جسٹس عائشہ اے ملک: سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

جسٹس عائشہ ملک

،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN

پاکستان کی سپریم کورٹ میں پہلی بار ایک خاتون جج جسٹس عائشہ اے ملک نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

حلف برداری کی یہ تقریب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیر کو سپریم کورٹ کی عمارت کے ہال میں ہوئی جہاں چیف جسٹس گلزار احمد نے جسٹس عائشہ ملک سے حلف لیا۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے ججز اور اعلیٰ حکومتی عہدیدار موجود تھے۔

خیال رہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش کے بعد پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے گذشتہ دنوں اِس کی منظوری دی گئی تھی۔

55 سالہ جسٹس عائشہ اے ملک 2012 سے لاہور ہائی کورٹ میں جج تعینات تھیں۔ وہ آئینی، بینکنگ، ٹیکس اور انسان حقوق کے امور پر دسترس رکھتی ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک کی نامزدگی سے تعیناتی تک کا سفر اور رکاوٹیں

رواں ماہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہوا جس کا ایک نکاتی ایجنڈا تھا: یعنی جسٹس عائشہ ملک کی بطور سپریم کورٹ جج تعیناتی۔

جسٹس عائشہ ملک کا نام دوسری مرتبہ کمیشن کے سامنے رکھا گیا تھا۔ اُن کا نام چیف جسٹس گلزار احمد نے تجویز کیا تھا۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کے بعد وزیر قانون فروغ نسیم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمیشن کے پانچ ارکان نے جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی حمایت اور چار نے مخالفت کی۔

سپریم کورٹ

یہ بھی پڑھیے

گذشتہ برس بھی جسٹس عائشہ ملک کا نام تجویز ہوا تھا تاہم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جوڈیشل کمیشن کے ارکان کے چار چار ووٹ برابر ہونے کی وجہ سے اُن کی تعیناتی ممکن نہیں ہو سکی تھی۔

پاکستان بار کونسل سمیت ملک بھر کی وکلا تنظیموں کا ایک دھڑا جسٹس عائشہ ملک کی بطور سپریم کورٹ جج نامزدگی کو ’سینیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے اس تجویز کی مخالفت کر رہا تھا جبکہ خواتین وکلا کی تنظیم نے مؤقف اپنایا تھا کہ سپریم کورٹ میں سینیارٹی کی بنیاد پر ججوں کی تعیناتی ابھی تک ایک معمہ ہے اور اس حوالے سے نہ تو ملکی آئین میں لکھا گیا ہے کہ سینیارٹی کو مدنظر رکھا جائے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی قانونی رکاوٹ ہے۔

جسٹس عائشہ ملک

،تصویر کا ذریعہInternational Association of Women Judges

جسٹس عائشہ اے ملک کون ہیں؟

صحافی عبادالحق، لاہور

جسٹس عائشہ اے ملک تین جون 1966 میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے امریکہ میں ہاورڈ لا سکول سمیت پاکستان اور بیرون ملک سے تعلیم حاصل کی۔ وہ سابق چیف الیکشن کمشنر اور نامور قانون دان جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کی ایسوسی ایٹ رہیں اور لگ بھگ چار برس تک یعنی 1997 سے لے کر 2001 تک ان کے ساتھ بطور معاون کام کیا۔

55 سالہ جسٹس عائشہ اے ملک اُس لا فرم کا حصہ رہی ہیں جس کو قائم کرنے والوں میں سے ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی تھے۔

جسٹس عائشہ اے ملک کو عدلیہ بحالی کی تحریک کے بعد 27 مارچ 2012 کو لاہور ہائیکورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا اور یہ دس برس کے وقفے کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں کسی خاتون وکیل کا بطور جج تقرر تھا۔

جسٹس عائشہ اے ملک کے لاہور ہائیکورٹ میں تقرر کے بعد اُس وقت لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے اُن کے تقرر کے خلاف ایک قرار داد بھی منظور کی تھی جس میں ان کے تقرر پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ قرار داد اس وقت لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے عاصمہ جہانگر گروپ کے صدر اور لاہور ہائیکورٹ کے موجودہ جج جسٹس شہرام سرور چوہدری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں منظور کی گئی تھی۔

وہ آئینی، بینکنگ، ٹیکس اور انسان حقوق کے امور دسترس رکھتی ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق وہ پاکستان کی مختلف جامعات میں بینکنگ قوانین سے متعلق پڑھا چکی ہیں۔ انھیں انگلینڈ اور آسٹریلیا میں بچوں کی تحویل، طلاق، خواتین کے حقوق اور پاکستان میں خواتین کے آئینی تحفظ کے کیسز میں ماہر کے طور پر بلایا جا چکا ہے۔

انھوں نے مختلف این جی اوز کے ساتھ غربت کے خاتمے اور مائیکرو فنانسنگ کے پروگرامز میں معاونت کی ہے۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی اشاعت آکسفورڈ رپورٹس فار انٹرنیشنل لا اِن ڈومیسٹک کورٹس کے لیے پاکستان کی رپورٹر رہی ہیں۔

جسٹس عائشہ اے ملک کے مقبول فیصلوں میں جنسی تشدد کی شکار خواتین کے طبی معائنہ کے طریقہ ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ کے بارے میں فیصلہ بہت نمایاں ہے۔ شریف فیملی کی شوگر ملوں کی جنوبی پنجاب کے علاقے رحیم یار خان منتقلی سے روکنے کا فیصلہ بھی ان کے مشہور فیصلوں میں سے ایک ہے۔

ان کی شادی نجی لا کالج کے پرنسپل اور قانون دان ہمایوں احسان سے ہوئی اور ان کے تین بچے ہیں۔

سپریم کورٹ کا جج مقرر ہونے کے بعد جسٹس عائشہ اے ملک کی معیاد عہدہ میں تین برس کی توسیع ہو جائے گی۔ پہلے انھوں نے دو جون 2028 کو ریٹائرڈ ہونا تھا لیکن اب 2031 میں ریٹائر ہوں گی۔

اس توسیع سے سپریم کورٹ کی نئی جج جسٹس عائشہ اے ملک اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک سال پہلے چیف جسٹس پاکستان بن سکتی ہیں جو ایک منفرد اعزاز ہو گا۔