نور مقدم قتل کیس: ’یہ عدالت مقدمے کے میرٹ کو نہیں دیکھ رہی تاہم عورت ہونے کی بنا پر ان کی ضمانت لے لیتے ہیں‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ نے سابق سفارتکار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواست ’عورت ہونے کی بنا پر‘ منظور کر لی ہے۔
سپریم کورٹ نے انھیں متعلقہ عدالت میں 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ عصمت آدم جی پر قتل کے جرم میں معاونت کا الزام ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے ضابطہ فوجداری میں ایسی ضمانت کے لیے گنجائش موجود ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کے روز ان دونوں شریک ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس مقدمے میں ملزمہ کا کردار ثانوی نوعیت کا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ’بظاہر والدہ کے جرم میں شامل ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔‘
عدالت نے اس مقدمے میں مرکزی ملزم کے والد ذاکر جعفر کی ضمانت کی درخواست کو بھی نمٹا دیا۔ ملزم کے وکیل کی جانب سے ضمانت کی درخواست واپس لینے پر یہ معاملہ نمٹایا گیا۔ ذاکر جعفر پر بھی جرم میں معاونت کا الزام ہے۔
ملزم ظاہر جعفر کے والدین نے چھ اکتوبر کو سپریم کورٹ میں اپنی ضمانت کے حوالے سے درخواستیں دائر کی تھیں۔ ستمبر کے اواخر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے شریک ملزمان عصمت آدم جی اور ذاکر جعفر کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
سپریم کورٹ کے ریمارکس
سپریم کورٹ نے یہ واضح کیا کہ ملزمہ عصمت آدم جی کو ضمانت مقدمے کی میرٹ کو دیکھتے ہوئے نہیں بلکہ عورت ہونے کی بنا پر دی جا رہی ہے۔
ضمانت کی ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت مقدمے کو میرٹ کو نہیں دیکھ رہی تاہم عورت ہونے کی بنا پر ان کی ضمانت لے لیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ نور مقدم قتل کے واقعے کے بارے میں بظاہر جتنا باپ جانتا تھا، اتنا ہی ماں جانتی تھی۔
انھوں نے کہا کہ نور مقدم کیس کے معاشرتی اثرات ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جسٹس منصور علی شاہ نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ اس مقدمے کا روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کر کے مکمل کریں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مرکزی ملزم کی والدہ عصمت آدم جی کو ضابطہ فوجداری کی شق 497 کی ذیلی شق ایک کے تحت ضمانت دی ہے اور اس قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر ملزم، خاتون یا بیمار ملزم کو ضمانت دی جا سکتی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کو اسلام اباد ہائی کورٹ سے ملنے والی ضمانت کو مسترد کروانے کے لیے جب نیب نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی تو اس وقت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے تھے کہ پاکستانی معاشرے میں کسی خاتون کو جیل میں رکھنا اچھا تصور نہیں کیا جاتا۔
’والد کو ضمانت نہیں دی جا سکتی‘
ملزمان کے وکیل خواجہ حارث احمد نے جب اپنے مؤکل ذاکر جعفر کی درخواست ضمانت پر دلائل دیے تو ایک موقع پر عدالت نے یہ واضح طور پر کہہ دیا کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد کو ضمانت دی نہیں جا سکتی کیونکہ ممکن ہے کہ وہ گواہان پر اثر انداز ہوں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اس درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے عدالت کوئی ایسے احکامات جاری کر دے جو کہ ان کے مؤکل کے لیے مشکلات کا باعث بنیں۔
عدالت کی طرف سے اس آبزرویشن کے بعد خواجہ حارث نے ذاکر جعفر کی ضمانت کی درخواست واپس لے لی۔
پیر کو ہونے والی سماعت کا احوال
ملزمان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وقوعہ کے روز اُن کے مؤکل اسلام آباد میں موجود ہی نہیں تھے۔
انھوں نے کہا کہ اگر ایک لمحے کے لیے فرض کر لیا جائے کہ ان کے مؤکلوں نے نور مقدم قتل کے بارے میں پولیس کو آگاہ نہیں کیا تو ایسے حالات میں بھی والدین پر جرم میں اعانت کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔

بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے ملزم ذاکر جعفر کی ضمانت کی درخواست پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’ممکن ہے کالز میں والد قتل کا کہہ رہے ہوں، یہ بھی ممکن ہے کہ وہ روک رہے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ بیٹا باپ کو سچ بتا ہی نہ رہا ہو۔‘
خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ عصمت آدم جی نے اس روز گھر میں موجود گارڈ کو دو کالز کی تھیں۔
اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی ملزم کی والدہ کی جانب سے کی جانے والی 11 کالز کا ریکارڈ موجود ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جائزہ لیں گے کہ پولیس کو بلانے کے بجائے تھراپی ورکس کے عملے کو بلانے کا کیوں کہا گیا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک سفاک قتل کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔
مدعی مقدمہ اور نور مقدم کے والد شوکت مقدم کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان دونوں ملزمان کے وقوعہ کے روز مرکزی ملزم کے ساتھ رابطے کے شواہد موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان دونوں کے زیر استعمال موبائل فون کے ریکارڈ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان کا وقوعہ کے روز ظاہر جعفر سے رابطہ تھا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا ملزم کی ذہنی حالت جانچنے کے لیے میڈیکل کروایا گیا ہے جس پر مدعی مقدمہ کے وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کا ’صرف منشیات کا ٹیسٹ کروایا گیا ہے۔‘
بینچ میں موجود جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ اگر ملزم انکار کرے تو ذہنی کیفیت نہیں دیکھی جاتی۔ انھوں نے کہا کہ ذہنی کیفیت کا سوال صرف اقرار جرم کی صورت میں اٹھتا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ نور مقدم قتل کے مقدمے کے ٹرائل کی کیا صورتحال ہے، جس پر وکیل مدعی شاہ خاور نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے متعلقہ عدالت کو آٹھ ہفتوں میں اس کا ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔
انھوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمان پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے متعلقہ عدالت کو آٹھ ہفتوں میں اس مقدمے کا ٹرائل مکمل کرنے کے بارے میں جو حکم دیا گیا ہے اس کو معطل کیا جائے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ضمانت کے مقدمے میں رائے دے کر عدالت ’پراسیکیوشن کے مقدمے کو تو ختم نہیں کر سکتی۔‘
خیال رہے کہ 14 اکتوبر کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اس کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت 12 ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔
اس کیس کے ملزمان میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی بھی شامل ہیں۔ دیگر ملزمان میں افتخار، جمیل، جان محمد کے علاوہ تھراپی ورکس کے طاہر ظہور سمیت چھ ملزمان پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران ظاہر جعفر نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پھانسی دے دیں یا معافی دے دیں۔ میں جیل میں نہیں رہ سکتا۔‘ انھوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ انھیں گھر میں قید کر دیں کیونکہ ملزم ظاہر جعفر نے دعویٰ کیا کہ جیل میں ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔
عدالت نے استغاثہ کو 20 اکتوبر کو گواہان پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔












