تحریک لبیک کے کارکنوں کو جی ٹی روڈ سے ہٹنے مگر معاہدے پر عملدرآمد تک وزیرآباد میں رُکنے کی ہدایت

MUFTI MUNEEB

،تصویر کا ذریعہTV SCREEN GRAB

حکومت اور کالعدم جماعت تحریک لبیک کے مابین ہونے والے معاہدے کا اعلان کرنے والے مفتی منیب الرحمن کا کہنا ہے معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے بنائی جانے والی سٹیئرنگ کمیٹی کا دوسرا اجلاس آج (پیر) ہو گا اور جب تک تحریک لبیک کی مرکزی شوریٰ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان نہ کر دے تب تک دھرنے کے شرکا اپنی جگہ موجود رہیں۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ معاہدہ پرانے معاہدوں جیسوں نہیں ہو گا جس پر دن کی روشنی میں سائن کیے جائیں مگر رات کو حکومتی اہلکار کہہ دیں کہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ’ہم معاہدے کر کے چین کی نیند نہیں سو جائیں گے بلکہ اس کی چوکیداری کریں گے۔ یہ سفر کا آغاز ہے اختتام نہیں ہے۔‘

یاد رہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان اور وفاقی حکومت کے مابین تحریکِ لبیک کے لانگ مارچ کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کے اراکین نے اتوار کی سہ پہر پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان معاہدہ طے پا چکا ہے تاہم معاہدے کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں تھیں۔

گذشتہ رات مفتی منیب نے دھرنے کے مقام کا دورہ کیا تھا اور وہاں شرکا سے خطاب کیا۔

گذشتہ روز ہونے والی اس پریس کانفرنس کے بعد جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے جن راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا تھا انھیں ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ تاہم پنجاب کے شہر وزیرآباد، جہاں مارچ کے شرکا فی الحال موجود ہیں‘ وہاں اب بھی کنٹینرز اور رکاوٹیں موجود ہیں۔

جبکہ صحافی احتشام شامی کے مطابق وزیرآباد میں موجود کالعدم تحریک لبیک کی مرکزی شوریٰ کی جانب سے لانگ مارچ کے شرکا کو جی ٹی روڈ خالی کرنے کا حکم دیتے ہوئے جی ٹی روڈ کے ملحقہ حامد ناصر چٹھہ پارک میں منتقل ہونے کو کہا ہے۔

تاہم مرکزی شوریٰ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں موجود مطالبات پورے ہونے تک لانگ مارچ بدستور وزیرآباد میں ہی رہے گا۔

ٹی ایل پی لانگ مارچ

صحافی احتشام شامی کے مطابق وسطی پنجاب کے شہر وزیرآباد میں کالعدم مذہبی تنظیم تحریک لبیک کے کارکنوں کا لانگ مارچ آج چوتھے روز بھی جی ٹی روڈ پر موجود ہے اور حکومت کے ساتھ معاہدہ طے پاجانے کے باوجود کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب تک معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو جاتا وہ وزیر آباد میں ہی موجود رہیں گے

ضلعی انتظامیہ کے مطابق وزیرآباد سٹی کے سرکاری اور پرائیویٹ سکول آج بھی بند رہیں گے جبکہ وزیرآباد کا گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سے زمینی رابطہ تاحال منقطع ہے۔ وزیرآباد کے تمام تھانوں سمیت اہم سرکاری عمارات پر پر بدستور تالے لگے ہوئے ہیں جبکہ وزیرآباد بائی پاس سے چناب پُل تک تمام کاروباری مراکز مکمل بند ہیں۔

لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب کا مزید کہنا تھا کہ جب معاہدے میں طے شدہ 50 فیصد نکات پر عملدرآمد ہو گا اور باقی کے معاملات متحرک ہوں گے تو پھر ہم آگے چلنے کے لیے بات کریں گے۔

’چند دن کی بات ہے کہ آپ ایک آئینی قانونی سیاسی جماعت کی حیثیت سے میدان عمل میں نظر آئیں گے۔ کالعدم اور ممنوع جیسے الفاظ آپ کے نام سے کٹ جائیں گے۔ اس وقت بھی کالعدم علامتی ہے کیونکہ اس میں عدالتی عمل شامل نہیں تھا۔ یہ مسئلہ ایک ہفتے میں حل ہو سکتا ہے اس میں لمبا ٹائم نہیں لگے گا۔‘

مفتی منیب کا دھرنے کے شرکا کو کہنا تھا کہ ’آپ نے متحد رہنا ہے۔۔۔ آپ نے منظم رہنا ہے اور قیادت کی ہدایات پر عمل درآمد کرنا ہے۔ کیوں اور کیسے کا سوال نہیں کرنا بلکہ قیادت کی ہدایت پر عمل کرنا ہے۔ آپ نے بیٹھے رہنا ہے، قیادت جہاں کہے وہاں جانا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے (معاہدے کے تح) مراحل طے کر رکھے جنھیں مراحلہ وار حیثیت میں طے کیا جائے گا۔۔۔ کوئی ہمیں حب الوطنی نہ سکھائے کیونکہ ہم سے زیادہ حب الوطن ہم ہیں۔‘

