ججز پلاٹ کیس: اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور بیوروکریٹس کے لیے پلاٹس غیر آئینی قرار، ’ریاست کی زمین اشرافیہ کے لیے نہیں، صرف عوامی مفاد کے لیے ہے‘

عدالت

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور بیوروکریٹس کے لیے خصوصی سیکٹرز میں پلاٹس کی سکیم کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایف 12، جی 12، ایف 14 اور ایف 15 کی سکیموں کو غیر آئینی قرار دینے کے ساتھ ساتھ اسے مفاد عامہ کے بھی خلاف قرار دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ریاست کی زمین اشرافیہ کے لیے نہیں بلکہ یہ صرف عوامی مفاد کے لیے ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز جاری کیے گئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جج، بیورکریٹس اور پبلک آفس ہولڈرز (عوامی عہدیدار) مفاد عامہ کے خلاف ذاتی فائدے کی پالیسی نہیں بنا سکتے۔

واضح رہے کہ ان سیکٹرز میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد اور نئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ سپریم کورٹ کے موجود چند دیگر جسٹس صاحبان کے بھی پلاٹ ہیں۔

نئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ماتحت عدلیہ کے ججز کے پلاٹ منسوخ کرنے سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے تھے کہ اگر حکومت کی پالیسی کے تحت ججز کو پلاٹ دیے جاتے ہیں تو یہ مفاد کے ٹکراؤ کے زمرے میں نہیں آتا۔

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سپریم کورٹ کے صرف تین ججز نے پلاٹ لینے سے انکار کیا تھا

سپریم کورٹ کے تین ججز جن میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحیٰ آفریدی شامل ہیں، نے یہ کہہ کر پلاٹ لینے سے انکار کر دیا تھا کہ انھیں بطور جج پہلے بہت زیادہ مراعات ملتی ہیں اس لیے انھیں پلاٹ نہیں لینا چاہیے۔

چیف جسسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جج اور بیوروکریٹس اصل سٹیک ہولڈر یعنی عوام کی خدمت کے لیے ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی آئین کے خلاف کوئی سکیم نہیں بنا سکتی۔

ججز کو پلاٹ دینے پر سوالات

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدلیہ کے ججز کو پلاٹس کے بینفشری بنانے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہاؤسنگ اتھارٹی سپریم کورٹ سمیت دیگر عدالتوں میں زیر التوا کیسز میں بنیادی فریق ہوتی ہے اور کیا ایسے حالات میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹس کے ججز کو وفاقی حکومت کا بینیفشری بنا دینا مناسب تھا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدلیہ نے کبھی بھی پلاٹس پالیسی میں شمولیت کی درخواست نہیں دی۔

اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواستوں کی سماعت کے دوران کوئی وضاحت نہیں دی گئی کہ بغیر درخواست کے ججز کو اس پالیسی میں کیوں شامل کیا گیا۔

سپریم کورٹ

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ حیران کن طور پر پلاٹس حاصل کرنے والوں میں اعلیٰ عدلیہ کے موجودہ اور ریٹائر ججز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس فیصلے میں سنہ 2019 میں برطرف کیے گئے ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی کا نام لیے بغیر کہا گیا ہے کہ کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کیس میں سزا یافتہ جج بھی پلاٹ لینے والوں میں شامل ہے۔

اس کے علاوہ اس فیصلے میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پرویز القادر میمن کا نام لیے بغیر کہا گیا ہے کہ رشوت وصولی کے اعتراف پر برطرف جج بھی پلاٹس لینے والوں میں شامل تھے۔

مذکورہ جج کو ایک نجی نیوز چینل کے مالک کو ضمانت کے بدلے پچاس لاکھ روپے بطور رشوت لینے کی پاداش میں برطرف کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں کا ہر جج پلاٹس سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہے اس کے علاوہ جو ججز نااہل تھے اور خراب ساکھ رکھتے تھے اور جن کی نگرانی کی جا رہی تھی وہ بھی پلاٹس لینے والوں میں شامل ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انضباطی کارروائی پر برطرف کیے گئے جج بھی پلاٹس لینے والوں میں شامل ہیں۔ عدالت نے گذشتہ برس اگست میں ایف 14 اور ایف 15 میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے متعلق کی گئی قرعہ اندازی کے بارے میں کہا کہ اس میں شفافیت نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیے

نئی پالیسی بنانے کے لیے عدالتی فیصلہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کا حکم

عدالت نے اس فیصلے میں کہا ہے کہ ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین میں سے ایک لاکھ 26 ہزار کو نظر انداز کیا گیا۔

واضح رہے کہ گریڈ 21 سے ریٹائر ہونے والے متعدد افسران نے اس قرعہ اندازی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں، جن میں کہا گیا تھا کہ فیڈرل ہاؤسنگ اتھارٹی نے ان سے ایف 14 اور ایف 15 میں پلاٹ کے لیے پیسے لیے تھے لیکن جب وہاں پر پلاٹ نہ ملے تو حکام نے انھیں جی 12 میں پلاٹ دینے کا وعدہ کیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم اور کابینہ کو اس کے اثرات سے اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔

فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کابینہ کے سامنے پلاٹوں سے متعلق پیش کیے گئے ریکارڈ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ الاٹمنٹس کے لیے سلیکشن کا طریقہ کار کیا تھا۔ اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پلاٹس کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار میں شفافیت ثابت کرنے کے لیے کچھ نہیں دکھایا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے متعلق نظرثانی شدہ پالیسی میں وکلا اور صحافیوں کو نکال دیا جانا بھی قابل غور پہلو ہے۔

عدالت نے سیکریٹری ہاؤسنگ کو دو ہفتے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ مذکورہ چاروں سیکٹرز سے متعلق مفاد عامہ کے تحت پالیسی بنائیں گے۔