ماحولیاتی تبدیلی، کوپ 26: بلوچستان کے شہر سبی میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ پر زندگی جو لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر رہی ہے؟

- مصنف, عمر دراز ننګیانه
- عہدہ, بی بی سی اردو، سبی، بلوچستان
’یہ وہ وقت ہوتا ہے جب پرندے فضا میں اڑتے ہوئے مر کر زمین پر آن گرتے ہیں۔ چائے کی چینک میں پانی اور پتی ڈال کر چولہے پر رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی، چائے پہلے ہی تیار ہو جاتی ہے۔‘
زمان خان کو معلوم ہے کہ یہ وقت آنے سے پہلے انھیں اپنا گھر بار چھوڑ کر نکلنا ہے۔ انھیں یاد ہے کہ کئی مرتبہ جب ان کے قبیلے کے چند افراد نے یہ وقت آنے سے قبل اپنے گھروں کو چھوڑ کر نکلنے میں دیر کی تو گرمی نے انھیں آن لیا۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو بے ہوش ہو کر سڑک پر گر پڑے اور ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔
اپریل کے مہینے میں صوبہ بلوچستان کے ضلع سبی میں گرمی شدت اختیار کرنے لگتی ہے۔ اسی مہینے زمان خان اور ان کے قبیلے کے درجنوں خاندان لنڈی کے علاقے میں واقع اپنے کچے گھروں کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔ کچے گھروں پر مشتمل ان دیہات میں سایہ دار درخت ڈھونڈنے سے نہیں ملتے ہیں اور دور دور تک بنجر زمین پر جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔

سنہ 2017 میں اپریل ہی کے مہینے میں سبی میں درجہ حرارت 48 ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔ صوبائی محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے ہی مہینے یہ درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو رہا تھا۔ مہینے کے زیادہ تر دنوں میں درجہ حرارت اتنا ہی رہتا ہے۔
زمان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ گرمی کے آتے ہی انھیں پینے کے لیے پانی حاصل کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ’زمین اتنی گرم ہو جاتی ہے کہ نیچے پیر رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ آپ سوچیں کہ اس قدر شدید گرمی ہو کہ پرندے مر مر کر فضا سے زمین پر گرنے لگیں اور ایسے میں آپ کو پینے کے لیے پانی نہ ملے تو کیا ہو گا۔‘
اس شدت کی گرمی میں گھروں سے باہر نکل کر محنت مزدوری تلاش کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ زمان خان کے قبیلے کے افراد دہائیوں سے اونٹ اور مویشی پالتے آئے ہیں تاہم ایک عرصہ ہوا یہ ذریعہ معاش ان سے چھوٹ چکا ہے۔
سخت گرمی میں بارشوں کی کمی اور پانی کی عدم دستیابی کے باعث ان کے زیادہ تر مویشی مر جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ محنت مزدوری نہ کریں تو کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی ملنا بھی مشکل ہو جائے۔ مجبوراً انھیں نقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپریل کے آغاز ہی میں وہ اپنا تمام تر سامان باندھ کر ٹرکوں پر لادتے ہیں اور لگ بھگ 150 کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کا رُخ کرتے ہیں۔ سبی میں گاؤں کے گاؤں ویران ہو جاتے ہیں۔ اگلے چھ ماہ تک یہاں صرف خاموشی کا راج رہتا ہے۔

’روٹی کھانے کے لیے بھیک مانگنا پڑ جاتی ہے‘
کوئٹہ پہنچ کر وہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں خالی جگہ تلاش کر کے وہاں چھونپڑیاں لگا لیتے ہیں۔ یہاں کم از کم وہ باہر نکل کر محنت مزدوری تلاش کر سکتے ہیں۔ تاہم ادھر بھی چند روز ایسے گزرتے ہیں کہ کام نہ ملنے کی وجہ سے وہ اور ان کے بچے بھوکے سوتے ہیں۔
میر جان بھی زمان خان کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور نقل مکانی کرنے والوں میں شامل ہوتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کا قبیلہ دہائیوں سے نقل مکانی کرتا رہا ہے تاہم گذشتہ سات سے آٹھ برس خاص طور پر بہت مشکل تھے۔
’پہلے ہم اپنے مویشیوں کے ساتھ موسم کے مطابق ایک سے دوسری جگہ آتے جاتے رہتے تھے مگر ایسا نہیں تھا کہ سبی میں رہنا ہی مشکل ہو جائے۔‘

کوئٹہ میں بھی ان کے لیے زندگی آسان نہیں ہوتی۔ جب کام نہ ملے تو 'کئی لوگوں کو روٹی کھانے کے لیے بھیک تک مانگنا پڑتی ہے۔‘
گرمی کے مہینوں میں سبی کے ویران اجڑے ہوئے دیہات اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہیں کہ کرہ ارض پر تیزی سے رونما ہوتی ماحولیاتی تبدیلیاں کس طرح ان علاقوں کو انسانوں کے لیے ناقابلِ رہائش بنا رہی ہیں جو محظ چند سال قبل ہنستے بستے تھے۔
’یہ ان لوگوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے‘
صوبہ بلوچستان کے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ کے محکمے کے سیکریٹری عبدالصبور کاکڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میر جان اور زمان خان جیسے خانہ بدوش قبیلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے نقل مکانی اب محض موسمی نہیں رہی۔
'اب یہ ان کے لیے بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ انھیں ایک طرح سے زندگی اور موت کی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔‘
تاہم سوال یہ ہے کہ جب سبی جیسے علاقے ابتدا ہی سے گرم تھے اور میر جان جیسے لوگ ابتدا ہی سے نقل مکانی کرتے آ رہے تھے تو اب حالات بقا کی جنگ تک کیسے پہنچے؟ اور موسمیاتی تبدیلیوں کا اس میں کتنا ہاتھ ہے؟
بقا کی جنگ اب ہی کیوں؟
سیکریٹری محکمہ ماحولیاتی تحفظ عبدالصبور کاکڑ اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ آج سے کئی سال قبل سبی اور دیگر علاقوں میں بارشوں کے سلسلوں میں زیادہ رد و بدل نہیں ہوتا تھا۔ بلوجستان کے بالائی علاقوں میں برف بھی پڑتی تھی۔
جب یہ برف پگھلتی تھی تو پانی نیچے کے علاقوں تک پہنچتا تھا۔ ان علاقوں میں بھی بارشیں ہوتی تھی اور یوں یہاں بسنے والے انسانوں کو پانی میسر ہوتا تھا جو گرمی سے لڑنے میں انھیں مدد دیتا تھا۔ اس پانی کی مدد سے وہ کھیتی باڑی کر کے اپنے لیے خوراک بھی پیدا کر لیا کرتے تھے اور مویشی پالتے تھے جس سے ان کا گزر بسر ہو جاتا تھا۔
'لیکن گذشتہ چند برسوں سے بارشیں نہ ہونے کے برابر ہوئی ہیں اور بالائی علاقوں میں برف بھی نہیں پڑی۔ موسم کی اس تبدیلی کے پیچھے گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے عوامل کا ہاتھ کارفرما ہے۔‘
عبدالصبور کاکڑ کے مطابق اس موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گذشتہ چند برس کے دوران ایسے لوگوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے جو نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
کیا پاکستان میں گرمی بڑھنے کی وجہ وہ خود ہے یا باقی دنیا؟

اسلام آباد کے سرکاری ادارے گلوبل چینج امپیکٹ سٹڈیز سینٹر یعنی جی سی آئی ایس سی میں کلائیمیٹولوجی کے ماہر شہباز محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ چند برسوں میں باقی دنیا کی طرح پاکستان میں بھی گرمی بڑھی تھی اور اس کی ایک اہم وجہ گلوبل وارمنگ ہے۔
'لیکن پاکستان میں اس گرمی کے اثرات زیادہ محسوس ہو رہے ہیں۔ گذشتہ ایک صدی میں دنیا کا اوسط درجہ حرارت ایک سے ڈیڑھ سینٹی گریڈ تک بڑھا ہے جو کہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
شہباز محمود کے مطابق اس کے نتیجے میں اب انسان کو انتہائی قسم کی قدرتی آفات اور انتہائی موسموں کا سامنا زیادہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ’یہ آفات پہلے بھی آتی تھی اور موسم پہلے بھی بگڑتے تھے تاہم ان کی شدت اور تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے جو کہ آنے والے برسوں میں بڑھتا رہے گا۔‘
ان کے خیال میں ’یہ عوامل براہ، راست انسان کی زندگی پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔'

گرمی کیسے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر رہی ہے؟
ضلع سبی ہی کے ایک علاقے بختیار آباد کے ایک گاؤں عبدالرحمان ماچھی کے رہائشی گل حسن اور ان کے خاندان کے افراد ایسے لوگوں میں شامل ہیں جنھیں موسمیاتی تبدیلی نے حال ہی میں تقل مکانی پر مجبور کیا۔
لگ بھگ سات برس قبل کی بات ہے جب ان کے گاؤں کے پہلو میں پانی کے بڑے بڑے تالاب تھے جو بارشوں کی وجہ سے پانی سے بھرے رہتے تھے۔ دور پہاڑوں سے آنے والی ایک ندی بھی ان تالابوں میں گرتی تھی۔
گل حسن کے گاؤں میں بھی گھر، میر جان کے گھر کی طرح کچے تھے۔ یہاں بھی زیادہ تر زمین بنجر تھی اور یہاں بھی اتنی ہی گرمی پڑتی تھی۔ لیکن پھر بھی گل حسن اور ان کے خاندان کو نقل مکانی نہیں کرنا پڑتی تھی۔ وہ گرمیوں میں بھی یہیں سبی میں رہتے تھے۔

’ہمارے پاس پینے کے لیے بھی پانی میسر تھا اور ہم اس کی مدد سے کھیتی باڑی بھی کر لیا کرتے تھے جس سے اچھا گزر بسر ہو جاتا تھا۔‘
ان کے گاؤں میں ایک سرکاری سکول بھی تھا جہاں ان کے بچے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ان کے پاس مویشیوں کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ رات میں گرمی سے بچنے کے لیے وہ گدھے کی مدد سے ’جھلی‘ چلایا کرتے تھے۔ یہ ایک لکڑی کا بنا پنکھا ہوتا تھا جسے گدھے کی مدد سے گھمایا جاتا تھا اور اس کی ہوا میں وہ رات آرام سے گزار لیتے تھے۔
'یہاں سے نہ نکلیں تو مر جائیں'
لیکن پھر اچانک لگ بھگ سات برس قبل بارشیں ان سے روٹھ گئیں۔ ندی بھی بند ہو گئی اور آہستہ آہستہ تالابوں کا پانی خشک ہوتا گیا۔ محض ایک سال کے اندر اندر تالاب کی خشک سطح واضح ہو چکی تھی۔
اس وقت سے اب تک وہ صرف بارشوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس دوران ان کے زیادہ تر مویشی مر چکے ہیں اور جھلی چلانے کے لیے بھی ان کے پاس گدھے میسر نہیں ہیں۔ کھیتی باڑی ختم ہو چکی ہے۔ پینے کا پانی شہر سے خرید کر لانا پڑتا ہے جسے وہ زیرِ زمین تالاب میں ذخیرہ کرتے ہیں۔

'لیکن گرمیوں میں تو پانی کا ایک ٹینکر چھ ہزار روپے میں بھی نہیں ملتا۔‘ ایسے حالات میں سات برس قبل پہلی مرتبہ گل حسن اور ان کے رشتہ دار شاہ نواز، محمد انور اور دیگر اپنے خاندانوں سمیت نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں سے نہ نکلیں تو ادھر ہی مر جائیں گے۔‘ گرمی کے چھ ماہ کوئٹہ میں چھونپڑیوں اور خیموں میں گزارنے کے بعد حال ہی میں وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹے تھے۔
گل حسن کے مطابق کوئٹہ میں بھی ان کے لیے زندگی آسان نہیں تھی۔ 'جن کے کوئی رشتہ دار وغیرہ پہلے سے کوئٹہ میں تھے وہ تو ان کے پاس چلے گئے، لیکن ہم جیسے لوگوں کے لیے جنھیں وہاں کوئی نہیں جانتا تھا ان کے لیے وہاں رہنے کے لیے جگہ تلاش کرنا بھی مشکل کام تھا۔'
میر جان اور زمان خان کی طرح ان کے خاندان والوں کو بھی بچوں سمیت کئی مرتبہ خالی پیٹ سونا پڑتا تھا۔ ’کبھی کام ہوتا تھا اور کبھی تو ٹوکری اٹھانے کا کام بھی نہیں ملتا تھا۔ اور جب کام نہیں ملے گا تو کھائیں گے کہاں سے۔‘
'وہ وقت دور نہیں جب حالات ہمارے قابو میں نہیں ہوں گے'

سیکریٹری ماحولیاتی تبدیلی عبدالصبور کاکڑ کے مطابق بلوچستان کی زیادہ تر آبادی غریب افراد پر مشتمل تھی جن میں زیادہ تر غربت کی لکیر سے بھی نیچے رہ رہے تھے۔ ایسے افراد کے پاس معاشی دباؤ برداشت کرنے کی سکت بہت کم تھی۔
اس کے نتیجے میں 'یہ لوگ دیہات سے شہروں کا رخ کر رہے ہیں اور ہمارے شہروں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے کئی معاشی اور معاشرتی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب حالات ہمارے قابو میں نہیں رہیں گے۔‘
ان کےخیال میں صوبہ بلوچستان کے لیے اس وقت پانی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ زیرِ زمین پانی بھی ختم ہو چکا ہے اور بارشوں کی کمی کی وجہ سے زمین کی سطح پر بھی پانی میسر نہیں ہے۔
'اس کے نتیجے میں جب لوگوں کے پاس کسی مقام پر پانی یا ذریعہ معاش ختم ہو جاتا ہے تو نقل مکانی کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔‘

عبدالصبور کاکڑ کہتے ہیں کہ ان کے پاس ضلع کے حوالے سے تو اعداد و شمار موجود نہیں تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ گذشتہ چند برس میں نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ 'اس میں ان لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے جو اپنے آبائی گھر چھوڑ کر مستقل طور پر قدرے سرد علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔'
'واپس جا کر کیا کریں گے؟'
سبی کے رہائشی ماچھی خان ان میں سے ایک ہیں۔ وہ اپنے خاندان سمیت رواں برس گرمیوں کے آغاز میں کوئٹہ منتقل ہو گئے تھے اور جھونپڑیوں میں زندگی گزار رہے تھے۔ اب گرمیاں ختم ہو چکی ہیں تاہم ماچھی خان واپس سبی جانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
'ہمارے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ ہم ٹرک کا واپسی کا کرایہ برداشت کر سکیں جو دس سے 12 ہزار روپے ہوتا ہے۔ اور واپس جا کر بھی کیا کریں گے۔ وہاں بھی مزدوری کرنا ہے تو اس سے بہتر یہی پر ٹھیک ہے۔‘
گل حسن اور دیگر افراد کو واپس اس لیے بھی جانا پڑا کہ ان کے بچے سبی سکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ خود فاقہ بھی کر لیتے ہیں تاہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کے بچوں کی تعلیم نہ رُکے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے محنت مزدوری سے بچ سکیں۔
تاہم جس طرح انھیں یہ معلوم نہیں کہ آنے والے برسوں میں موسم کیا کروٹ بدلے گا، انھیں نہیں پتہ کہ وہ کب تک اپنے بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھا پائیں گے۔ وہ اس دن سے خوفزدہ ہیں جب انھیں اپنا آبائی علاقہ مستقل چھوڑنا پڑ جائے جہاں کئی پشتوں سے ان کے خاندان آباد تھے۔













