سپریم کورٹ کی جانب سے 16 ہزار سرکاری ملازمین کو نوکریوں پر بحال کرنے کا حکم

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمختصر فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے پڑھ کر سنایا اور کہا کہ برطرفی کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیلیں خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

'پچاس سال کی عمر میں مجھے نوکری کون دیتا؟ میں تو خوش ہوں کے بحال ہو چکا ہوں۔ کیونکہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب میرے پاس گھر لے جانے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ ہر کسی کی طبیعت میں مانگنے کی عادت نہیں ہوتی۔ ہم نے یہ پچھلے چار ماہ کیسے گزارے ہیں وہ بیان کرنا کافی مشکل ہے۔۔'

یہ کہنا ہے کراچی کے رہائشی اعظم خان کا جو سٹیٹ لائف میں بطور ڈپٹی مینیجر کام کرتے تھے۔

ان 20 برسوں میں انھیں دو بار ایک ہی محکمے سے برطرف کیا جاچکا ہے۔ اب اعظم سمیت متعدد سرکاری نوکریوں پر مامور افراد کو جمعے کے روز پاکستان کی سپریم کورٹ نے بحال کر دیا ہے۔

اس فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اعظم خان نے بتایا کہ 'اس فیصلے کے انتظار میں میری والدہ چل بسیں۔ معاشی حالات ایسے ہو گئے تھے کہ فاقے کر کے بھی وقت گزارا۔ راشن لینے میں شرمندگی محسوس ہونے لگ گئی تھی کیونکہ تمام تر قیمت قرضہ ہوجاتی تھی جو ایک لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ اب سانس میں سانس آئی ہے۔'

اعظم خان کے خاندان کے تمام تر افراد سرکاری نوکریوں پر مامور ہیں اور ان نوکریوں کے نتیجے میں ہونے والے اتار چڑھاؤ سے بخوبی واقف ہیں۔

اعظم نے بتایا کہ انھیں ان کے والد نے پولیس کی نوکری کرنے سے بھی منع کردیا حالانکہ وہ خود پولیس میں اعلی عہدے پر فائز تھے۔

'سیاست اور لابی ایسی چیز ہے کہ یہ اچھے اچھے کام کرتے لوگوں کو تنگ کردیتی ہے۔ ان بیس سالوں میں میری نیند اب جاکر مکمل ہوگی۔ کیونکہ اس سے پہلے روز اسی بات کی فکر رہتی تھی کہ کیا ہوگا۔ مجھے میرے والد نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ اپنا کام کرو رزق دینے والی ذات اوپر والے کی ہے۔ میں آپ کو بیان نہیں کرسکتا کہ میں اس وقت کتنا حیران ہوں کہ میں بحال ہوچکا ہوں۔'

ملازمین کی برطرفی کا معاملہ ہے کیا؟

یکم نومبر 1993 سے 30 نومبر 1996 کے دوران تقریباً 72 محکموں میں 16000 ہزار لوگوں کو نوکریوں پر بھرتی گیا تھا۔

یہ پاکستان پیپلز پارٹی کا دور تھا۔ نوکریوں پر رکھے جانے والے افراد کو بتایا گیا کہ انھیں مرحلہ وار ترقی دی جائے گی۔ پھر پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی اور معراج خالد کی عبوری حکومت کا دورانیہ پورا ہونے سے دو دن پہلے ان تمام افراد کو ایک آرڈر کے ذریعے مخلتف محکموں سے برطرف کردیا گیا۔

اس دوران یہ تمام ملازمین دس سال تک گھروں میں بند ہو کر رہ گئے۔

پھر 2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ان افراد کو دوبارہ بحال کردیا گیا۔ اس دوران حکومت نے ایک آرڈیننس متعارف کروایا اور اسے 'سیکڈ امپلائیز (ری انسٹیٹمنٹ) ایکٹ 2010' کا نام دے کر پارلیمان سے منظور کروایا گیا۔

اس ایکٹ کو پارلیمان سے منظور کرانے کے پیچھے وجہ ان تمام لوگوں کو اپنی نوکریوں پر دوبارہ بحال کرنا تھا جو نومبر 1993 سے نومبر 1996 کے دوران نوکریوں پر رکھے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

پھر 17 اگست 2021 میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں بننے والے تین رکنی بینچ نے 'سیکڈ امپلائیز (ری انسٹیٹمنٹ) ایکٹ 2010 ' پر اعتراض کرتے ہوئے 42 صفحے کا فیصلہ سنایا۔

واضح رہے کہ یہ فیصلہ مختلف ہائی کورٹس میں آئی بی، سوئی گیس، سٹیٹ لائف انشورنس، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، سول ایوی ایشن اور متعدد ملازمین کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیلوں کو سننے کے بعد کیا گیا تھا۔

اس فیصلے میں کہا گیا کہ اس قانون کے تحت ملازمین کو بے جا سہولیات دی جارہی ہیں اور اسی لیے وفات پانے والے یا ریٹائرڈ ملازمین کے کیسز میں جائے بغیر ان تمام سروس پر مامور افراد کو اس قانون کے آنے سے پہلے کے عہدوں پر فائز کردیا جائے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سنہ 2019 میں فیصلہ محفوظ کیا اور پھر تقریباً 20 ماہ کی تاخیر کے بعد (یعنی قریب دو سال بعد) ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ سنا دیا۔

اس سے ایک بار پھر ان تمام افراد کے لیے معاملات غیر یقینی صورتحال اختیار کر گئے۔ یعنی ایک بار پھر یہ افراد اپنی نوکریوں سے فارغ کردیے گئے تھے اور اگلے چار ماہ تک ملازمین نے احتجاج کرنا بہتر سمجھا۔

کراچی کے سٹیٹ لائف کے محکمے سے تعلق رکھنے والے الطاف حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اس دوران تمام لوگ ایک بار پھر نوکریوں سے فارغ کردیے گئے تھے۔

'فارغ ہونے کے بعد ہم نے اس فیصلے کو چیلنج کیا۔ اور ریویو (یعنی نظرِ ثانی) میں گئے۔ حکومتِ پاکستان نے بھی اسے ریویو میں ڈالا۔ اس تمام تگ و دو اور مالی مشکلات کا فیصلہ آج سامنے آیا ہے۔'

سپریم کورٹ کا فیصلہ

جمعے کے فیصلے میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے برطرف ملازمین کی بحالی سے متعلق کیس کا مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے 16000 ملازمین کی برطرفی کے خلاف نظرِ ثانی اپیلیں خارج کرتے ہوئے ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاق سمیت تمام ملازمین کی نظرِ ثانی کی درخواستیں خارج کردی گئی ہیں اور یکم نومبر 1996 سے لے کر 12 اکتوبر 1999 تک گریڈ ایک سے سات تک کے برطرف ہونے والے ملازمین کو بحال کیا جائے۔

تاہم عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ بد عنوانی، مِس کنڈکٹ اور کرپشن پر نکالے گئے ملازمین عدالتی فیصلے سے مستفید نہیں ہوسکیں گے۔

اسی طرح صرف ان ملازمین کو بحال کیا جائے جن کے لیے ٹیسٹ یا انٹرویو دینا ضروری نہیں تھا۔ جبکہ گریڈ 8 سے 16 تک کے جن ملازمین کے لیے ٹیسٹ درکار تھا انھیں اب ٹیسٹ دینا ہوگا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ دیا اور چار ایک کے تناسب سے دائر کردہ اپیلیں خارج کردی گئیں، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔

مختصر فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے پڑھ کر سنایا اور کہا کہ برطرفی کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیلیں خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کی بحالی کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 184 کی شِق تین کے دائرہ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے دیا گیا ہے۔