کراچی میں ڈکیتی میں مزاحمت پر نوجوان کا قتل: ’ایک دن پہلے ولیمہ ہوا، ہنی مون پر جانا تھا مگر اس کی نوبت ہی نہ آئی‘

شاہ رخ

،تصویر کا ذریعہJehanzeb Khan

،تصویر کا کیپشنڈکیتی کی جس واردات میں شاہ رخ خان کا قتل ہوا اس سے ایک ہی دن پہلے ان کا ولیمہ ہوا تھا
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’قتل سے فقط چند روز قبل ہی پسند کی شادی کی تھی۔ ایک دن پہلے ولیمہ ہوا تھا۔ دلہا دلہن کو گھومنے جانا تھا لیکن اس کی نہ مہلت ملی اور نہ ہی نوبت آئی۔۔۔ کاش میں گھر کی گھنٹی ہی نہ بجاتی۔۔۔ کاش وہ چند لمحوں بعد گیٹ کھولتا۔۔۔ طلائی چوڑیوں کی تو اتنی قیمت بھی نہیں تھی جن کے لیے وہ اپنی جان پر کھیل گیا۔۔۔’

یہ کہنا ہے کراچی میں واقع اپنے گھر کے باہر اپنی والدہ اور بہن کو ڈکیتی سے بچانے کی کوشش میں قتل ہونے والے شاہ رُخ کے گھر والوں کا۔

اس واقعہ کا مقدمہ کراچی کے تھانہ فیروز آباد میں شاہ رخ کے بڑے بھائی جہانزیب خان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ کراچی پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس واقعہ کا ملزم ایک پولیس اہلکار تھا جس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کشی کر لی۔

’شاہ رخ خود پر قابو نہ رکھ سکا‘

اس حوالے سے درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا تھا جب شاہ رخ کی والدہ اور بہن بازار سے واپس لوٹ رہی تھیں۔ شاہ رخ کی بہن امریکی شہریت کی حامل ہیں اور شادی میں شرکت کے لیے وہ پاکستان آئی ہوئی تھیں۔

جہانزیب خان کے مطابق ’جیسے ہی میری بہن والدہ کے ہمراہ بازار سے واپس آئیں تو گھر کے گیٹ کے قریب موٹر سائیکل سوار شخص آیا اور اس نے بہن سے کہا کہ چوڑیاں اُتار کر دو۔ میری والدہ نے اسی اثنا میں گھر کی گھنٹی بجا دی تھی۔ اُن کا خیال تھا کہ کوئی بچہ گیٹ کھولے گا تو وہ لوگ اندر چلے جائیں گے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ اُن کی والدہ نے بتایا کہ گھنٹی بجاتے ہی ایک دم شاہ رخ نے گیٹ کھول دیا۔ ’انھوں نے شاہ رخ کو دیکھا تو انھوں نے فوراً شاہ رخ کو کہا کہ اندر چلو۔ وہ اس کو اندر کی طرف دھکیل ہی رہیں تھیں کہ شاہ رخ نے دیکھ لیا کہ ملزم نے اس کی بہن کا بازو پکڑا ہوا ہے۔’

’یہ دیکھ کر شاہ رخ خود پر قابو نہ رکھ سکا اور اس نے فورا ملزم پر چھلانگ لگا دی۔ ملزم نے شاہ رخ پر ایک دم فائر کھول دیا اور وہ نیچے گر گیا۔‘

شاہ رخ کی بہن نازیہ طارق کہتی ہیں کہ جب لٹیرا اُن سے چوڑیاں مانگ رہا تھا تو ’میں نہیں ڈری، سوچا کہ سب کچھ حوالے کر کے جان چھڑاتی ہوں۔ مگر جب شاہ رخ گیٹ سے باہر نکلا تو میں اس وقت ہی ڈر گئی۔ میں لیڑے سے کہنے لگی کہ جلدی جلدی چوڑیاں لو اور دفع ہو جاؤ، مگر اسی دوران شاہ رخ نے اس پر چھلانگ لگائی جس پر اُس نے فائر کر دیا۔’

’ہنی مون کی نوبت ہی نہیں آئی‘

شاہ رخ کے بڑے بھائی جہانذیب خان

،تصویر کا ذریعہJehanzeb Khan

جہانزیب خان کہتے ہیں کہ ان کو نہیں معلوم کہ شاہ رخ نے کب اپنی اہلیہ کو پسند کیا اور کب دونوں کی محبت شروع ہوئی، انھیں تب معلوم ہوا جب شاہ رخ نے اپنی بہنوں کے ذریعے والدہ تک پیغام پہنچایا کہ وہ اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتا ہے۔

شاہ رخ کی بہن نازیہ طارق بتاتی ہیں کہ ’شاہ رخ کی شادی کا سُن کر میں نے اُسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ میں اس کی شادی میں جاؤں گی۔ بہت خوشیاں منائیں گے۔ اس شادی کے لیے میں نے امریکہ میں ہی تیاری شروع کر دی تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

جہانزیب خان کہتے ہیں کہ ’ہمیں شادی سے پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ ہماری ہونے والی بھابھی بھی شاہ رخ سے بہت محبت کرتی تھیں۔ شادی کے بعد وہ دونوں بہت خوش تھے۔ انھیں بس ایک دوسرے کے لیے وقت چاہیے تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ ولیمہ، جو کہ واردات سے ایک روز پہلے ہوا تھا، کے بعد ان کو کہیں گھومنے پھرنے جانا چاہیے مگر اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔‘

جہانزیب خان کہتے ہیں ’شاہ رخ کی اہلیہ اس وقت سکتے میں ہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کر رہیں، صرف روتی ہیں اور شاہ رخ کی چیزوں کو اپنے سینے سے لگائے رکھتی ہیں۔‘

سب سے چھوٹا اور لاڈلا بھائی

جہانزیب خان کہتے ہیں کہ اُن کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے علاقے کھلابٹ سے ہے۔ ’سالوں سے کراچی میں آباد ہیں اور کراچی میں کار شو روم چلارہے ہیں۔ سات بہن بھائی ہیں اور شاہ رخ سب سے چھوٹا تھا جو پڑھائی کے ساتھ ساتھ اس شو روم پر میری مدد کرتا تھا۔’

شاہ رخ کے ایک دوست جن کے اپنے مالی حالات اچھے نہیں کہتے ہیں کہ شاہ رخ ان کو بتائے بغیر کئی سال تک کالج اور یونیورسٹی کی فیس ادا کرتے رہے۔

شاہ رخ کے دوست کہتے ہیں ’اب میں ایک مناسب ملازمت کر رہا ہوں مگر پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں کہ اگر شاہ رخ میری مدد نہ کرتے تو شاید میں کبھی بھی تعلیم مکمل نہ کر سکتا اور کبھی بھی اپنے خاندان کا سہارا نہ بن سکتا۔’

شاہ رخ

،تصویر کا ذریعہJehanzeb Khan

’مبینہ قاتل خود پولیس اہلکار تھا‘

اس واقعے میں جہاں شاہ رخ کی موت خاندان کے لیےایک افسوسناک واقعہ ہے وہیں یہ انکشاف بھی پریشان کُن ہے کہ اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث شخص کوئی اور نہیں بلکہ پولیس اہلکار تھا۔

سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ کراچی کے ایس پی عارف عزیز کے مطابق واقعے کی تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے واضح ہو گیا کہ ملزم کے ہمراہ ایک اور شخص بھی موجود تھا۔

’ہم نے ملزم کے ساتھی جو کہ واردات میں شریک نہیں تھا کو اپنی حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کی تو اس نے ملزم کی شناخت کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ ملزم ایک پولیس والا ہے۔ اس نے ہمیں بتایا کہ ملزم کا ایک اور دوست ہسپتال میں ملازمت کرتا ہے اور وہ اس سے ملنے اکثر جاتا ہے۔’

عارف عزیز کے مطابق ملزم کے ہسپتال میں کام کرنے والے دوست کو اعتماد میں لیا گیا اور اس ہسپتال میں پولیس کی نفری تعنیات کی گئی تھی۔ ’اسی طرح ملزم کے دوست کو بھی اعتماد میں لیا گیا کہ جب ملزم اس سے ملنے آئے تو وہ ہمیں اطلاع کریں۔’

سوموار کے روز ملزم اپنے دوست سے ملنے ہسپتال گیا۔

موقع پر تعنیات پولیس نفری نے جب ملزم کو دیکھا تو اس کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش کے دوران ملزم نے اپنا پستول پولیس والوں پر تان لیا تھا۔ اس دوران وہ ہسپتال سے نکل کر فرار ہونے کی کوشش کرنے میں اپنی کار تک پہنچا جسے پہلے ہی سادہ کپڑوں میں موجود پولیس نے اپنے گھیرے میں لیا رکھا۔

جب ملزم کو محسوس ہوا کہ بھاگ نکلنے کا کوئی موقع نہیں تو اس نے خود کو گولی مار کر ہلاک کر لیا۔

عارف عزیز کہتے ہیں ’واردات کے بعد اس (ملزم) کو یقین ہو چکا تھا کہ اب ساری زندگی جیل سے باہر نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس وجہ سے لگتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا ہی بہتر سمجھا تھا۔’

عارف عزیز کے مطابق ملزم کی خودکشی کے گواہ پولیس اہلکاروں کے علاوہ موقع پر موجود اس کا دوست بھی ہے۔

ریکارڈ کے باوجود ملزم پولیس سروس میں کیسے رہا؟

پولیس

،تصویر کا ذریعہAFP

ملزم اس سے قبل بھی آٹھ، نو وارداتوں میں ملوث رہا اور پہلے بھی گرفتار ہوا تھا۔ اس پر ڈکیتی اور منشیات فروشی کے الزامات تھے۔

پولیس میں ملزم کو 12 سالہ ملازمت کے دوران 10 مرتبہ شوکاز نوٹس دیا گیا تھا۔ واردات کے وقت ملزم سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ میں تعنیات تھا۔

کراچی پولیس کے مطابق ملزم عدالتوں سے بری ہو کر اپنی ملازمت پر تعنیات ہوا تھا۔

کراچی پولیس کے مطابق عدالتوں سے بری ہو کر آنے والے کسی بھی پولیس اہلکار کو ملازمت پر بحال نہ کرنے کا پولیس کے پاس کوئی قانونی جواز نہیں ہوتا تاہم احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