کراچی کا گجر، اورنگی اور محمود آباد نالہ: کیا تجاوزات کے خلاف آپریشن غریب بستیوں تک ہی محدود رہے گا؟

کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سنیلا انور اپنے گھر کی پہلی منزل پر کام کر رہی تھیں جب اُن کا پیر پھسلا اور وہ نیچے گر گئیں۔ گھر کی بالائی منزل سے زمین پر گرنے والی سنیلا اب بستر تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں کیونکہ سلاخیں لگنے سے اُن کا چہرہ شدید متاثر ہوا ہے۔

سنیلا مسیح کا خاندان ان ساڑھے چھ ہزار سے زائد گھرانوں میں شامل ہے جو کراچی کے مشہور گجر نالے، اورنگی نالے اور محمود آباد نالے کے ساتھ مقیم تھے اور حال ہی میں تجاوزات کے خلاف ہونے والے بڑے آپریشن میں ان کے گھر مسمار کیے گئے ہیں۔

آپریشن کے بعد یہ گھر اب کھنڈرات کا منظر پیش کرتے ہیں اور کسی جنگ زدہ علاقے کی عکاسی کرتے ہیں۔

سلاخوں اور ملبے کے درمیان زندگی

سنیلا انور کا گھر تین منزلوں پر مشتمل تھا۔ اس گھر میں اُن کے علاوہ ان کے دو بھائی، دو بہنیں اور والدہ رہتی ہیں۔ ان کا یہ گھر گجر نالے کی کٹنگ میں آ گیا جس سے گھر کا اگلا حصہ مسمار کر دیا گیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ واش روم اور مرکزی دیوار ٹوٹ چکی ہے اور جب وہ گھر میں کام کر رہی تھیں تو بے خیالی میں نیچے گر گئیں اور گھر کے مسمار کر دیے گئے حصے کی سلاخوں سے زخمی ہو گئیں۔

سنیلا ایک غیر سرکاری تنظیم میں کام کرتی ہیں۔ ان کی والدہ ہسپتال میں چھوٹی سی ملازمت سے وابستہ ہیں، ایک بھائی درزی ہے جبکہ دوسرا الیکٹریشن کا کام کرتا ہے۔

اس وقت 25 سال کی سنیلا کے خاندان سمیت کئی گھرانے ملبے اور سلاخوں کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔ ان خاندانوں نے حالیہ بارشیں بھی یہاں گزاریں اور آنے والی سردی کے دن بھی یہیں کاٹیں گے۔

بہت سے خاندانوں نے اپنے مسمار ہونے والے گھروں کی دیواروں کے سامنے چادریں باندھ کر پردے کا انتظام کر رکھا ہے۔

کوثر نیازی کالونی میں سنیلا کی پڑوس میں روزینہ (فرضی نام) رہتی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ بیٹیوں والا گھر ہے لیکن حکام انھیں بے پردہ کر گئے ہیں۔

سنیلا انور، کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن
،تصویر کا کیپشنسنیلا انور اپنے گھر کی پہلی منزل پر کام کر رہی تھیں جب اُن کا پیر پھسلا اور وہ نیچے گر گئیں

گجر نالا غریبوں کی پناہ گاہ

گجر نالہ زیادہ تر کراچی وسطی کے علاقوں کے بیچوں بیچ گزرتا ہے جبکہ اس کا کچھ حصہ کراچی ویسٹ اور کیماڑی ضلع میں بھی شامل ہے۔ اس نالے میں عام طور پر صنعتی اور گھریلو فضلہ شامل ہوتا ہے مگر بارشوں کے پانی کی نکاسی کا بھی یہ ہی راستہ ہے۔ یہاں سے نکلنے والا صنعتی، گھریلو فضلہ اور بارشوں کا پانی ملیر ندی سے ہوتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے۔

28 کلومیٹر طویل گجر نالے پر سنہ 1965 سے تجاوزات کا آغاز ہوا، جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا گیا اور پہلے کچے اور پھر پکے مکانات بنائے گئے۔

