کوئٹہ ویڈیو سکینڈل میں ایک اور ایف آئی آر: متاثرہ لڑکیوں کی بازیابی کے لیے حکومت کا ’افغان حکام سے رابطہ‘

خواتین، کوئٹہ، ریپ، جنسی تشدد
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں حکومت کے نوٹس اور احتجاجی مظاہروں کے باوجود خواتین پر جنسی تشدد کے ایک ویڈیو سکینڈل میں دو متاثرہ لڑکیوں کی بازیابی تاحال ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ جبکہ اب ایک مزید خاتون نے ان ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ دونوں لڑکیاں افغانستان میں ہیں جن کی بازیابی کے لیے افغان حکام سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔

اگرچہ وہ دونوں لڑکیاں تاحال بازیاب نہیں ہوئی ہیں تاہم مبینہ طور پر ایک اور متاثرہ لڑکی نے اسی سکینڈل کے حوالے سے ایف آئی آر درج کرائی ہے اور یہ الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان متعدد لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ ان کی برہنہ ویڈیو بناکر ان کو بلیک میل کرتے تھے۔

دوسری جانب کوئٹہ میں ویڈیو سکینڈل کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ سکینڈل کے حوالے سے تحقیقات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے تاکہ اس میں ملوث تمام عناصر کو کیفر کردار تک پہنچ جائے۔

بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ امور میر ضیا اللہ لانگو نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اس حوالے سے تحقیقات کو صحیح سمت میں آگے بڑھا رہی ہے۔

'انکار کیا تو ملزمان نے میری ویڈیو فیس بک پر ڈال دی'

یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر آنے کے بعد اب تک قائد آباد پولیس سٹیشن میں دو ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ پہلی ایف آئی آر لاپتہ لڑکیوں کی والدہ نے درج کرائی تھی جو اب منظر عام سے غائب ہیں۔ جبکہ دوسری ایف آئی آر میں ایک خاتون نے تین افراد کو نامزد کیا ہے۔

پولیس کو درج کرائے گئے اپنے بیان میں اس متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ دو سال پہلے اپنی ایک سہیلی کے ساتھ ملازمت کی تلاش کر رہی تھی جب انھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بلیک کرنے کے بعد ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈال دی گئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایک دن میری سہیلی نے مجھے کہا کہ وہ ایک بندے کو جانتی ہے جو ہمیں ملازمت دے گا۔‘

کوئٹہ ویڈیو سکینڈل

ان کا دعویٰ ہے کہ ملزمان نے ایک گھر میں ’ہماری ویڈیو بنائی اور کہا کہ جب بھی ہم آپ کو بلائیں تو آپ لوگوں نے ہمارے پاس آنا ہے۔ کچھ دن بعد انھوں نے فون کرکے ہمیں بلایا جہاں انھوں نے ہمیں مارنا پیٹنا شروع کیا اور ہماری برہنہ ویڈیو بنائی اور یہ کہا کہ جب بھی اور جہاں ہم آپ کو بلائیں تو آپ لوگوں نے آنا ہے۔‘

متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ 'کچھ دن بعد ان کا فون آیا۔۔۔ جب ہم وہاں گئیں تو ہمارے علاوہ اس گھر میں مزید لڑکیاں موجود تھیں۔‘

اس ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ’وہاں پر موجود لڑکیوں نے بتایا کہ ملزمان انھیں وقتاً فوقتاً وہاں بلاتے ہیں۔ انھیں نشہ وغیرہ دے کر برہنہ کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور ویڈیو بھی بناتے ہیں جو کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ یہ عمل دن میں کئی مرتبہ دہرایا جاتا ہے۔‘

’ان لڑکیوں نے بتایا کہ برہنہ ویڈیو بنا کر ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے اور انھوں نے ہماری بھی ویڈیو بنائی ہے۔‘

