نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کے اعترافی بیانات پر مبنی پولیس چالان عدالت میں جمع کروا دیا گیا

نور مقدم
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد پولیس نے نور مقدم قتل کیس میں عدالت میں عبوری چالان جمع کروا دیا ہے جس کے مطابق ملزم نے اپنے والد کو قتل کی اطلاع دی تو اُنھوں نے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہمارے بندے آ رہے ہیں جو لاش ٹھکانے لگا کر اسے وہاں سے نکال لیں گے۔‘

سفارت کار شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کو اسلام آباد میں رواں سال 20 جولائی کی شام کو قتل کر دیا گیا تھا۔

اُن کے دوست ظاہر جعفر پر اس قتل کا الزام ہے جبکہ ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی بھی اعانتِ جرم کے الزام میں حراست میں ہیں۔

ظاہر جعفر کے والدین کی درخواستِ ضمانت مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد کی ایک عدالت نے کہا تھا کہ یہ ’ناقابلِ معافی‘ جرم ہے۔

اب اس کیس کی اگلی سماعت 23 ستمبر ہے جس پر عدالت نے تمام ملزمان بشمول اُن کو جن کی ضمانت ہو چکی ہے، انھیں طلب کر رکھا ہے۔

چالان میں مزید کیا کہا گیا؟

چالان پولیس کی وہ تفتیشی رپورٹ ہوتی ہے جو پولیس کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد عدالت میں جمع کروائی جاتی ہے۔

یہ چالان ابھی حتمی نہیں ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ وفاقی ادارہ تحقیقات (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے جب لیپ ٹاپ اور موبائل فونز کی فورینزک رپورٹ سامنے آئے گی تو ایک ضمنی چالان مزید داخل کروایا جائے گا۔

چالان رپورٹ کے مطابق ظاہر جعفر نے نور مقدم کے قتل کا اعتراف کیا ہے جبکہ ڈی این اے رپورٹ میں مقتولہ کے ریپ کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

نور مقدم

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نور مقدم نے ملزم ظاہر جعفر سے شادی سے انکار کیا تو ملزم نے اُنھیں زبردستی کمرے میں بند کر دیا اور اپنے چوکیدار سے کہا کہ وہ کسی کو بھی گھر کے اندر نہ آنے دیں۔

اس کے بعد ملزم نے نور کو قتل کر کے اُن کا سر دھڑ سے الگ کر کے اُن کا فون دوسرے کمرے میں چھپا دیا جو بعد میں ملزم کی ہی نشاندہی پر اسی گھر کی الماری سے برآمد ہوا۔

والدین کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟

پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر ملزم کے والد ذاکر جعفر پولیس کو بروقت اطلاع دے دیتے تو نور مقدم قتل ہونے سے بچ سکتی تھیں۔

پولیس کے مطابق ذاکر جعفر نے اس واقعے میں اپنے بیٹے کی مدد ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چالان میں ملزم کا بیان نقل کیا گیا ہے جس کے مطابق تھراپی ورکس کے امجد محمود کے ساتھ غلط فہمی میں جھگڑا ہوا اور تھراپی ورکس کے ملازمین نے ملزم کے اس فعل کو چھپانے اور شہادت ضائع کرنے کی کوشش کی۔

تھراپی ورکس کے زخمی ملازم امجد نے وقوعہ کا اندراج بھی نہیں کروایا اور طبی رپورٹ میں سڑک پر حادثے کو اپنے زخموں کی وجہ قرار دیا۔

پولیس کی عبوری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقتولہ واش روم سے چھلانگ لگا کر بھاگتی ہوئی گیٹ پر آئیں تو چوکیدار نے اُنھیں بھاگنے نہیں دیا اور مالی جان محمد نے بھی اُنھیں گیٹ نہیں کھولنے دیا۔

پولیس کا مؤقف ہے کہ اگر مالی نے اُنھیں گیٹ کھولنے دیا ہوتا تو نور مقدم باہر جا سکتی تھیں۔

نور مقدم

چالان میں مزید بتایا گیا ہے کہ نور مقدم میں زہر یا نشے کے اثرات نہیں پائے گئے ہیں جبکہ ملزمان کے ڈی این اے، مقتولہ اور ملزمان کے فونز اور لیپ ٹاپس کے فورنزک تجزیے کے نتائج اب بھی آنے باقی ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزم نے 19 جولائی کو امریکہ جانے کے لیے فلائٹ بک کروا رکھی تھی تاہم اُنھوں نے سفر نہیں کیا۔

پولیس نے کس کس کو گواہ بنایا ہے؟

پولیس رپورٹ کے مطابق اس مقدمے میں 12 ملزمان کے خلاف ثبوت دستیاب ہیں اور چالان میں اُن کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ پولیس نے 18 گواہوں کی فہرست عدالت میں جمع کروائی ہے جس میں مدعی شوکت مقدم، تفتیشی انسپکٹر عبدالستار، نور مقدم کا پوسٹ مارٹم اور طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹرز، پولی کلینک ہسپتال کی ڈاکٹر شازیہ اور ڈاکٹر جہاں زیب، جائے وقوعہ سے انگلیوں کے نشانات اکٹھے کرنے والے اے ایس آئی بشارت حسین اور ظاہر جعفر کو قابو کرنے والے اے ایس آئی محمد زبیر مظہر شامل ہیں۔