محقق حارث گزدر کی تحقیق کے مطابق سنہ 1970 میں یہاں کوثر نیازی کالونی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے ساتھ شہر کا نیا پوش علاقہ نارتھ ناظم آباد موجود تھا۔

اس وقت یہاں مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب، ہزارہ ڈویژن، خیبرپختونخوا کے علاقوں کے لوگ آباد ہیں جو محنت مزدوری اور دیگر چھوٹی ملازمتوں سے وابستہ ہیں۔

پانی کی نکاسی کا راستہ

کراچی میں سنہ 2020 کی شدید بارشوں کے بعد جب ناگن چورنگی سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں پانی جمع ہو گیا تو حکام نے اس کی وجہ گجر نالے، اورنگی نالے اور محمودآباد نالے پر قائم غیر قانونی تجاوزات کو قرار دیا جس پر سپریم کورٹ نے ان تجاوزات کو گرانے کے احکامات جاری کیے۔

کراچی میٹروپولیٹن کے شعبہ انسداد تجاوزات کا کہنا ہے کہ یہاں چار ہزار گھر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔

نامور شہری منصوبہ ساز عارف حسن کہتے ہیں کہ شہر میں جو سیلاب آتا اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔

’گجر نالے سے چاہے ساری تجاوزات ہٹا دیں لیکن کوئی فرق نہیں پڑے گا جب تک ان نالوں کو صاف نہیں کریں گے، دوسرا سمندر میں جہاں یہ گرتے ہیں وہاں ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو نہیں ہٹاتے۔‘

گجر نالے کے رہائشی ساجد اقبال کہتے ہیں کہ پہلے انھیں کہا گیا کہ صرف کرین کے لیے راستے کی صفائی کرنی ہے مگر اس کے بعد پہلے 16 فٹ، اس کے بعد 24 اور 35 فٹ تک کٹنگ کی گئی اور اس طرح مرحلوں میں مکان گرائے گئے۔

کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن

سپریم کورٹ میں متاثرین کی اپیلیں مسترد

سپریم کورٹ کی جانب سے تجاوزات گرانے کے احکامات کے بعد ’کراچی بچاؤ‘ تحریک نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی لیکن عدالت نے اس کو مسترد کر دیا جس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی لیکن سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر اس اپیل کو مسترد کر دیا کہ نالوں کے ساتھ والی زمین قانون کے مطابق لیز نہیں کی جا سکتی۔

اسرار احمد کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے میں عوام سے کوئی رائے نہیں لی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ علاقے کراچی میونسیپل، کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کچی آبادی اتھارٹی اور ڈپٹی کمشنر آفس نے لیز کیے تھے اور اس کے عوض لوگوں نے پیسے ادا کیے تھے۔

مگر بعدازاں ان لیز کے معاہدوں کو جعلی قرار دے دیا گیا۔ ’اگر یہ لیز معاہدے جعلی ہیں تو ادارے بھی جعلی ہیں۔‘

سماجی کارکن اور انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں استاد ابیرا اشفاق کہتی ہیں کہ ’کچی آبادی ایکٹ کے تحت یہ گھر ریگولرائز ہونا تھے۔ انھوں نے کہا کہ چند گھر ایسے تھے جو ریگولرائز ہو سکتے تھے لیکن نہیں کیے گئے۔‘

سپریم کورٹ نے سنہ 2020 میں اِن سب کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

مالک سے کرائے دار بن گئے

گجر نالے کے متاثرین میں سے کچھ خاندان کرائے کے گھروں میں چلے گئے ہیں۔ ایسے ہی افراد میں غلام ندیم بھی شامل ہیں جو ایک کمرے کے مکان کا 35 سو روپے کرایا دیتے ہیں۔

