نور مقدم کیس: مقامی اینکر پر زیرِ تفتیش کیس کا ڈیٹا نشر کرنے اور مقتولہ کی ’کردار کشی‘ کا الزام، سوشل میڈیا پر بحث

نور مقدم
    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’دیکھا ہم نہ کہتے تھے عورت خود ہی ہر مسئلے کی جڑ ہے‘۔

’وکٹم بلیمنگ‘ یا زیادتی کا شکار ہونے والے فرد کو ہی موردِالزام ٹھہرانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔۔۔ زیادہ پیچھے نہیں جاتے، گذشتہ برس موٹروے ریپ کیس کے وقت عام عوام تو ایک طرف اس کیس کی تفتیش کرنے والے سی سی پی لاہور عمر شیخ نے اجتماعی ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کے متعلق کہا تھا ’تین بچوں کی ماں اکیلی رات گئے اپنے گھر سے اپنی گاڑی میں نکلے تو اسے سیدھا راستہ لینا چاہیے ناں؟ اور یہ بھی چیک کرنا چاہیے کہ گاڑی میں پٹرول پورا ہے بھی یا نہیں۔۔۔‘

نور مقدم قتل کے بعد بھی کچھ ایسی ہی بحث ہوتی نظر آتی ہے۔

پاکستان میں گذشتہ روز سے نجی ٹیلیویژن چینل جی این این کے ایک اینکر عمران ریاض خان کا ایسا ہی کلپ وائرل ہے جس میں انھوں نے بظاہر نور مقدم کے فون سے حاصل ہونے والی معلومات عام کیں جسے مقتولہ کی 'کردار کشی' قرار دیا جا رہا ہے۔

یوٹیوب چینل پر ایک ہفتہ قبل پوسٹ کیے گئے اس وی لاگ سے عمران ریاض بظاہر صدف کنول کے متنازعہ بیان پر ان کے خلاف بولنے والوں پر تنقید سے لے کر پاکستانی فیمینسٹ، میرا جسم میرا مرضی کا حق مانگنے والی خواتین، اسلام آباد میں قائد کی تصویر کے نیچے ہونے والے فوٹو شوٹ سے لے کر نور مقدم کیس تک۔۔۔۔ ہر معاملے پر ’بطور صحافی خبر دینے کے بجائے‘ اپنی ’ذاتی رائے‘ دیتے نظر آتے ہیں جو خواتین کے حوالے سے انتہائی متعصبانہ ہے۔

zahir zakir

اینکر عمران ریاض کے اس کلپ پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔۔۔ مقتولہ نور مقدم کے اپنے والدین کے ساتھ کیسے تعلقات تھے۔۔۔ انھوں نے اپنے والدین کو کتنی کالیں یا ٹیکسٹ میسج کیے۔۔۔۔ بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ یہ سب معلومات اول تو زیِر تفتیش مقدمے سے متعلق ہیں، انھیں میڈیا پر شئیر کرنا جرم ہے۔۔۔۔ دوم نور اور ان والدین کے ذاتی تعلقات جیسے بھی ہوں، یہ نور کے قتل کا جواز فراہم نہیں کرتے۔

سوشل میڈیا پر ان کے خلاف تنقید کا نقطہ یہ ہے کہ مذکورہ اینکر زیِر تفتیش معلومات کو استعمال کرتے ہوئے، مقتولہ کی کردار کشی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے نظر آئے۔

عمران ریاض کے کلپ پر رائے دیتے ہوئے صحافی زیب النسا برکی کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی ناگوار اور خطرناک ہے اور اسے رپورٹ کیا جانا چاہیے۔‘

پاکستان میں خواتین کے لیے موجودہ ماحول کو ’تاریک دور‘ قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ سوچ ہے جس کے خلاف پاکستانی عورتیں لڑ رہی ہیں۔

zburki

،تصویر کا ذریعہ@zburki

رابعہ محمود نے تبصرہ کیا ’مذہبی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے ایک صحافی کا مرد کے تشدد کا شکار خواتین کے خلاف خطرناک بیانیہ۔ یہ متاثرین پر الزام تراشی سے کہیں بڑھ کر ہے۔۔۔ عمران ریاض سے پوچھنا چاہیے کہ وہ اپنے شوہروں، والد اور بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والی خواتین کے متعلق کیا کہیں گے۔‘

سلمان صوفی نے ٹی وی اینکر کی اس حرکت کو ’جرم‘ جبکہ صحافی ابصا کومل نے اسے ’غیر ذمہ دارآنہ صحافت‘ کا نام دیا ہے۔

اسی حوالے سے صحافی اور اینکر منصور علی خان نے یو این ویمن کا ایک کلپ شئیر کیا ہے جس پر درج ہے ’آئیے متاثرین پر الزام تراشی والے بیانیے کو بدلتے ہیں اور زبان کی طاقت کو بچ جانے والوں کی خدمت کے لیے استعمال کریں نہ کہ مجرموں کے فائدے کے لیے۔‘