مفتی منیب کا کہنا تھا کہ ’میں نے اہل اقتدار سے کہا ہے کہ میں نے اپنی ساٹھ سالہ دینی خدمات کو داؤ پر لگایا ہے مگر اگر اس میں کوئی خیانت ہوئی تو ہم اس سے زیادہ قوت سے سامنے آئیں گے۔۔۔ آپ یہاں رکے رہیں مگر جب کہا جائے گا کہ جی ٹی روڈ سے ہٹ جائیں تو آپ ذیلی سڑکوں پارکوں کی جانب جا سکتے ہیں۔

راولپنڈی اسلام آباد میں ایک سڑک کا منظر

،تصویر کا ذریعہEPA

انھوں نے کہا کہ ’جب ہم مطمئن ہوں گے اور مرکزی شوری کو سگنل دیں گے تو آپ کو مزید ہدایات جاری کر دی جائیں گی۔‘

انھوں نے شرکا سے کہا کہ ’آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کو کتنی بڑی فتح ملی ہے انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پریس کانفرنس دباؤ کے ماحول میں نہیں کی۔‘

یہ بھی پڑھیے

اگرچہ پریس کانفرنس کے دوران اور بعد میں مفتی منیب نے میڈیا کے سوالات کا واضح جواب نہیں دیا تھا تاہم دھرنے کے شرکا سے خطاب میں انھوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر حکومت نے مزید گرفتاریاں کیں تو یہ معاہدے کی حلاف ورزی سمجھی جائے گی۔

مفتی منیب نے کالعدم تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی سعد رضوی سے ملاقات ہوئی ہے اور ان کا عزم بلند ہے۔ تاہم مفتی منیب کے خطاب کے بعد دھرنے کی سرکردہ قیادت میں سے ایک نے اعلان کیا کہ یہ دھرنا ختم نہیں ہو گا، جاری رہے گا، جب تک قائد محترم رہا نہ ہو جائیں۔‘

گذشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران حکومت کی جانب سے تحریکِ لبیک کے ساتھ مذاکرات کے لیے بنائی گئی نئی کمیٹی کے اراکین وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پارلیمانی وزیر علی محمد خان اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ قومی سلامتی کے اجلاس نے مذاکرات کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا اور اسی مینڈیٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے مذاکرات کیے گئے۔

مذاکرات ختم ہونے کے بعد فلاحی تنظیم سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ مولانا بشیر احمد کو ایک سیل بند لفافے میں مبینہ طور پر معاہدے کی کاپی لے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

یاد رہے کہ کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان نے چند روز قبل لاہور سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا اور ان کے اہم مطالبات میں پاکستان سے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری اور تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی تھے۔ اتوار کی صبح تک کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا قافلہ وزیر آباد میں موجود تھا۔ نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزیرآباد میں موجود تحریک لبیک کے کارکنان کی تعداد کئی ہزار ہے۔

اس سے قبل تحریک لبیک کے ایک ترجمان امجد رضوی نے بتایا تھا کہ حکومت اور ان کی جماعت کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں حکومت نے ان کے مطالبات پر لچک دکھائی ہے جس میں فرانسیسی سفیر کا معاملہ بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ تحریک لبیک کی مجلس شوریٰ کے رکن پیر عنایت الحق شاہ کے مطابق مذاکرات میں حکومت کو تجویز دی گئی تھی کہ فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے بارے میں قومی اسمبلی کی جو کمیٹی بنائی ہے ان کے نام سامنے لائے جائیں اور یہ کمیٹی اس بارے میں جو بھی فیصلہ کرے گی وہ ان کی جماعت کو منظور ہوگا۔

کارکنوں کی اسلام آباد کی جانب پیش قدمی روکنے کے لیے دریائے چناب کے پُل پر ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پل کی اطراف لگی ہوئی دیواروں کو متعدد جگہوں سے توڑ کر وہاں کنٹینرز کھڑے کیے تھے۔ نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جو کنٹینرز خالی تھے ان میں نہ صرف مٹی بھری گئی بلکہ ان کے اردگرد لوہے کے سریے لگا کر انھیں پل کے سریوں کے ساتھ ویلڈ کیا گیا تاکہ انھیں اپنی جگہ سے آسانی سے ہٹایا نہ جا سکے۔

اسلام آباد اور لاہور کے درمیان جی ٹی روڈ پر سب سے بڑا پل دریائے جہلم کا پل ہے جس کے دونوں اطراف یہی عمل دہرایا گیا۔ اس کے علاوہ پل کے اوپر ہر 20 فٹ کے فاصلے پر بلاک رکھ کر ان کنٹینرز کو اس میں فکس کر کے اس پر پلستر بھی کیا گیا۔ مندرہ سے جہلم تک متعدد پلوں کی دیواروں کو توڑ کر وہاں پر کنٹینرز لگائے گئے تھے۔