گجر نالے کے قریب ان کا اپنا دو منزلہ گھر تھا جس میں چار کمرے تھے مگر غلام ندیم کے مطابق ان کو اتنی مہلت بھی نہیں دی گئی کہ وہ گھریلو سامان ہی گھر سے نکال سکتے۔

غلام ندیم بتاتے ہیں کہ ان کے والد کا انتقال ہو چکا ہے، بڑے بھائی فالج کے مریض ہیں جبکہ والدہ گھروں میں کام کرتی ہیں اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اب وہ ایک کمرے کے مکان میں رہنے پر مجبور ہیں۔

’اسی ایک کمرے میں کچن بھی ہے اور واش روم بھی۔ اتنی جگہ نہیں ہوتی کہ ہم تین لوگ ٹانگیں پھیلا کر سو سکیں، اگر کھانا بنانا ہو تو چولہا جلانے کے لیے پنکھا بھی بند کرنا پڑتا ہے۔‘

کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن

ماضی میں سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ایمپریس مارکیٹ اور گارڈن مارکیٹ سے تجاوزات ہٹائی گئیں جبکہ سرکلر ریلوے کے ٹریک کو کافی حد تک قابضین سے کلیئر کروایا گیا۔

یہ سب کچھ ہونے کے بعد شدید بارشوں کے بعد جب ایک دفعہ پھر کراچی کی سڑکیں ڈوبیں تو کراچی کے نالوں پر تجاوزات کا معاملہ زیر سماعت آ گیا۔

عسکری علاقوں میں غیر قانونی تجاوزات

تجاوزات سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران کئی مرتبہ چیف جسٹس گلزار احمد اور بینچ میں شامل دیگر ججز نے عسکری اداروں اور کنٹونمنٹ بورڈز کے متعلقہ حکام پر اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ ان کے زیر انتظام علاقوں میں رفاعی مقاصد کے لیے مختص پلاٹوں پر کمرشل سرگرمیوں کی اجازت کیوں دی گئی۔

23 جنوری 2019 کی سماعت کے دوران ایک موقع پر عدالت عظمیٰ کے ججز نے یہ ہدایت جاری کی تھی کہ کراچی کی شاہراہ فیصل اور راشد منہاس روڈ پر قائم کردہ سینما ہالز، پلازے اورکنٹونمنٹ کے علاقوں میں دیگر کمرشل تعمیرات کو فوری طور پر گرایا جائے۔

عدالت کے احکامات کی روشنی میں سی او ڈی کے سامنے واقع شادی ہال کو تو مسمار کر دیا گیا تاہم شاہراہ فیصل پر شاپنگ مال، راشد منہاس روڈ پر سینما ابھی تک موجود ہے جبکہ اسی سڑک پر الہ دین پارک کے ساتھ موجود پولین کلب اور شاپنگ مال کو فوری مسمار کر دیا گیا تھا۔

کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن

ڈی ایچ اے میں سمندر اور نالے پر قبضے

کراچی میں گزشتہ سال شدید بارشوں کی وجہ سے ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے کئی علاقے ہفتے سے زائد زیر آب رہے تھے جس کے نتیجے میں یہاں کے مکینوں نے احتجاج بھی کیا۔

شہری منصوبہ بندی کے ماہر عارف حسن کا کہنا ہے کہ گزری نالا پانی کی نکاسی کا ایک بہت اہم آؤٹ فال تھا اس میں 34 آبادیوں کا پانی بہہ کر منظور آباد نالے کے ذریعے سمندر میں جاتا ہے، یہ ڈیڑھ کلومیٹر چوڑا تھا جس کو محدود کردیا گیا کیونکہ اس کا بہت بڑا علاقہ ڈیفینس فیز سیون کا حصہ بن گیا۔

’اس پر پلاٹ بن گئے اور یہ تنگ ہو گیا۔ ساتھ میں ایک کچی آبادی بن گئی اس نے بھی رکاوٹ پیدا کی۔ اب جب تک یہ مکان گرائے نہیں جائیں گے یا پھر بہت شدت سے پمپنگ نہیں ہو گی، تبھی 34 آبادیوں کا پانی سمندر میں جائے گا۔‘

ڈی ایچ اے کے رہائشیوں نے سندھ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکٹایا اور گزارش کی کہ نالے سے صرف کچی بستیوں کو مسمار کیا گیا جبکہ ڈی ایچ اے میں جو بڑی عمارتیں ہیں انھیں مسمار نہیں کیا گیا۔ خیابان جامی، گزری کریک اور ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹنونمنٹ بورڈ کے کئی علاقوں میں غیر قانونی تجاوزات ہیں، اس درخواست پر ابھی نوٹس ہوئے ہیں۔

کراچی ڈیفینس فیز 8 ایکسٹینشن اس وقت ایک وسیع علاقے تک پھیل چکا ہے چند سال قبل تک یہاں سمندر کا پانی آتا تھا لیکن رفتہ رفتہ یہاں سے پانی دور ہوتا گیا اور یہاں مٹی ڈال کر زمین حاصل کر لی گئی جس میں پہلے پارک بنایا گیا اس کے بعد رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی گئی۔

شہری منصوبہ ساز ماروی مظہر نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس سے ڈی ایچ اے کو پرائم لینڈ تو مل گئی ہے لیکن اس سے ’ایکو سسٹم‘ شدید متاثر ہوا اور لوگوں کے لیے دستیاب ساحل سمندر کو محدود کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد خود یہ ریمارکس دے چکے ہیں کہ ’دیکھیں کراچی کی ساحلی پٹی کے ساتھ ڈی ایچ اے نے کیا کیا ہے؟ وہ سمندرکے اندر اس حد تک تجاوزکر گئے ہیں کہ اگر ان کا بس چلے تو وہ سمندرکے اندر بھی ایک شہر آباد کر دیں۔‘

کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن

’گھر تو خواب تھا‘

کراچی میں شاہراہ فیصل اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر واقع 15 منزلہ نیسلا ٹاور کے مکین اس وقت غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس عمارت کو مسمار کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ 1044 سکوائر یارڈ میں سے 780 سکوائر یارڈ غیر قانونی تجاویزات ہے کیونکہ یہ سروس روڈ کا حصہ تھا۔

جمعہ کے روز اخبارات میں اشتہار شائع ہوئے ہیں جن میں مکینوں کو پندرہ روز میں عمارت خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

ایم بی بی ایس کے آخری سال کی طالبہ حلیمہ سعیدہ اس عمارت کے آٹھویں فلور پر اپنے والد، والدہ اور دو بہنوں کے ہمراہ رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد ان کے گھر والوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور وہ پڑھ نہیں پا رہیں۔

’ایک عام شہری مشکل سے پوری زندگی پیسے جوڑ جوڑ کر گھر بناتا ہے، میرے والد نے 16 سال کی عمر سے ملازمت کی اور محنت کی۔ اپنا گھر ہمارا خواب تھا اسے ہم نے سجایا سنوارا، اب فیصلہ آرہا ہے کہ اس کو گرا دیں گے۔ ہمارے پاس تو صرف یہ ہی گھر ہے کوئی بہت سارے گھر تو نہیں۔‘

گجر نالے کوثر نیازی کالونی کی سنیلا انور کہتی ہیں کہ جتنا پہلے گھر بنانا آسان تھا آج اتنا ہی مشکل ہے۔

’والدین نے جو بھی کمایا اسی گھر پر لگا دیا۔ پہلے ہی گھر کے اخراجات سنبھالنے مشکل ہیں، کسی نئی جگہ گھر لینا ناممکن ہو چکا کیونکہ ایک تو وسائل نہیں دوسرا گھر بغیر لیز نکل آتا ہے ایک ایک پلاٹ چار چار لوگوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔‘

سنیلا کی پڑوسن روزینہ کا گھر تین منزلہ تھا جس میں سے انھوں نے کچھ حصہ کرائے پر دیا تھا جہاں سے کچھ آمدن ہوتی تھی، وہ کہتی ہیں کہ یہ تو ان کے شوہر تھے جو گھر بنا کر دے گئے اب تو دوایوں کے لیے بھی پیسے نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

صرف غریب اور مڈل کلاس نشانہ بنتا ہے

نیسلا ٹاور کی حلیمہ سعیدہ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں ایسا نہیں لگتا کہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جاتا ہو۔

وہ کہتی ہیں ’یہاں ہر کسی کے لیے الگ الگ قانون ہے۔ کئی ایسی مثالیں ہیں جہاں امیروں کی عمارتوں اور سکیموں پر جرمانہ عائد کر کے کو ریگولرائز کیا گیا۔ یہاں ایسا کیوں نہیں کیا جاتا آخر ایک جگہ کے لیے ایک اور دوسری جگہ کے لیے دوسرا الگ قانون کیوں ہے۔‘

گجر نالے کے رہائشی ولیم ایمنائل بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امیروں کے خلاف کارروائی کاغذوں میں اور بیانات میں ہوتی ہے جبکہ غریبوں کے خلاف عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔

شہری منصوبہ بندی کے ماہر عارف حسن کہتے ہیں کہ ’صرف غریبوں کی آبادیوں کو چھیڑا اور اجاڑا جاتا ہے۔‘

کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن
،تصویر کا کیپشنبہت سے خاندانوں نے اپنے مسمار ہونے والے گھروں کی دیواروں کے سامنے چادریں باندھ کر پردے کا انتظام کر رکھا ہے

وہ منصوبے جو عدالت نے ریگولرائز کر دیے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تعمیر کردہ لگژری رہائشی منصوبہ ’ون کانسٹیٹیوشنل ایونیو‘ بھی اس وقت قانونی تنازعہ کا شکار ہوا جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے ایک پرائیویٹ بلڈر، بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ کے حق میں زمین کی لیز کا آرڈر جاری کیا جس پر یہ منصوبہ تعمیر ہونا تھا۔

واضح رہے کہ اس پراجیکٹ میں سیاستدانوں سمیت کئی با اثرشخصیات نے اپارٹمنٹس کی بکنگ کرائی تھی۔

پراجیکٹ تعمیرکرنے والی کمپنی عدالت عظمیٰ پہنچی جس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی لیز کینسل کرنے کا حکم معطل کرتے ہوئے پرائیویٹ بلڈر کو ہدایت دی کہ وہ 5۔17 ارب روپے کی رقم چھ مساوی اقساط میں سی ڈی اے کو ادا کرے۔

دونوں فریقین کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت بلڈر کی جانب سے دو اعشاریہ نو ارب روپے کی پہلی قسط 30 دسمبر 2021 کو ادا کی جائے گی جبکہ آخری قسط دسمبر 2026 میں ادا کی جائے گی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی میں بحریہ ٹاؤن کی زمین بھی ریگولرائز کر دی ہے۔ عدالت نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بورڈ آف ریوینیو کو حکم جاری کیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے لیے مختص 14617 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کی جائے۔

بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کی جانب سے 460 ارب روپے کی ادائیگی کی پیشکش کی گئی جس کو عدالت نے قبول کر لیا اور تمام مقدمات کو ختم کرنے کا حکم دیا۔

سندھ حکومت کے ترجمان، مشیر قانون اور کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں کہ جب متاثرین یہ کہتے ہیں کہ یہاں دوہرا نظام ہے تو ان کی بات میں وزن ہے۔

’آپ ’ون کانسٹیٹیوشنل ایونیو‘ کو تو ریگولرائز کر لیں، گجر نالے، اورنگی نالے اور نیسلہ ٹاور کے لوگوں کو ریگولرائز نہیں کر سکتے۔ پنجاب میں ساڑھے چارسو سوسائیٹیز ہیں جن کو عثمان بزدار نے ریگولرائز کیا۔ بنی گالے کے حوالے سے وفاقی کابینہ فیصلہ کر چکی ہے۔

