مذہب کی مبینہ جبری تبدیلی پر سندھ حکومت نظرثانی کے لیے سندھ ہائی کورٹ جائے گی: بلاول بھٹو

مذہب کی جبری تبدیلی
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی ہندو اور مسیحی اقلیتی برادریاں اپنی لڑکیوں کے مذہب کی جبری تبدیلی کی شکایت ایک طویل عرصے سے کرتی آ رہی ہیں

سندھ حکومت نے کراچی کی مسیحی لڑکی کے مبینہ مذہب تبدیلی کے معاملے پر سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے مقدمے کے دوسرے فریق کی طرف سے درخواست پر 27 اکتوبر کو اپنے عارضی فیصلے میں پولیس کو کارروائی سے روکتے ہوئے مسیحی بچی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔ تاہم اس مقدمے میں عدالت میں مسیحی لڑکی کے والدین کے وکیل پیش نہیں ہوئے۔

ہائی کورٹ کے حکم کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اس حکم پر نظرثانی کے لیے عدالت کا رخ کرے گی تاکہ اس حوالے سے کوئی بھی غلط فہمی دور کی جا سکے اور ہم ہر طرح کی معاونت کریں گے تاکہ عدالت متاثرہ فریق کو انصاف دے سکے۔

ان کے مطابق ہم نے (جبری شادیوں) کے حوالے سے قانون پاس کرایا ہے اور اس کے عملدرآمد کے لیے ہم کوشاں رہیں گے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

یہ بھی پڑھیے

واقعے کی تفصیلات

کراچی کی رہائشی کیتھرین مسیح (فرضی نام) اور ان کے شوہر مائیکل (فرضی نام) ملازمت پر گئے ہوئے تھے جب گھر سے اُن کی عدم موجودگی میں اُن کی بیٹی لاپتہ ہو گئی۔ وہ ڈھونڈتے رہے، لیکن پتہ نہیں چلا اور چند روز بعد انھیں پولیس نے کاغذات پکڑا دیے اور آگاہ کیا کہ لڑکی کا مذہب تبدیل ہو گیا ہے اور اس نے نکاح بھی کر لیا ہے۔

کیتھرین اور مائیکل کے مطابق ابھی اُن کی بیٹی کی عمر گڑیوں سے کھیلنے کی تھی۔

کیتھرین کا دعویٰ ہے کہ اُن کی بیٹی نابالغ ہے اور اسے مبینہ طور پر ورغلا کر لے جانے والے شخص کی عمر 44 سال سے زائد ہے۔

کیتھرین کہتی ہیں کہ ’میری بیٹی کی عمر 13 برس ہے، گھر میں وہ گڑیا سے کھیلتی تھی۔ میری بیٹی بہت خوبصورت تھی، معلوم نہیں ہے کہ وہ کب سے آنکھ لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ بچوں کو ٹافیاں اور آئس کریم لا کر کھلاتا تھا، ہمیں کیا پتہ تھا کہ ایک دن یوں اٹھا کر لے جائے گا۔‘

کیتھرین کراچی کینٹ ریلوے کالونی کے کوارٹرز میں رہتی ہیں، ان کے پاس اپنی بیٹی کی پیدائش، نادرا اور سکول کا سرٹیفیکیٹ موجود ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لڑکی کی عمر 13 سال ہے۔ تاہم لڑکی کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے حلف نامے میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی عمر 18 سال ہے اور اس نے قانونی اور آئینی طور پر حاصل حق کے مطابق نکاح کیا ہے۔

سماجی کارکن اور وکیل کا مفت مقدمہ لڑنے کی پیشکش

کراچی میں چند روز قبل لاپتہ ہونے والی مسیحی لڑکی کے والدین کے وکیل جبران ناصر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے آج کراچی کی ایک عدالت میں اس مقدمے کی جلد سماعت سے متعلق درخواست دی ہے، جس پر سنیچر دن 12 بجے سماعت ہو گی۔

بی بی سی کے اعظم خان سے بات کرتے ہوئے جبران ناصر نے بتایا ہے کہ ان کی طرف سے کراچی کے ایک مجسٹریٹ کی عدالت دائر کی گئی درخواست میں مسیحی لڑکی کی پیشی کی استدعا کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل پولیس نے والدین کو کچھ دستاویزات دیں اور کہا کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کر کے ایک مسلمان مرد سے شادی کر لی ہے۔

جبران ناصر کے مطابق اس مقدمے میں ان سے پہلے وکیل عدالت میں پیش ہو کر مقدمہ لڑنے کے بجائے سوشل میڈیا پر زیادہ سرگرم تھے، جس کی وجہ سے سندھ ہائی کورٹ نے ایک عارضی حکم بھی دیا۔

ان کے مطابق ’لڑکی کو گھر سے 'زبردستی' لے جانے والی پارٹی نے عدالت میں درخواست دی تھی جس پر سندھ ہائی کورٹ نے عارضی حکم امتناعی جاری کر دیا کہ پولیس ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے اور بچی کو تحفظ دے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

جبران ناصر کے مطابق’ سندھ حکومت نے اس عدالتی حکم کی غلط تشریح کی ہے کہ اب ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ان کے خیال میں عدالت کے حکم کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ایک ’کم عمر‘ بچی کسی کے پاس رہے اور وہ اس کا ریپ کرتے رہیں۔ ‘

ان کے مطابق حکومت کو حتمی فیصلے تک ہر صورت بچی کو تحفظ دینا چاہیے اور اسے کسی کے تسلط میں نہیں دے دینا چاہیے۔

جبران ناصر کے مطابق وہ عدالت کو حقائق سے آگاہ کریں گے اور ان کی پہلی کوشش یہی ہے کہ بچی کے پروڈکشن آرڈر جاری ہو سکیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا ہے کہ جب بچی کو پیش کیا جائے گا تو پھر اس کے بعد ان کی عمر کا تعین بھی ہائی کورٹ کرائے گی۔

جبران ناصر نے کہا کہ ان سے قبل اس مقدمے کے لیے سماجی میڈیا کی ویب سائٹس پر فنڈنگ کی بھی درخواست کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ مقدمہ بالکل مفت لڑ رہے ہیں اور انھیں اس مقدمے میں کسی قسم کی فنڈنگ درکار نہیں ہےاور اگر کوئی اب بھی ایسی درخواست کر رہا ہے تو وہ سراسر فراڈ ہے۔

پاکستان میں مسیحی آبادی کا تخمینہ 20 سے 25 لاکھ کے درمیان لگایا جاتا ہے۔ کراچی کے علاوہ لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں مسیحی برادری کی اکثریت آباد ہے۔

مذہب کی جبری تبدیلی
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی ہندو اور مسیحی اقلیتی برادریاں اپنی لڑکیوں کے مذہب کی جبری تبدیلی کی شکایت ایک طویل عرصے سے کرتی آ رہی ہیں

پولیس اور انصاف کے اداروں کا غیردوستانہ رویہ

کیھترین گھروں میں کام کاج کرتی ہیں جبکہ ان کے شوہر مائیکل ڈرائیور ہیں۔ بیٹی کی تلاش میں دونوں اپنی اپنی ملازمت گنوا بیٹھے ہیں اور اب وہ سارا دن گھر میں رہتے ہیں۔ مائیکل نے بتایا کہ وہ فریئر تھانے میں ایف آئی آر کے لیے گئے تھے لیکن پولیس نے کہا کہ یہ اینٹی وائلینٹ کرائم سیل کا مقدمہ ہے اور انھیں گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹر کا رستہ دکھا دیا۔

مائیکل کے مطابق گارڈن پولیس نے کہا کہ واقعے کے دو چشم دید گواہ اور شناختی کارڈ لے کر آؤ۔

’ہم نے کہا کہ سارے لوگ کام پر گئے ہوئے تھے، کسی نے نہیں دیکھا، ہم چشم دید گواہ کہاں سے لے کر آئیں۔ جو مشتبہ شخص ہے وہ گھر میں موجود نہیں ہے، اس کا فون نمبر بند ہے اور اس کی بائیک بھی موجود نہیں۔ بڑی مشکل سے مقدمہ درج ہوا لیکن مزید کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔‘

مائیکل نے بتایا کہ ایف آئی آر کے اگلے روز پولیس نے بلایا اور نکاح نامہ اور تبدیلی مذہبی کا سرٹیفیکیٹ ہاتھ میں تھما دیا۔

’ہمیں ایک خاتون وکیل نے کہا کہ عدالت سے مدد لیتے ہیں۔ ہمیں عدالت میں پیش کیا گیا، وہاں بیٹی کی عمر کا سرٹیفیکٹ بھی دکھایا، جج نے کہا کہ درخواست جمع کروائیں۔ وکیل خاتون نے کہا کہ پچاس ہزار روپے فیس دو میں نے کہا کہ میں اتنی نہیں دے سکتا جس کے بعد انھوں نے 20 ہزار روپے مانگے۔ میں نے کہا کہ کسی سے سود پر لاتا ہوں، لیکن میں مایوس ہو چکا تھا۔‘

مذہب کی جبری تبدیلی
،تصویر کا کیپشنمذہب کی جبری تبدیلی کے خلاف جب سندھ اسمبلی میں قانون پیش کیا گیا تو مذہبی جماعتوں کی جانب سے اس کی سخت مخالفت کی گئی

جبری مذہب تبدیلی صرف ایک جرم نہیں

انسانی حقوق کی تنظیم سینٹر فار سوشل جسٹس کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 16 برسوں میں 55 مسیحی لڑکیوں کے مبینہ جبری مذہب کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں سے 95 فیصد کا تعلق پنجاب سے ہے۔ سندھ میں ہندو کمیونٹی جبری تبدیلی مذہب کی شکایت کرتی ہیں لیکن اب مسیحی برادری کی بھی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔

سینٹر فار سوشل جسٹس کے سربراہ پیٹر جیکب کا کہنا ہے کہ جب بھی جبری مذہب کے واقعات ہوتے ہیں تو والدین خوفزدہ ہو جاتے ہیں، بچیوں کو سماجی رابطوں سے روک لیتے ہیں، اس قدر کہ تعلیم کی راہ میں بھی رکاوٹیں آ جاتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایسے واقعات سے ’صرف ایک جرم وابستہ نہیں، بلکہ ان واقعات میں اغوا کیا جاتا ہے، تشدد ہوتا ہے، والدین کو ہراساں کیا جاتا ہے، پھر قانون شکنی کر کے قانون اور مذہب دونوں کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ اس میں ریپ، بچوں سے زیادتی اور جنسی ہراسانی شامل ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہ قانون سے پوچھنا پڑے گا کہ کمسن بچیوں کا مذہب کیوں تبدیل ہو رہا ہے، اس تعداد کو روکنے کی کوئی کوشش کیوں نہیں کرتا۔