سندھ میں پسند کی شادی کرنے والے نوجوان کی رشتہ دار خواتین کا ریپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ میں دو خواتین کے ریپ کا واقعہ سامنے آیا ہے جنھیں مبینہ طور پر اس لیے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ اُن کے کزن نے ایک لڑکی سے پسند کی شادی کی تھی۔
میرپور خاص کے علاقے نوکوٹ تھانے کی حدود میں پیش آنے والے اس واقعے کی ایف آئی آر میں مدعی علی رضا راجپوت نے بتایا کہ چھ فروری کو صبح 11 بجے وہ اپنے گھر میں موجود تھے کہ 20 سے 25 مسلح افراد ان کے گھر میں داخل ہو گئے اور ان کی 18 سالہ اہلیہ اور 14 سالہ بہن کو زبردستی اٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔
اُنھوں نے بتایا کہ گھر میں داخل ہونے والوں میں سے ایک ملزم علی نواز نے الزام عائد کیا کہ اُن کی بہن کو ایک شخص ’ورغلا‘ کر لے گیا ہے۔
اس پر علی رضا نے اُنھیں بتایا کہ اُن کا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’لیکن وہ میری بیوی اور میری بہن کو زبردستی کھینچ کر لے گئے۔‘
اغوا ہونے والی لڑکیوں کے ماموں لیاقت راجپوت نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ صبح کو پیش آیا لیکن پولیس نے فوری کارروائی نہیں کی ورنہ لڑکیوں کو بچایا جا سکتا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ اغوا کیے جانے کے بعد احتجاجاً جب سڑک بند کی گئی تو چار سے پانچ گھنٹے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کی اور مزید 36 گھنٹوں بعد دوسرے دن شام کو لڑکیوں کو ان کے گھر والوں تک پہنچایا گیا۔
لیاقت راجپوت کے مطابق اغوا ہونے والی دونوں لڑکیوں نے بتایا کہ انھیں مختلف مقامات پر رکھا گیا، تین افراد نے ان کا ریپ کیا اور فصلوں میں بے لباس گھمایا۔
لیاقت راجپوت کا کہنا ہے کہ لڑکیاں اس وقت بہت خوفزدہ ہیں اور سہمی ہوئی ہیں اور ان کا نوکوٹ کے ہسپتال سے میڈیکل چیک اپ بھی کروایا گیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس واقعے میں ایک پولیس اہلکار بھی ملوث ہے جو وہاں موجود تھا اور بعد میں ان لڑکیوں کو تھانے لے کر گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واقعے کا پس منظر کیا ہے اور پولیس کا کیا کہنا ہے؟
ایس ایس پی میرپور خاص چوہدری محمد اسد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لڑکیوں کا ریپ کیا گیا ہے تاہم ان کے مطابق یہ ’گینگ ریپ نہیں تھا‘ جبکہ انھوں نے پولیس اہلکار کے ملوث ہونے کے الزام کی بھی تردید کی۔
پولیس کے مطابق علاقے میں راجپوت اور ٹنگڑی برادری کے درمیان پسند کی شادی کے معاملے پر تنازع شروع ہوا تھا۔ یہ واقعہ تھانے میں رپورٹ نہیں ہوا تھا اور دونوں برادریاں آپس میں اس معاملے کو حل کر رہی تھیں۔
لڑکے کا تعلق راجپوت اور لڑکی کا تعلق ٹنگڑی برادری سے بتایا جا رہا ہے اور ٹنگڑی برادری کے مطابق تقاضا کرنے کے باوجود لڑکے کے ماں باپ و دیگر بڑوں نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
پولیس کے مطابق آپس کی بات چیت کے دوران تنازع بڑھا جس پر ٹنگڑی برادی کے افراد نے رات کو علی رضا کے گھر آ کر مار پیٹ کی اور دو خواتین کو اغوا کر لیا جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 12 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
تاہم پولیس کے مطابق لڑکیوں کو برہنہ گھمانے کے الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر کیا رد عمل سامنے آیا ہے؟
ٹوئٹر صارف جنت ہالیپوٹہ لکھتی ہیں کہ یہاں پسند کی شادی جرم ہے ریپ کرنا نہیں۔ ’ذہنی طور پر بیمار معاشری کے گھٹیا تصور کو تبدیل نہ کیا گیا تو ہر روز انسانیت کو مجروح کرنے جیسے واقعات رونما ہوں گے۔‘
ابراہیم بلوچ لکھتے ہیں کہ یہ ہمارا معاشرہ ہے جہاں بیٹیوں کو اغوا کر کے زیادتی کر کے بدلہ لیا جاتا ہے۔
میاں خلیل الرحمان نے لکھا کہ نوکوٹ واقعہ یاد دہانی ہے کہ ہم بطور معاشرہ کس قدر ظالم اور گھناؤنے ہوتے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
پی پی کی رکن اسمبلی ماروی راشدی نے اس کو درد انگیز اور قابل مذمت واقعہ قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ 20 میں سے دو افراد گرفتار ہیں اور باقی بھی جلد ہی گرفتار ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال مالھی لکھتے ہیں کہ انسانیت کی ایسی تذلیل، ایسے گھناؤنے جرم کو روکنے میں ناکام رہنے پر وزیراعلیٰ سندھ کو اہل خانہ سے معافی مانگنی چاہیے۔
چارن جمالی لکھتے ہیں نئوکوٹ جیسے واقعات ہمارے سماج کی پستی کو ظاہر کرتے ہیں۔
’ملزمان کو قانون کی طاقت کا بخوبی اندازہ ہے اس لیے وہ جرم کی آخری حدود کو بھی عبور کر جاتے ہیں۔ ملزمان کو چاہے پھانسی نہ دی جائے لیکن کم از کم متاثرین کو انصاف کا حصول یقینی بنایا جائے۔‘