’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک نظام اسلام آباد، ایک نظام پنجاب میں اور ایک نظام کراچی میں ہو۔ اگر امیر کے لیے یہ چیز ریگولرائز ہو سکتی ہے تو غریب کے لیے کیوں نہیں۔‘

مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ کی واضح پوزیشن ہے اور کابینہ یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ جہاں جہاں انسانی آبادیاں موجود ہیں اور ان سے نکاسی آب اور برساتی پانی کا راستہ نہیں رک رہا تو اسے آبادیوں کو مسمار نہیں کرنا چاہیے۔

’ہم نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی بھی درخواست کی تھی لیکن سپریم کورٹ نے ہماری درخواست پر بدقسمتی کے ساتھ نظر ثانی نہیں کی۔‘

ابیرا اشفاق بھی بحریہ ٹاؤن کراچی کی ریگولرائزیشن کا حوالہ دیتی ہیں۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ ایک طرف امیروں کی سکیموں کو ریگولرائز کیا جا رہا ہے اور اس میں سپریم کورٹ بھرپور کردار ادا کر رہی ہے تو دوسری جانب صوبائی اسمبلی کے بنائے گئے کچی آبادی کے قانون کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور غریبوں سے ہاؤسنگ کا حق چھینا جا رہا ہے۔

کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن

نالوں والے کہاں جائیں گے

سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ گجر نالے، اورنگی نالے اور محمود آباد نالے کے متاثرین کی بحالی کی جائے اور ان کا جو نقصان ہوا اس کا اذالہ کیا جائے۔ حکومت سندھ نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ ہر گھر کو اگلے دو سال تک 15 ہزار روپے ماہانہ کرایا ادا کیا جائے گا۔

مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں کہ تقریباً 6500 متاثرین کی بحالی کا طریقہ کار وفاقی حکومت نے دینا تھا لیکن یہ معاملہ حکومت سندھ کی طرف آیا اور صوبائی کابینہ نے سرجانی ٹاؤن میں 250 ایکڑ زمین کی نشاندھی کی جہاں انھیں پلاٹ دیے جائیں، لیکن کچھ ممبران نے مؤقف اختیار کیا کہ گھر بنا کر دینے چاہییں۔

’کابینہ نے فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے جو پیسے بحریہ ٹاؤن نے زمینوں کی مد میں جمع کرائے ہیں اس میں سے دس ارب روپے کی درخواست کی جائے تاکہ ان متاثرین کے لیے گھر اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کرائی جائے۔‘

گجر نالے کے متاثرین کی شکایت ہے کہ اس وقت تک صرف تیس فیصد لوگوں کو ہی ضلعی انتظامیہ نے چیک دیے ہیں۔

روزینہ کا کہنا ہے کہ ان کے تین منزلہ گھر میں تین خاندان تھے لیکن انھیں صرف ایک متاثرہ خاندان میں شامل کیا جا رہا ہے جو ایک اور ناانصافی ہے۔

کیا یہ بھی ریئل سٹیٹ کا گیم ہے؟

حکومت گجر نالے کی بحالی کے ساتھ نالے کے دونوں اطراف میں تیس تیس فٹ چوڑی سڑک بنانے کی بھی خواہشمند ہے۔

شہری منصوبے کے ماہر عارف حسن کا کہنا ہے کہ گجر نالے پر بہت سے ایسی آبادیاں ہیں جو پرائم لینڈ پر بنی ہوئی ہیں یا یہ مستقبل کے پرائم لینڈ بنیں گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر کچی آبادیوں کو ہٹایا جائے اور سڑکیں بنائیں تو ڈویلپرز اس پر قبضہ کر کے مڈل کلاس ہاؤسنگ یا ایلیٹ ہاؤسنگ سکیمز بنا سکتے ہیں، اسی لیے ان نالوں پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔‘