فارن فنڈنگ کیس:سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ حکمران جماعت کے لیے کیا مشکلات پیدا کر سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے الیکشن کمیشن کی جانب سے سمندر پار پاکستانیوں کے عطیات پر مشتمل حکمراں جماعت تحریک انصاف کی فنڈنگ کی پڑتال کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’دیگر دو بڑی جماعتوں ن لیگ اور پی پی کے مالیات کی اسی قسم کی پڑتال کے منتظر‘ ہیں۔
بدھ کو ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہمارے نظمِ مال کو جتنا کھنگالا جائے گا اتنی ہی صراحت سےحقائق واضح ہوں گے اور قوم سمجھ سکے گی کہ کیسے تحریک انصاف ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس کا نظمِ مال پولیٹیکل فنڈ ریزنگ کے اس مربوط نظام پر مشتمل ہے جس کی بنیادیں باضابطہ ڈونرز پر استوار ہیں۔‘
’اس سے قوم کو باضابطہ پولیٹیکل فنڈ ریزنگ اور قوم کی قیمت پر نوازشات کے بدلے سرمایہ دار حواریوں اور مفاد پرست گروہوں سے مال اینٹھنے کے مابین فرق سمجھنے میں مدد ملے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اس کے فوراً بعد پاکستان مسلم لیگ کی رہنما مریم نواز نے بھی ایک ٹویٹ کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’اچھا؟ تو پھر سات سال سے دھونس اور طاقت کے ذریعےکیس کو چلنے کیوں نہیں دیا؟ کیوں اتنے سال فرار اختیار کرتے رہے اور پھر منتیں کرتے رہے کہ رپورٹ ریلیز نا کی جائے؟ پاگل سمجھ رکھا ہے لوگوں کو کہ جو بولو گے لوگ مان جائیں گے؟ تیاری رکھنا، حساب کتاب کا وقت آن پہنچا ہے! انشاءاللّہ!‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
منگل کو پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکمران جماعت نے انتخابی ادارے سے 31 کروڑ سے زائد کی رقم خفیہ رکھی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کی طرف سے درجنوں اکاؤنٹ ظاہر ہی نہیں کیے گئے۔
تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کا معاملہ گذشتہ روز سے زیر بحث ہے جہاں اپوزیشن کی جماعتیں ان پر بیرون ملک سے غیر قانونی عطیات حاصل کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے الزام لگایا ہے کہ تحریک انصاف نے اب تک ان اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ ’ان کمپنیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں دیا گیا جو پاکستان کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔‘
ادھرگذشتہ روز وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس کا اکاﺅنٹنگ اور فنڈنگ کا تفصیلی نظام موجود ہے۔
ایسے میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا اور پاکستان کی حکمراں جماعت کے لیے اس کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’بطور سیاسی جماعت پی ٹی آئی کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے‘
الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ سکروٹنی کمیٹی کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے بینک اکاؤنٹ اور غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں جو رپورٹ پیش کی ہے اس کے بعد اب الیکشن کمیشن اس پر جوڈیشل کارروائی شروع کرے گا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سنہ 2017 کا سیکشن 204 اس حوالے سے بڑا واضح ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی ادارہ، تنظیم یا شخصیت پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کو فنڈ فراہم نہیں کر سکتی۔
انھوں نے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کی اس رپورٹ میں ان غیر ملکی اداروں اور ان شخصیات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جنھوں نے پاکستان تحریک انصاف کو فنڈ فراہم کیے۔
کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کا معاملہ سنہ 2014 میں سامنے آیا تھا اور الیکشن کمیشن کے حکام کی طرف سے اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں تاخیر کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ خود پاکستان تحریک انصاف کے عہدیداروں نے بھی الیکشن کمیشن کی کارروائی کو رکوانے کے لیے مختلف ہائی کورٹس سے حکم امتناع بھی حاصل کیے۔
الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ہائی کورٹ کے جج جتنے اختیارات ہوتے ہیں اور الیکشن کمیشن اس پر عدالتی کارروائی کرنے کے بعد کروڑوں روپے کے ممنوعہ فنڈ، جس کی نشاندہی اس سکروٹنی کمیٹی نے کی ہے، ضبط کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس سے بھی پاکستان تحریک انصاف کی بطور سیاسی جماعت ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سنہ کے سیکشن 215 میں یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ اگر کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف سے کمیشن میں جمع کروائی گئی مالیاتی تفصیلات الیکشن ایکٹ کے سیکشن 210 سے مطابقت نہ رکھتی ہوں تو پھر الیکشن کمیشن اس جماعت کو الاٹ کیا گیا انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے۔
کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں اس جماعت کی رجسٹریشن بھی منسوخ تصور ہوگی اور اس جماعت کے انتخابی نشان پر جیت کر آنے والے ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت پر بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ چند وفاقی وزرا نے وزیر اعظم عمران خان کو زمینی حقائق سے آگاہ کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن کو نتقید کا نشانہ بنانے پر ہی اکتفا کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے الیکشن کمیشن حکمراں جماعت کے خلاف ایک پوزیشن لیے ہوئے ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’الیکشن کمیشن کے پاس جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیار ہے‘
پاکستان میں جمہوریت اور انتخابی معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ ایک بہت بڑا سنگ میل ہے اور مستقبل میں پاکستان کی سیاست پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ بظاہر ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ اس رپورٹ کے بعد پی ٹی آئی کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے میں پرعزم دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے معاملے میں الیکشن کمیشن کھل کر سامنے آیا اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے بعد ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کے لیے معاملہ متعلقہ کورٹس میں بھجوا دیا گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کو بھی جلد نمٹانا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت پر ممنوعہ فنڈزگ ثابت ہو جائے تو الیکشن کمیشن کے پاس اس جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیار ہے جبکہ کسی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے۔
انھوں نے کہا کہ ممنوعہ ذرائع سے فنڈ حاصل کرنے کے بارے میں اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو پھر الیکشن کمیشن اس سیاسی جماعت کو کالعدم یا اس پر پابندی عائد کرنے کے لیے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھجوانے کے لیے حکومت وقت کو سمری بھیجے گا۔
احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حکمراں جماعت پر ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل کرنے کے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو پھر ایسی صورت حال میں پی ٹی آئی کی حکومت شاید خود سے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں نہ بھیجے، تو پھر ایسے حالات میں کوئی عام شہری بھی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لے کر جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں حکمراں جماعت کی طرف سے بار بار التوا مانگنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پی ٹی آئی اس معاملے میں کمزور وکٹ پر ہے۔
پلڈیٹ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت کی طرف سے سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ پبلک نہ کرنے کی استدعا اور اس کے بعد دیگر دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بارے میں سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد ان تینوں رپورٹس کو عام کرنے پر زور دینا اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی متعلقہ فورم سے مزید وقت حاصل کرنا چاہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ممنوعہ فنڈنگ کا معاملہ سنہ 2014 میں سامنے آیا جبکہ مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا معاملہ کچھ عرصہ پہلے ہی سامنے آیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ان حکام کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جنھوں نے اس معاملے کو اتنا طول دیا جبکہ فارن فنڈنگ والا معاملہ ’ایک سال میں نمٹ جانا چاہیے تھا۔‘
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس رپورٹ کے بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ان کی جماعت نے سکروٹنی کمیٹی کو ایک ایک پائی کا حساب دیا ہے اور ان کے بقول ان کی جماعت اس میں سرخرو ہوئی ہے۔
’ہوسکتا ہے قانونی طور پر تحریک انصاف کو نقصان نہ ہو‘
سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ممنوعہ ذرائع سے حاصل ہونے فنڈنگ کے بارے میں سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ حکمراں جماعت کے لیے بڑی نقصان دہ ہے اور ان کی شہرت پر ایک سیاہ دھبے کی ماند ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے آنے کے بعد ہوسکتا ہے کہ قانونی طور پر پاکستان تحریک انصاف کو اتنا نقصان نہ ہو لیکن عوام میں اس جماعت کا تشخص ضرور متاثر ہوگا بالخصوص وزیر اعظم عمران خان جو کہ خود ’مسٹر کلین‘ ہونے کا دعوی کرتے ہیں، اس رپورٹ کے بعد ان کے اس دعوے پر بھی بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں قانون بڑا سخت ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید سیاسی جماعتوں نے اس قانون کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
انھوں نے کہا کہ ڈسکہ الیکشن کے بعد پی ٹی آئی کے خلاف فیصلے آنے شروع ہوئے جبکہ اس سے پہلے فیصلے ان کے حق میں آتے تھے۔
واضح رہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے بارے میں حکمراں جماعت پندرہ روز میں اپنا جواب جمع کروائے گی جس کے بعد الیکشن کمیشن اس پر عدالتی کارروائی کا اغاز کرے گا۔