ساتھ ہی منصور نے ’مرد نے اس عورت کو مار دیا جس نے اپنے والد کو صرف تین مرتبہ ٹیکسٹ پیغام بھیجا‘ والی ہیڈ لائن کو مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ اس خبر کو اس طرح لکھا جانا چاہیے ’مرد نے عورت کا قتل کر دیا‘۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

شانزے کا کہنا ہے کہ ’مرد کے ہاتھوں عورت کے قتل کو جائز ثابت کرنے کے لیے ہم بحیثیت قوم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ اسلام والا سیاق و سباق صرف عورت پر ہی نہیں مرد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے اس کیس میں مرد کی اتنی بڑی غلطی نظر نہیں آ رہی اور اس کی حمایت میں عورت کو مارا جا رہا ہے۔‘

کچھ افراد سوشل میڈیا پر اپنے والدین کے ساتھ تعلقات اور ٹیکسٹ پیغامات کے جواب نہ دینے کی وجوہات بھی شیئر کرتے نظر آئے۔

جیو نیوز کے اینکر عبداللہ سلطان نے اپنے اور اپنے والدین کے درمیان تعلقات کے متعلق بتایا کہ ’میرے والدین میرے ساتھ رہتے ہیں، میں ان سے بہت پیار کرتا ہوں اور اور ہم روزانہ گھنٹوں باتیں کرتے ہیں اس لیے ٹیکسٹ پیغامات کی نوبت ہی نہیں آتی۔۔۔ اور میری والدہ تو اکثر واٹس ایپ پر آنے والے پیغامات مجھے بھیجتی ہیں جن کا میں شاذونادر ہی جواب دیتا ہوں۔‘

یہ سب بتانے کے بعد عبداللہ پوچھتے ہیں ’کیا اس کا مطلب ہے کہ میں ایک برا مسلمان ہوں؟‘

@abdullahsultan

،تصویر کا ذریعہ@abdullahsultan

تاہم کئی افراد عمران ریاض کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے ان کا دفاع کرتے بھی نظر آئے۔

عاطف علی سید نے لکھا ’وہ غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کے تعلقات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ آپ ان سے اتفاق یا اختلاف کرسکتے ہیں لیکن ان سے اظہارِ رائے کا حق نہیں چھین سکتے۔

سید رضوان نامی صارف نے عمران ریاض پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے لکھا ’وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو بات وہ کر رہے ہیں اسے سمجھنے کے لیے آپ کا دماغ بہت چھوٹا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر جہاں یہ بحث طول پکڑتی نظر آ رہی ہے وہیں کئی افراد مقتولہ کے خاندان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی بھی کر رہے کہ انھیں اپنی بیٹی کھونے کے بعد اس طرح کی باتیں بھی سننی پڑ رہی ہیں اور میڈیا ٹرائل سے بھی گزرنا پڑ رہا ہے۔

علی

،تصویر کا ذریعہ@aliatifsaeed

قانون کیا کہتا ہے ؟

ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی وکیل نگہت داد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ ایک صحافی نے یہ کال ڈیٹا کہاں سے حاصل کیا؟'

وہ کہتی ہیں کہ کسی بھی شخص کے ذاتی ڈیٹا کو اس کی اجازت کے بغیر حاصل نہیں کیا سکتا اور ٹیلی کام کمپنیوں کی پالیسی میں ہر صارف کے ڈیٹا کی حفاظت کرنا شامل ہے ’ایسی صورت (نور مقدم قتل کیس) میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ڈیٹا کو تفتیش کے مقصد کے لیے حاصل کر سکتے ہیں تاکہ جرم سے متعلقہ حالات اور اس میں ملوث لوگوں کو سمجھ سکیں۔‘

’پولیس کے پاس ڈیٹا آنے کے بعد ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ چاہے وہ ملزم ہے یا متاثرہ شخص، دونوں صورتوں میں ڈیٹا کی رازداری برقرار رہنی چاہیے اور اسے صرف اور صرف تفتیش کی غرض سے ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔

ان کے مطابق اس (کال ڈیٹا) تک رسائی اور استعمال صرف وہی افراد کر سکتے ہیں جو اس کیس کا حصہ ہوں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس اینکر نے یہ ڈیٹا قانونی طریقے سے حاصل کیا؟

نگہت داد کہتی ہیں کہ کال ڈیٹا تفتیش کے دوران استعمال ہونے والی معلومات کا ایک اہم حصہ ہے اور پورا کیس سمجھنے کے لیے اسے دوسرے شواہد کے ساتھ جوڑ کر اسی تناظر میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'شواہد میں سے اس طرح کسی ایک ٹکڑے کو اٹھا کر میڈیا ٹرائل کرنے میں مسئلہ یہ ہے کہ تبصرے کرنے والوں کو تمام ثبوتوں تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ کسی بھی متاثرہ شخص کے اعمال، کال ڈیٹا، اس کا اٹھنا بیٹھنا کن لوگوں کے ساتھ تھا۔۔۔ آپ ان سب معلومات کو الزام تراشی کے لیے ہتھیار بنا کر استعمال نہیں کر سکتے۔'

وہ کہتی ہیں کہ قانونی طور پر کسی مقدمے کے دوران متاثرہ شخص کے کردار پر بات نہیں کی جاسکتی لیکن بدقسمتی سے اس قسم کے رویے ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ عام ہیں۔

نگہت کہتی ہیں کہ 'ایک صحافی کے طور پر ان (عمران ریاض) کا کام صرف خبر پہنچانا تھا لیکن ایک تو انھوں نے صارفین کی ذاتی معلومات تک رسائی کے قانون کی خلاف ورزی کی دوسرا انھوں نے صحافت کے اصولوں کی بھی پاسداری نہیں کی اور اپنے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ابھی یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن اس طرح سے وی لاگ میں کال ڈیٹا شئیر کرکے انھوں نے سنسنی پھیلانے کی کوشش کی ہے اور میڈیا پر معلومات شیئر کر کے وہ عوامی رائے تبدیل کرنے اور بحث کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

'اس طرح کے کیسوں میں (چاہے معلومات صحیح بھی ہوں لیکن اس سے معاشرے پر برا اثر پڑتا ہو) اگر آپ خبر کو سنسنی کے انداز میں غلط رخ دے کر اپنے نظریے کی حمایت میں پیش کریں اور میڈیا پر ہائپ کریٹ کرنے کی کوشش کی جائِے تو آن لائن اور آف لائن مظاہرے شروع ہو جاتے ہیں اور عدالتوں پر بھی پریشر بڑھتا ہے۔'

کیا عدالت انھیں کوئی نوٹس جاری کر سکتی ہے؟

نگہت کہتی ہیں کہ ہمارے میڈیا میں عدالت یا پولیس کے سامنے جاری مقدمات پر تبصرے اور تجزیے عام ہیں، چاہے وہ سپریم کورٹ کے مقدمات ہوں یا نیب کے۔

ان کا کہنا ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کچھ مقدمات میں کچھ خاص قسم کے تبصروں کی اجازت دی جانی چاہیے، پھر چاہے وہ زیر سماعت ہی کیوں نہ ہوں تاہم اگر یہ تبصرے کسی مقدمے کی منصفانہ کارروائی میں مداخلت کا سبب بنیں تو اس صورت میں عدالت نے تبصروں اور رپورٹنگ کی اجازت نہیں دی۔

نگہت نے بتایا کہ سنہ 2018 میں سپریم کورٹ نے (سو موٹو کیس نمبر 28/2018) میں کہا تھا کہ عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کے حوالے سے تبصرے جج کے ذہن میں تعصب پیدا کرنے یا عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے کا سبب نہیں بننے چاہیے۔ عدالت نے پیمرا کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ زیرِ سماعت مقدمات پر رپورٹنگ کے لیے قواعد بنائے۔

تاہم وہ کہتی ہیں کہ اظہار رائے اور معلومات کی آزادی کے حق کے ساتھ ان پابندیوں کو کیسے متوازن بنایا جا سکتا ہے، یہ زیادہ واضح نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران ریاض کے خلاف عدالت تو شاید کوئی نوٹس نہ لے سکے لیکن پیمرا میں شکایت کی جاسکتی ہے اور نور کے والدین اپنی بیٹی کی کردار کشی کے لیے پیکا کا استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی اے میں شکایت کر سکتے ہیں۔

یاد رہے عدالت میں زیِر بحث مقدمات پر ٹی وی شوز میں بحث کے حوالے سے سنہ 2018 میں جسٹس ثاقب نثار کا ایک سو موٹو عدالتی معاملات پر قانونی پوزیشن واضح کرتا ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی زیرِ سماعت مقدمے کے حوالے سے بحث کو نشر کیا جا سکتا ہے لیکن صرف اس حد تک کہ اس کا مقصد عوام کو معلومات فراہم کرنا ہو۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ عدالت میں زیِر سماعت مقدمے کے ممکنہ انجام کے متعلق کسی بھی طرح کا تبصرہ، رائے یا تجاویز سمیت کوئی بھی ایسا مواد نشر نہیں کیا جائے گا جو عدالت یا ٹریبیونل کی کارروائی کو متاثر کر سکے۔

عدالتی کاروائی، پولیس ریکارڈ اور دیگر ذرائع پر مبنی مواد کو اس حد تک نشر کرنے کی اجازت دی جاتی ہے کہ وہ منصفانہ اور درست انداز میں رپورٹ کیے جائیں، کسی بھی پروگرام میں ایسی کوئی خبر شئیر یا بحث نہیں کی جانی چاہیے جو انکوائری، تفتیش یا مقدمے کی سماعت کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بن سکے۔

پولیس کا مؤقف: حساس نوعیت کا معاملہ ہے، ڈیٹا کو پبلک نہیں کیا جا سکتا

نور مقدم کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ اس مقدمے کی تفتیش کے دوران پولیس نے ملزم ظاہر جعفر اور مقتولہ نور مقدم کے زیر استعمال ٹیلی فون کا جو ڈیٹا حاصل کیا ہے وہ اس مقدمے کی تفتیش کا اہم حصہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے جس کو کسی طور پر بھی پبلک نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر اس معلومات کو پبلک کرنا ہوتا تو تو پولیس نے جس روز ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کیا تھا اور اس کے قبضے سے اس کے زیر استعمال موبائیل فون اور مقتولہ کا موبائیل فون برآمد کیا تھا تو اسی وقت ہی پولیس کے افسران پریس کانفرنس کے ذریعے یہ بتا دیتے کہ ملزم اور مقتولہ کے کن کن سے رابطے تھے۔

اہلکار کے مطابق اس مقدمے کی عدالتی سماعت کے دوران بھی عدالت کو صرف ملزم ظاہر جعفر کے اپنے والدین کے ساتھ ہونے والے رابطوں کے بارے میں بتایا گیا ہے باقی ابھی تک جن دوسرے افراد سے ٹیلی فونک بات ہوئی تھی اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں بتایا گیا۔

لاہور، نور مقدم، احتجاج

ظاہر جعفر سمیت تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل

دوسری جانب پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نور مقدم قتل کیس میں نامزد تمام ملزمان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

منگل کو پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ فروغ نسیم کی صدارت میں قائم کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے نور مقدم قتل کیس کے تمام ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی منظوری دے دی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پہلے مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت دیگر ملزمان کے نام بلیک لسٹ میں شامل کر دیے گئے تھے تاہم اب انھیں ای سی ایل میں بھی ڈال دیا گیا ہے۔

ای سی ایل میں شامل ہونے والے ملزمان میں ظاہر جعفر اور ان کے والدین کے علاوہ دو گھریلو ملازمین کے نام شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کو ظاہر جعفر نے 20 جولائی کی شام اسلام آباد میں اپنے گھر پر قتل کر دیا تھا۔ پولیس نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو جائے وقوعہ سے گرفتار کیا تھا جبکہ اُن کے والدین کی گرفتاری 25 جولائی کو عمل میں آئی تھی۔

اس سے قبل پیر کو عدالت نے ملزم کے والدین کی جوڈیشل ریمانڈ میں بھی 23 اگست تک توسیع کر دی تھی اور توقع ہے کہ مرکزی ملزم کو اگلے ہفتے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

پانچ اگست کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔

ضمانت کی ان درخواستوں کو خارج کرنے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے ایڈشنل سیشن جج محمد سہیل نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم ظاہر ذاکر نے نور مقدم کا قتل کیا اور اس قتل کی تفتیش کے دوران مزید کردار سامنے آئے ہیں۔

ذاکر جعفر
،تصویر کا کیپشنمرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد کو عدالت میں لایا جا رہا ہے وہ اس کیس میں شریک ملزم ہیں

فیصلے میں لکھا گیا کہ ملزم ذاکر جعفر نے مرکزی ملزم کی مدد کی، جان بوجھ کر حقائق چھپائے اور پولیس کو واقعہ کی بروقت اطلاع نہیں دی جو کہ نتیجتاً مرکزی ملزم کو قتل کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ وقوعہ کے بعد شواہد چھپانے کی بھی کوشش کی گئی، ریکارڈ کے مطابق ملزم نے نور مقدم کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بہیمانہ قتل کیا اور ان کا سر دھڑ سے جدا کر دیا۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم اور اس کے والد کے درمیان کالز کے ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے ذاکر جعفر بھی جرم میں شریک ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ استغاثہ کے مطابق ملزم قتل کی واردات کے دوران اپنے بیٹے سے مسلسل رابطے میں تھے اور ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کو قتل میں شریک ثابت کرنے کے لیے ریکارڈ پر کافی مواد موجود ہے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا کوئی مواد ریکارڈ پر موجود نہیں ہے جو یہ ثابت کرتا ہو کہ ملزمان اور مدعی پارٹی میں کوئی دشمنی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا تھا کہ ان دونوں شریک ملزمان (والدین) نے سنگین نوعیت کے جرم میں معاونت کی اور وہ ضمانت کے غیر معمولی ریلیف کے مستحق نہیں ہیں۔