سپریم کورٹ نے کراچی کے تمام نالوں کی صفائی کی ذمہ داری این ڈی ایم اے کو سونپ دی

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کی عدالت عظمی نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے تمام نالوں کی صفائی کا کام قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو سونپنے کا حکم دیا ہے اور حکومت سندھ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کام کی نگرانی کرے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کی کراچی رجسٹری میں شہر میں غیر قانونی تجاویزات، سرکلر ریلوے، بجلی کی فراہمی میں تعطل سمیت دیگر مسائل کے حوالے از خود نوٹس اور درخواستوں کی سماعت ہو رہی ہے۔
بدھ کو سماعت کے دوران کراچی کے کمشنر افتخار شاہلوانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ این ڈی ایم اے نے تین بڑے نالے صاف کیے ہیں جبکہ کراچی میں 38 بڑے اور 514 چھوٹے نالے ہیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ان سے معلوم کیا کہ این ڈی ایم اے نے پورے شہر کے نالوں کی صفائی کیوں نہیں کی؟ کمشنر نے انھیں بتایا کہ نالوں پر غیر قانونی تجاوزات ہیں، لوگ گذشتہ دس سالوں سے وہاں رہتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی میں مزاحمت کا سامنا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو نقص امن کا مسئلہ ہوجاتا ہے۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگلے دو تین ماہ میں نالوں سے تجاوزات ختم کرائیں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پورا شہر ’انکروچ ہوا ہوا ہے‘، یہ حکومت کی ناکامی ہے کہ تجاوزات ختم نہیں کراسکی،لوگوں کے بھی حقوق ہیں مگر شہریوں کو کوئی بنیادی حق نہیں دیا جارہا۔

عدالت نے حکومت سندھ کو حکم جاری کیا کہ کراچی کے تمام نالوں کی صفائی این ڈی ایم اے کے حوالے کی جائے، جو نالوں کی صفائی کے ساتھ تجاوازت اور دیگر مسائل کو بھی دیکھے گی جبکہ صوبائی حکومت این ڈی ایم اے کو مدد فراہم کرے۔
یاد رہے کہ کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد وفاقی حکومت نے این ڈی ایم اے کو بارش کی پانی کی نکاسی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد چیئرمین این ڈی ایم نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کی اور شہر کے تین نالوں کی صفائی فوج کے ذیلی ادارے ایف ڈبلیو او سے کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ایف ڈبلیو او نے دعویٰ کیا ہے کہ ان تینوں نالوں گجر نالے، کورنگی نالے اور مواچھ گوٹ نالے کے 40 مقامات سے سالڈ ویسٹ ہٹا کر پانی کی روانی کو برقرار رکھا گیا ہے، پانچ روز کے اس آپریشن میں 30 ہزار ٹن کے قریب سالڈ ویسٹ کو ہٹایا گیا۔
اس سے قبل گذشتہ سال بارشوں کے بعد وفاقی وزیر علی زیدی نے ایف ڈبلیو او کے ذریعے بعض نالوں کی صفائی کرائی تھی، جس کے لیے ایک فنڈ قائم کر کے لوگوں سے عطیات جمع کیے گئے تھے۔
’وفاق جلد کراچی کے بارے میں فیصلہ لے گا‘
چیف جسٹس گلزار احمد نے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کا نام لیے بغیر ایک بار پھر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہیلی کاپٹر پر دو چکر لگا کر آکر بیٹھ جائیں گے، معلوم تھا بارش آرہی ہے کوئی پیشگی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مخاطب ہوکر چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے جبکہ حکمران مزے اڑا رہے ہیں، یہ تو مکمل انارکی والا صوبہ ہوگیا ہے، اس کو کون ٹھیک کرے گا؟ کیا وفاقی حکومت کو کہیں کہ آکر ٹھیک کرے؟
اٹارنی جنرل نے عدالت کو مخاطب ہوکر کہا کہ کراچی ایک کھلا شہر ہے کوئی اس کو اوون نہیں کرتا، کراچی ہے تو پاکستان ہے۔
’کراچی میٹرو پولیٹن سٹی ہے کوئی بھی ملک اپنے میٹرو پولیٹن سٹی کو تباہ ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا، کراچی کے معاملے پر سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں، تمام آئینی اور قانونی پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے، اس حوالے سے کوئی حتمی بات نہیں کر سکتا لیکن جلد فیصلہ ہوگا۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل حکمران جماعت کے بعض اراکین اور کچھ تاجر حلقے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بھی بات کرچکے ہیں، جس پر سوشل میڈیا پر سخت رد عمل سامنے آیا تھا اور وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔
قائد اعظم کے اقوال والے بورڈ ہٹانے کا حکم
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے شاہراہ فیصل پر پاکستان کے یوم آزادی کے حوالے سے لگے ہوئی سائن بورڈز پر اظہار برہمی کیا، جس پر کمشنر نے انہیں آگاہ کیا کہ سرکاری اداروں کی جانب سے 14 اگست کے حوالے سے یہ سائن بورڈ لگائے گئے ہیں۔
چیف جسٹس نے انہیں مخاطب ہوکر کہا کہ انہیں معلوم ہے ان پر قائد اعظم کے اقوال بھی لکھے ہوئے ہیں لیکن کیا قائد اعظم کی باتیں بتانے کا یہ ہی طریقہ رہ گیا ہے۔ انہوں نے کمشنر کراچی کو تمام سائن بورڈ ہٹانے کا حکم جاری کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سمندر سے لی گئی زمین ’صوبے کے ملکیت‘
سپریم کورٹ نے بدھ کو قرار دیا ہے کہ سمندر سے جو زمین حاصل کی جاتی ہے وہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ملکیت ہوتی ہے۔ عدالت نے یہ ریمارکس کے پی ٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے الاٹیز کی جانب سے معاوضے کی ادائیگی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں تمام الاٹیز کو سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی اور درخواست نمٹا دی۔
اس سے قبل دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے سمندر میں آلودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سمندر اتنا آلودہ ہوگیا ہے کہ قریب جاتے ہیں تو بدبو آتی ہے، ایک منٹ بھی نہیں کھڑے ہوسکتے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ شہر سے ساری گندگی سمندر میں آرہی ہے، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا جارہا ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے حکام سے مخاطب ہوکر کہا کہ پورٹ پر گندگی کی وجہ سے غیر ملکی جہازوں نے معاوضے میں اضافہ کردیا ہے، ہماری آبی حیات متاثر ہورہی ہے اس گندگی کی وجہ سے۔
سپریم کورٹ نے غیر قانونی تجاویزات، سرکلر ریلوے اور صوبائی وزیر سعید غنی کے خلاف توہین عدالت کے معاملات کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی، اس سے قبل عدالت نے منگل کو کے الیکٹرک کے سی ای او کو بھی جمعرات کے دن صفر لوڈشیڈنگ کی پالیسی پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔










