakPMO

وزیر اعظم نے خطاب میں کہا کہ ’الیکشن کمیشن سے پوچھتا ہوں، یہ جو ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے، اس کی آئین میں اجازت ہے؟ کیا کسی جمہوریت میں ایسا ہوتا ہے؟ برطانیہ میں ایسا ہوا کبھی جہاں سے ہم جمہوریت لے کر آئے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’قوم پر لازم ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کے خلاف کھڑے ہوں۔ اس لیے اسلام آباد پہنچ کر دنیا کو بتائیں کہ ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم ان کے خلاف کھڑے ہیں۔‘

واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے 27 مارچ کو اسلام آباد میں تاریخی سیاسی جلسے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے اقوام متحدہ میں اسلام و فوبیا کے خلاف تاریخی قرار داد منظور ہوئی جس کے تحت 15 مارچ کو ہر سال اسلاموفوبیا کے خلاف دن منایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری کوششوں کی وجہ سے اقوام متحدہ نے قرار داد پاس کی۔ وہ جو ہمیں یہودی لابی کہتے ہیں۔۔۔ شرم آنی چاہیے جس کو یہودی لابی کہتے ہو، اس نے وہ کام کروایا جو کوئی 30 سال میں نہیں کروا سکا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’عدم اعتماد کہیں ملکی عدم استحکام کی طرف منتقل نہ ہو جائے‘

ادھر اسلام آباد میں بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ عمران خان ’جیتے یا ہارے، فائدہ عمران خان کا ہی ہو گا۔ میں پھر یہ دہرانا چاہتا ہوں۔۔۔ گذشتہ تین ہفتوں کے دوران عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔‘

وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ راولپنڈی کی تاریخ آپ کو پتا ہے ’ہم دوستی اور دشمنی قبر کی دیواروں تک نبھاتے ہیں۔‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’جلسوں کی مکمل سکیورٹی دیں گے۔ سپیکر سے پوچھوں گا کہ وہ 28، 29 اور 30 (مارچ) میں سے کس دن ووٹنگ کا انتخاب کر رہے ہیں۔‘

شیخ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے تاریخ ’29 یا 30 مارچ ہو گی، مگر اس کا فیصلہ سپیکر کریں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے اس موقع پر یقین دہانی کروائی کہ جلسوں کی صورت میں تمام رہنماؤں کو حفاظت دی جائے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اسلام آباد میں جب دونوں طرف سے (یعنی حکومت اور اپوزیشن کے جلسوں کی صورت میں) لوگ آئیں گے تو اس سے کیا تصادم ہو گا تو ان کا جواب تھا ’ظاہر ہے۔‘

شیخ رشید نے کہا ہے کہ 20 مارچ سے اسلام آباد میں رینجرز، پولیس اور ایف سی کو خصوصی اختیارات دیے جائیں گے۔

انھوں نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان کے رویے پر حیرت ظاہر کی ہے۔ انھوں نے سوال کیا ’کیا اس ملک کو آپ (مولانا) انتشار کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔۔۔ یہ سب بھاگ جائیں گے، آپ دھر لیے جائیں گے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ مولانا ’مولا جٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپ کا احترام ہے۔ آپ دین کے ایک رہنما ہیں۔ جو زبان آپ استعمال کر رہے ہیں اگر اس ملک میں خانہ جنگی ہوئی تو اس کی قیمت آپ ادا کریں گے؟‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

شیخ رشید نے وزیر اعظم کی حمایت میں کہا کہ ’عمران خان جیتے یا ہارے، فائدہ عمران خان کا ہی ہو گا۔ میں پھر یہ دہرانا چاہتا ہوں۔ عمران خان انشااللہ جیتے گا لیکن اگر نتائج کوئی اور ہوتے ہیں تو۔۔۔ عمران خان کی گذشتہ تین ہفتوں کے دوران مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔‘

انھوں نے اپوزیشن کو مفاہمت کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی دوسرے درجے کی قیادت ہم سے بات کرے، جلسوں کے لیے محفوظ راستوں کا تعین کرے۔‘

انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ ’یہ نہ ہو کہ عدم اعتماد کہیں ملکی عدم استحکام کی طرف منتقل ہو جائے۔ جمہوری عدم استحکام کی طرف منتقل ہو جائے۔ اس کی سزا آپ کو ملے گی۔‘

’نہ ہم آپ کو چھیڑیں گے نہ آپ قانون کو چھیڑیں گے۔ اگر آپ قانون کو چھیڑیں گے تو ہم آپ کو چھوڑیں گے نہیں۔ چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو۔‘

پرویز الہیٰ کے انٹرویو سے متعلق سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ ان سے اسد عمر اور پرویز خٹک ڈیل کر رہے ہیں۔ ’اتحادیوں سے مجھے امید ہے، ایم کیو ایم کو میں بچپن سے جانتا ہوں۔۔۔ میرا کسی سے رابطہ نہیں، کسی مذاکراتی کمیٹی میں شامل نہیں۔ ان سے کہوں گا ضرور کہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ 25 تاریخ تک سب کا پتا چل جائے گا۔‘

’25 کے بعد عمران خان کا مضبوط، سنہرا، اور مقبولیت کا دور شروع ہو گا۔ حلفاً یہ بات کہنے کو تیار ہوں کہ ان تین ہفتوں میں عمران خان زیادہ مقبول ہوئے ہیں۔‘

ق لیگ کی قیادت اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں پتا۔ میں نے ایک عام بات کی تھی وہ بُرا منا گئے۔ کم از کم الیکشن تک اپنی وجہ سے کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ اس کے بعد دیکھوں گا۔‘

’سارا پاکستان عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے۔ میں سیاسی بصیرت میں عمران خان کو جیتا ہوا دیکھتا ہوں۔‘