انھوں نے پولیس کو درج کرائے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یہ تمام تر واقعات ہم نے اپنی عزت اور خاندان والوں کے خوف سے نہ کسی کو بتائے اور نہ رپورٹ کیے۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ ملزمان نے ملنے اور رابطہ رکھنے سے انکار پر ’فیس بُک پر میری ویڈیو اور فوٹو جعلی آئی ڈی بنا کر اپ لوڈ کی ہیں۔‘

’لڑکیوں کی بازیابی کے لیے افغان حکام سے رابطہ‘

ویڈیو سکینڈل کی تفتیش سے منسلک ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ پہلا مقدمہ درج کرانے کے بعد متاثرہ لڑکیوں کی والدہ منظر عام سے غائب ہیں اور ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون اور ان کی بیٹیاں افغانستان میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ فداحسین نے بھی ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ دونوں متاثرہ لڑکیوں کی آخری لوکیشن افغانستان میں کابل کی تھی۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت لڑکیوں کی بازیابی کے لیے افغان حکام سے رابطے میں ہے۔

اتوار کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بتایا کہ افغانستان سے متاثرہ لڑکیوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے افغان حکام سے اس سلسلے میں رابطہ کیا ہے۔ انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ’ہم جلد مغوی خواتین کو واپس اپنے ملک لائیں گے۔‘

کوئٹہ ویڈیو سکینڈل

’خدا کے لیے ہماری خواتین کو اس سلوک کا نشانہ نہ بنائیں‘

اس ویڈیو سکینڈل کے خلاف کوئٹہ شہر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

اتوار کے روز علمدار روڈ کے علاقے میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس کے شرکا نے مسجد خاتم الانبیا سے شہدا چوک تک مارچ کیا۔

اس ریلی کے شرکا کی زیادہ تعداد خواتین پر مشتمل تھی۔

ریلی کے شرکا نے ویڈیو سکینڈل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے پر غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائے تاکہ تمام ملزمان کیفر کردار تک پہنچ جائیں۔

ریلی میں شریک ایک عمر رسیدہ خاتون نے گلوگیر آواز میں کہا کہ ’کسی بھی ملک میں ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جو ہمارے ملک میں ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’خدا کے لیے ہماری خواتین کو اس قسم کے سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جائے۔‘

ریلی میں شریک ایک نوجوان محمد رضا نے بتایا کہ یہ احتجاج خواتین کی عزت کی پامالی کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

ان کے بقول 'دو سو سے زائد خواتین کو کام اور نوکریوں کا لالچ دے کر ان کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اس سکینڈل میں ملوث تمام افراد کا سراغ لگایا جائے اور ان کو قرار واقعی سزا دی دلائی جائے۔‘

گذشتہ روز بھی پریس کلب کوئٹہ کے باہر سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے کارکنوں نے ویڈیو سکینڈل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

تحقیقات کے حوالے سے سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

مشیر برائے داخلہ میر ضیا اللہ نے اس سلسلے میں ایک اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور حکومت مسلسل اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والے درندوں کو کیفرکردار تک پہنچا کر اپنے انسان ہونے کا فرض ادا کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ایسے درندہ صفت افراد کو کسی بھی صورت میں معاف نہیں کیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس سلسلے میں جو تحقیق کر رہی ہے، اس سے حکومت مطمئن ہے اور پولیس بہتر انداز سے کام کر رہی ہے۔ ’پولیس کو کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی دباﺅ کو قبول نہیں کریں اور تحقیقات کو صحیح سمت میں آگے بڑھائیں۔‘

وزیر داخلہ نے بتایا کہ دو نامزد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

مشیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان اور ملک کی عوام اس بات سے مطمئن رہیں کہ ان کی حکومت اور ادارے اپنے فرائض سے بخوبی واقف ہیں اور جو بھی اس قسم کی درندگی کا مظاہرہ کرے گا وہ حکومت اور ان کے اداروں سے نہیں بچ پائے گا۔