جسٹس گلزار احمد: سپریم کورٹ کے سربراہ ’جو کراچی سے باہر نہ نکل سکے‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
جسٹس گلزار احمد دو برس اور ایک ماہ تک پاکستان کی سپریم کورٹ کے 27ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد یکم فروری 2022 کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو گئے ہیں۔
چار دسمبر 2019 کو اس عہدے کا حلف اٹھانے والے جسٹس گلزار کے بطور چیف جسٹس آخری مہینے میں پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوا جب انھوں نے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک سے حلف لیا۔
جسٹس گلزار احمد کے دور میں ایک اور اہم واقعہ سپریم کورٹ میں 10 سال کے وقفے کے بعد کسی وزیر اعظم کی طلبی کا بھی تھا جب انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو آرمی پبلک سکول پر ازخود نوٹس کیس میں ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔
لیکن اس سے ہٹ کر اُن کے بطور چیف جسٹس لگ بھگ دو سالہ کریئر پر نظر دوڑائی جائے تو اپنے دور میں چیف جسٹس گلزار احمد کی زیادہ تر توجہ کراچی کے مسائل اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق مقدمات اور معاملات پر ہی مرکوز رہی۔
واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنے دور میں جب بھی کراچی میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرتے تھے تو اس وقت بھی جسٹس گلزار احمد زیادہ تر اس بینچ کا حصہ ہوا کرتے تھے۔
کراچی میں تجاوزات

جسٹس گلزار احمد کراچی کے سابق میئر نعمت اللہ کنڈی کی اس درخواست کو آگے لے کر بڑھے جو انھوں نے اپنی زندگی میں کراچی میں رفاہی پلاٹوں پر قبضے سے متعلق دائر کی تھی۔
اسی کیس کی سماعت کے دوران ایسے پلاٹوں پر قبضوں اور دفاعی پلاٹوں کے استعمال تک کے معاملات کے ساتھ ساتھ کراچی میں ناجائز تجاوزات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں گجر نالے کے گرد تجاوزات کے خاتمے، نسلہ ٹاور کو منہدم کرنے، کنٹونمنٹ کے علاقے میں پلاٹوں کے کمرشل استعمال کو روکنے کے علاوہ کنٹونمنٹ میں دو شادی ہال گرانے کے احکامات بھی جاری کیے۔ ایمپریس مارکیٹ اور گارڈن چڑیا گھر کے اردگرد تجاوزات بھی انھی کے دور میں گرائی گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس گلزار کی طرف سے دلچسپ ریمارکس بھی دیے جاتے رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر ریمارکس ان کے ذاتی تجربات پر مشتمل تھے جن میں وہ سنہ 1960 اور سنہ 1970 کی دہائی کے کراچی کی صورتحال کا تذکرہ کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی کا ہی ایک اور اہم معاملہ سرکلر ریلوے کا تھا جو عرصہ دراز سے بند تھی۔ سرکلر ریلوے کو چلانے کے منصوبے پر عمل درآمد کروانے اور ریلوے کی اراضی سے تجاوزات ہٹانے کا معاملہ بھی انھی کے دور میں طے ہوا۔
کراچی میں تجاوزات اور دیگر معاملات کی سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد صوبائی حکومت پر کافی برہم دکھائی دیے۔ خصوصاً نیسلہ ٹاور کو گرانے سے متعلق سماعت کے دوران انھوں نے کراچی کے ایڈمنسٹریٹر مرتضی وہاب کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا حکم بھی دے دیا۔ تاہم تحریری احکامات میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
تجاوزات کو گرانے سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی نے ردعمل دیا تو چیف جسٹس گلزار احمد نے انھیں بھی توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر کے عدالت میں طلب کر لیا۔
وزیر اعظم عمران خان کی طلبی

آرمی پبلک سکول از خود نوٹس کیس میں چیف جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعظم عمران خان کو ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ میں طلب کیا تھا۔
اس سے پہلے سنہ 2012 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جانب سے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو طلب کرنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کسی وزیر اعظم کو یوں عدالت میں طلب کیا گیا ہو۔
اس کیس میں عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی تھی کہ وہ چار ہفتوں کے بعد اس از خود نوٹس کی آئندہ سماعت پر وزیر اعظم کے دستخطوں سے ایک رپورٹ پیش کریں جس میں اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کے ورثا سے ملاقات کے لیے کمیٹی کی تشکیل اور اس واقعہ کے ذمہ داروں کے تعین کا بھی ذکر ہو۔
حکومت کی طرف سے اس بارے میں وزیر اعظم کے دستخطوں سے جاری رپورٹ ابھی تک عدالت میں جمع نہیں کروائی گئی اور وفاق کی طرف سے سپریم کورٹ سے اس معاملے میں التوا کی درخواست کی گئی۔
سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج

،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN
پاکستان کی سپریم کورٹ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کی بطور جج تعیناتی کا سہرا جسٹس گلزار احمد کے سر ہی جاتا ہے۔
ملک میں وکلا کے ایک بڑے دھڑے کی مخالفت کے باوجود انھوں نے جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا۔
جسٹس عائشہ ملک کی حلف برداری کی تقریب کے دوران انھوں نے میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جسٹس عائشہ ملک کو خاتون ہونے کے ناطے سپریم کورٹ میں جج تعینات کیا گیا۔
وہ مقدمات جن پر سماعت نہ ہو سکی
چیف جسٹس گلزار احمد کے دور میں صوبہ خیبر پختونخوا میں فوج کے زیر انتظام حراستی مراکز کے خلاف مقدمہ سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔
سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنی ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت اس معاملے کو فوری نمٹانا چاہتی ہے کیونکہ یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔
ان کے دور میں فیض آباد دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف وزارت دفاع کے نظرثانی کی درخواست کو بھی سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔ اس دو رکنی بینچ میں شامل ایک جج جسٹس مشیر عالم اپنے عہدے سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔
جسٹس گلزار اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
جسٹس گلزار احمد جب تک چیف جسٹس رہے تو اس عرصے کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو صرف ایک مرتبہ اس بینچ میں شامل کیا گیا جب انھوں نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کے معاملے پر بینچ بنانے کا کہا تھا۔
اس معاملے پر چیف جسٹس نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایسی درخواستوں کی سماعت کرنے سے روک دیا تھا جس میں عمران خان کو فریق بنایا گیا ہو۔
یہ بھی پڑھیے
کورونا کے دوران عدالت بند کرنے سے انکار

،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
چیف جسٹس گلزار احمد کا زیادہ عدالتی دور کورونا کی وبا کے دور میں ہی گزر گیا۔ جب یہ بیماری عروج پر تھی تو اس وقت بھی انھوں نے سپریم کورٹ کو بند کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
کورونا سے نمٹنے کے حوالے سے حکومت اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے یعنی این ڈی ایم اے نے بیرون ممالک سے جو ادویات سمیت دیگر سازو سامان خریدا تھا اس میں مبینہ گھپلوں سے متعلق بھی انھوں نے نوٹس لیا تھا اور اس سلسلے میں اس وقت کے این ڈی ایم اے کے سربراہ جو کہ ایک فوجی جنرل تھے، کو طلب بھی کیا تھا لیکن اس کے بعد اس سے متعلق تحقیقات کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کورونا کی روک تھام سے متعلق حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم کے مشیر ظفر مرزا کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے زبانی احکامات بھی دیے تھے۔ بعد میں جاری ہونے والے تحریری حکم نامے میں اس کا کہیں ذکر نہیں تھا۔
جسٹس گلزار احمد کے دور میں ایک اور اہم فیصلہ صوبہ پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی بحالی کا تھا لیکن صوبائی حکومت نے چھ ماہ سے بھی زیادہ عرصے تک عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا۔
متعقلہ حکام کے خلاف قانونی کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب پنجاب کے بلدیاتی نمائندوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ پنجاب حکومت عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کر رہی۔ ابھی تک یہ معاملہ اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچا۔ تین ماہ بعد پنجاب میں بلدیاتی انتحابات دوبارہ ہونے ہیں۔
جسٹس گلزار احمد بطور ایک جج

،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN
جسٹس گلزار احمد کو صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں سنہ 2002 میں سندھ ہائی کورٹ کا جج تعینات کیا گیا تھا۔
جسٹس گلزار احمد اعلی عدلیہ کے ان ججز میں شامل تھے جنھوں نے سنہ 2007 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دوسرے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف نہیں لیا تھا۔
اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں وہ سنہ 2011 میں سپریم کورٹ کے جج بنے تھے۔
اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جو سپریم جوڈیشل کمیشن کے سربراہ بھی تھے، نے گلزار احمد کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کمیشن کے اجلاس میں جسٹس گلزار احمد کو سپریم کورٹ کا جج نامزد کرنے کے حوالے سے نام انھوں نے ہی تجویز کیا تھا۔
اگر بطور جج دیکھا جائے تو جسٹس گلزار احمد سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ کا بھی حصہ رہے ہیں جنھوں نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔
جسٹس گلزار احمد نے اس بینچ کا حصہ بننے سے معذوری ظاہر کی تھی جس نے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق درخواست کی سماعت کرنا تھی۔
اس وقت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تجویز دی تھی کہ اس درخواست کی سماعت سپریم کورٹ کے پانچ سینیئر ترین ججز کو کرنی چاہیے۔ اس وقت جسٹس گلزار احمد، جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بعد سنیارٹی میں دوسرے نمبر پر تھے۔
جسٹس گلزار احمد کے انکار کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق درخواست کی سماعت کی تھی۔
جسٹس گلزار احمد نے سینیٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن کروانے کے بارے میں صدارتی ریفرنس کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے مؤقف کو درست تسلیم کیا تھا۔
جسٹس گلزار احمد کے بطور چیف جسٹس گذشتہ دو سال کے دوران سپریم کورٹ کے جج صاحبان کا ایک بھی فل کورٹ اجلاس نہیں ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد عدالتوں میں زیر التوا مقدمات اور انتظامی امور کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔










