زرداری اور بھنڈ برادری کے درمیان نواب شاہ میں زمین کا تنازعہ کیسے اور کب شروع ہوا؟

نواب شاہ

،تصویر کا ذریعہwali jokhiyo

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع نواب شاہ میں زمین کے تنازعے پر چھ افراد کی ہلاکت کے بعد نیشنل ہائی وے پر ورثا مقتولین کی لاشوں سمیت دھرنا دیے ہوئے ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ واقعے کا مقدمہ زرداری برادری کے مقامی بااثر افراد کے خلاف دائر کیا جائے۔

یہ واقعہ نواب شاہ کے مرزا پور تھانے کی حدود میں دیھ بنبھائی میں 12 فروری کو پیش آیا تھا جس میں زرداری برادری اور بھنڈ برادری کے درمیان تنازعے میں ایک ایس ایچ او سمیت 6 افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کا موقف ہے کہ فریقین میں کچے کے علاقے میں واقع زرعی زمین پر حق ملکیت کا تنازعہ ہے۔ یہ تنازعہ سنہ 2009 سے چل رہا ہے جس کے حل کے لیے ایک مقامی جرگہ بھی منعقد ہوا لیکن معاملہ عدالت تک چلا گیا اور اب تک اس کا حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

واضح رہے کہ نواب شاہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کا آبائی ضلع ہے جہاں ان کے رشتے دار اور برادری کے لوگ بھی آباد ہیں۔

سوشل میڈیا پر واقعے کی ویڈیوز

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز شیئر ہوئیں جن میں گاؤں کے لوگ پولیس اہلکاروں کی منت سماجت کرتے دکھائی دیتے ہیں اور انھیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اس زمین پر کاشت انھوں نے کی تھی اور عدالت جو بھی فیصلہ کرے اس وقت تک انھیں نہیں ہٹایا جائے۔

اسی دوران فائرنگ ہوتی ہے جس کے بعد چند لوگ زخمیوں کو کندھوں پر اٹھا کر جاتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ شدید فائرنگ کی آواز مسلسل پس منظر میں سنائی دیتی ہے۔

اس دن اصل میں ہوا کیا اور اس تنازعے کی وجہ کیا ہے جس نے چھ افراد کی جان لی۔ بی بی سی نے اس تنازعے سے جڑے تمام کرداروں سے بات کی ہے۔

’بڑی تعداد میں لوگ دیکھ کر فائر کھول دیے‘

اس واقعے کے عینی شاہد محمد امین بھنڈ خود بھی واقعے میں زخمی ہو گئے تھے۔ ان کا تعلق بھنڈ برادری سے ہے جو متنازع زمین پر ملکیت کی دعوے دار ہے۔ دوسری جانب زرداری برادری ایک فریق ہے جو خود بھی اس زمین کی ملکیت کا دعویٰ کرتی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امین بھنڈ نے بتایا کہ سنیچر کو وہ معمول کے مطابق اپنے گھر میں موجود تھے کہ ان کو برادری کے کسانوں نے فون کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ زرداری برادری کے لوگ متنازع زمین پر سرسوں کی فصل کی کٹائی کر رہے ہیں۔

’ہم گاؤں والے، جو ڈیڑھ سے دو سو ہوں گے، روانہ ہوگئے۔ یہ زمینیں گاؤں سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ کچھ پیدل تھے، کچھ موٹر سائیکلوں پر۔ راستے میں ایک جھیل بھی آتی ہے جس کو کشتی کے ذریعے پار کیا گیا۔

’ہم سب نہتے تھے۔ کوئی اسلحہ یا کلہاڑی وغیرہ ساتھ نہیں تھی۔ جب وہاں پہنچے تو پولیس کی نفری آئی جس میں ایک ایس ایچ او شامل تھا۔ اس کو ہم نے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے، 24 فروری کو سماعت ہے، لہذا زمین پر ہم بیٹھیں گے نہ اور کوئی بیٹھے، صرف پولیس موجود رہے۔‘

نواب شاہ

،تصویر کا ذریعہwali jokhiyo

محمد امین نے دعویٰ کیا کہ ان کی برادری کی بات سے پولیس ایس ایچ او نے اتقاق کیا لیکن اسی دوران مخالفین کے مسلح افراد نے، جو ان کے مطابق ’ڈاکو لگ رہے تھے‘، فائرنگ شروع کردی۔

وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’ہمارے لوگ اور پولیس والے دونوں ہی اس فائرنگ کی زد میں آگئے۔ مجھے سینے میں ایک گولی لگی جو آر پار ہوگئی۔‘

محمد امین کو پہلے نواب شاہ ہسپتال پہنچایا گیا جس کے بعد انھیں کراچی منتقل کیا گیا جہاں وہ انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج رہے۔

محمد امین نے بتایا کہ ان کے ساتھ کچھ خواتین اور بچے بھی تھے۔ 'اگر تصادم کرنے جاتے تو انھیں کیوں ساتھ لیتے۔ اسلحہ بھی ہمراہ ہوتا۔ لگتا ہے اتنے لوگوں کو دیکھ کر انہوں نے بوکھلاہٹ میں فائرنگ کی۔'

یہ بھی پڑھیے

زرداری برادری کا الزام: بھنڈ برادری نے قبضے کی کوشش کی

اس تنازعے کے دوسرے فریق عابد زرداری ہیں جن پر بھنڈ برادری فائرنگ کا الزام لگاتی ہے۔

عابد زرداری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس دن وزیر اعلیٰ سندھ نے نواب شاہ آنا تھا جس کے لیے شہر کی پولیس کی اضافی ڈیوٹی لگائی گئی تھی اور متنازع زمین پر صرف چار پولیس کانسٹیبل ہی تعینات تھے۔

واضح رہے کہ یہ تنازعہ شروع ہونے کے بعد گزشتہ سال نومبر میں مقامی انتطامیہ سے بات چیت کے بعد دونوں فریقین نے یہاں پولیس کی تعیناتی سے اتفاق کیا تھا جس کے بعد گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے پولیس اہلکار متنازع زمین پر تعینات تھے۔

عابد زرداری کا دعویٰ ہے کہ واقعے کے دن بھنڈ برادری کے دو سو سے زائد لوگوں نے متنازع زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کے دوران انھوں نے ایک حکمت علمی کے طور پر اپنی خواتین کو آگے کیا جن کے پیچھے مسلح افراد بھی تھے۔

نواب شاہ

،تصویر کا ذریعہwali jokhiyo

عابد زرداری کا الزام ہے کہ بھنڈ برادری کے انہی مسلح افراد کی ابتدائی فائرنگ سے پولیس اہلکار ہلاک ہوا جس کے بعد وہاں موجود لوگوں نے جوابی فائرنگ کی۔

2009 سے تنازعہ: یہاں ہمارا قبرستان بھی ہے

نواب شاہ کے مرزا پور تھانے کی حدود میں دیھ بنبھائی میں کچے کی اس 800 ایکڑ زمین پر فریقین میں 2009 سے تنازعہ جاری ہے۔ دونوں فریقین دعوی کرتے ہیں کہ یہ زمین ان کی ہے۔

محمد امین بھنڈ کے مطابق یہ ان کی آبائی زمینیں ہیں اور یہاں ان کا قبرستان بھی موجود ہے جبکہ ’زرداریوں کا کچھ بھی نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس پوری زمین میں ان کی برادری کے بہت سے کھاتے دار ہیں جن کے پاس چار سے پانچ ایکڑ تک زمین ہے۔

دوسری جانب عابد زرداری کے مطابق یہ ساری زمین انھوں نے 2009 میں لغاری خاندان سے خریدی تھی اور ان کے پاس اس زمین کی تمام دستاویزات موجود ہیں لیکن بھنڈ برادری مختلف حیلوں بہانوں سے انھیں تنگ کرتی رہتی ہے اور اس زمین پر قابض تھی۔

جرگے سے عدالت تک

بھنڈ برادری نے اس سے قبل گزشتہ سال نومبر میں اس معاملے پر 40 روز تک دھرنا دیا تھا۔ اس دھرنے کے بعد مقامی انتظامیہ کی مدد سے یہ طے ہوا کہ اس تنازعے کا فیصلہ کیا جائے۔

نواب شاہ کے ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کی موجودگی میں یہ بھی طے ہوا کہ اس متنازع زمین سے فیصلہ ہونے تک دونوں فریقین پیچھے ہٹ جائیں گے اور یہاں پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

دونوں فریقین کی جانب سے اس فیصلے کے لیے سابق صوبائی وزیر منظور پنہور پر اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا۔

زرداری برادری کی جانب سے پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر اکبر جمالی جبکہ بھنڈ برادری کی جانب سے سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے رہنما زین شاہ کو اس فیصلے کے لیے امین مقرر کیا گیا۔

عابد زرداری کے مطابق منظور پنہور نے اس وقت کہا تھا کہ دونوں فریقین ریوینیو کا ریکارڈ پیش کریں جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

عابد زرداری دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ یہ ریکارڈ پیش کرنے کے لیے تیار تھے لیکن بھنڈ برادری اس پر راضی نہیں ہوئی۔

اس سے پہلے کہ منظور پنہور کوئی فیصلہ کرتے بھنڈ برادری یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ لے گئی جہاں پر مقدمہ زیر سماعت ہے۔

’اب بھی فیصلہ ہو سکتا ہے‘

بی بی سی نے جب منظور پنہور سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ 20 فروری کو فیصلہ ہونا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس دوران وہ علاج کے لیے امریکہ چلے گئے تھے جب کہ فریقین کو کہا گیا تھا کہ جو ریوینیو ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے وہ پیش کریں جس کی تصدیق کرائی جائے گے۔

نواب شاہ

،تصویر کا ذریعہwali jokhiyo

منظور پنہور کے مطابق اس بات پر دونوں فریقین راضی تھے لیکن ’بعد میں بھنڈ برادری کے مشیر روشن برڑو نے ڈپٹی کمشنر کو کہا کہ وہ عدالت میں جانا چاہتے ہیں۔‘

ان کے مطابق اگر فریقین چاہیں تو وہ ابھی بھی فیصلے کے لیے تیار ہیں لیکن ریکارڈ کی تصدیق ضرور کرائی جائے گی۔

سندھ بھر میں احتجاج

ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں سمیت ورثا قاضی احمد کے مقام پر قومی شاہراہ پر دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی قیادت سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے رہنما زین شاہ کر رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زین شاہ نے الزام لگایا کہ سندھ کے محکمہ ریوینیو نے اس زمین کے جعلی کاغذات بنائے جس کی وجہ سے معاملہ بگڑ گیا۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’سندھ حکومت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ملازم بن چکی ہے۔‘

زین شاہ کا کہنا ہے کہ مقدمے کی ایف آئی آر ورثا کی خواہش کے مطابق دائر کی جائے جب کہ لواحقین کا کہنا ہے کہ قاتلوں کو بااثر افراد کی پشت پناہی حاصل ہے۔

واقعے کے خلاف قاضی احمد شہر میں ہڑتال بھی جاری رہی جب کہ نواب شاہ میں عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کیا گیا۔

زین شاہ نے واقعے کے خلاف 15 فروری کو سندھ بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

کراچی بار اور ملیر بار ایسوسی ایشن سمیت کئی ضلعی بارز نے بھی عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

قومی عوامی تحریک کے رہنما ایاز پلیجو، سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما ڈاکٹر قادر مگسی اور تحریک انصاف کے رہنما بھی اس دھرنے میں شریک ہوئے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی شفاف انکوائری کرائی جائے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور واقعے کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کی حقیقت سے عوام کو آگاہ کیا جائے۔

فریقین میں رابطہ: ’معاملہ حل ہوجائے گا‘

ایس ایس پی نواب شاہ سعود مگسی کا کہنا ہے کہ اس کیس کی ایف آئی آر درج نہ کرنے کا الزام درست نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرین جو بھی ایف آئی آر درج کرانا چاہیں وہ کی جائیگی اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔

ایس ایس پی نواب شاہ کے مطابق اس وقت تک ہم 16 سے زائد لوگوں کو اسلحے سمیت گرفتار کرچکے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دونوں فریقین میں رابطہ بھی ہوا ہے اور بات چیت کے ذریعے معاملہ سلجھایا جائے گا اور یہ دھرنا بھی ختم ہوگا، جو زمین کا دیرینہ معاملہ ہے وہ بھی حل ہوجائے گا۔‘