ڈاکٹر روتھ فاؤ: پاکستان میں جذام کے مریضوں کی ماں جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں

- مصنف, کریم الاسلام
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
’سمجھو مالک نے فرشتہ بھیجا تھا آسمان سے۔‘
’وہ ہمارے جینے کا سہارا تھیں۔‘
’وہ ہم غریبوں کی ماں تھیں۔‘
اگر آپ کا کراچی کے علاقے صدر میں واقع ’میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر‘ جانا ہوا ہو اور برآمدے میں گزرتے کسی شخص کو روک کر پوچھا ہو کہ ڈاکٹر روتھ فاؤ کون تھیں تو یقیناً آپ کو کچھ ایسے ہی جواب سُننے کو ملے ہوں گے۔
چھ دہائیوں قبل پاکستان میں جذام یا کوڑھ کے مریضوں کی حالت دگرگوں تھی۔ اِس بیماری کو ’لاعلاج‘ اور ’خدا کا عذاب‘ سمجھا جاتا تھا۔ لوگ سگے رشتے بھلا دیتے تھے۔ والدین اس مرض میں مبتلا اپنی سگی اولاد اور بچے ماں باپ کو پیٹھ پر بٹھا کر شہر سے باہر ویرانے میں چھوڑ آتے تھے۔
جذام کے مریضوں کی الگ بستیاں آباد تھیں جہاں کوڑھ میں مبتلا ہزاروں مریض غیر انسانی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ غلاظت اور گندگی کے بیچوں بیچ جھونپڑیوں میں آباد یہ لوگ بجلی، پانی اور علاج کی بنیادی سہولتوں سے محروم تھے۔ اُن کے جسم سے بہتا خون اور زخموں سے رِستی پیپ چوہوں کی غذا بنتی تھی۔
لیکن پھر ایک روز اتفاق سے جرمنی سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ نوجوان ڈاکٹر پاکستان آئیں اور جذام کے مریضوں کی حالتِ زار دیکھ کر اپنی بقیہ تمام تر زندگی دھتکارے اور ٹھکرائے ہوئے مریضوں کا علاج کرنے کا تہیہ کر لیا۔
اُس نوجوان ڈاکٹر کا نام روتھ فاؤ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

’دل سُن نہیں‘
65 سال کی گلّو چھوٹی سی تھیں جب پہلی بار جذام کے علاج کے لیے ڈاکٹر فاؤ کے پاس آئیں۔ آج بھی اُن کی محبوب ڈاکٹر فاؤ کا ذکر آئے تو وہ آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ پاتیں۔
’میں نے جب پہلی بار اُن کو دیکھا تھا تو وہ بالکل جوان تھیں۔ چھوٹی سی عمر تھی اُن کی۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ اِن مریضوں کا جسم سُن ہے اِن کا دل سُن نہیں۔ اِن کا دل نہیں دُکھنا چاہیے۔ ہم سب سے وہ بہت پیار کرتی تھیں۔‘
گلّو بتاتی ہیں کہ ’ہماری بیماری ایسی ہے کہ ہاتھ پیر خراب ہو جاتے ہیں یا چہرہ خراب ہو جاتا ہے۔ کوئی دیکھ کر منھ بناتا ہے یا کوئی بُری بات کہہ دیتا ہے، تو اُس وقت بہت دکھ ہوتا ہے۔‘
’لیکن ڈاکٹر فاؤ خیال رکھتی تھیں کہ ہمارا دل نا دُکھے۔ وہ ہمارے زخموں والے پاؤں اپنی گود میں رکھ کر چیک کیا کرتی تھیں۔ جو کام اُنھوں نے کیا وہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔ یہ جذبہ کسی کسی میں ہوتا ہے۔‘

انڈیا کا ویزا جو نہ ملا
سنہ 1929 میں جرمنی میں پیدا ہونے والی روتھ فاؤ نے دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں کے درمیان آنکھ کھولی تھی۔
وہ جرمنی سے فرانس گئیں اور وہاں طب کی تعلیم حاصل کی۔ پھر وہ ’ڈاٹرز آف دی ہولی ہارٹ آف میری‘ نامی کیتھولک تنظیم سے وابستہ ہو گئیں۔
سنہ 1960 میں سماجی خدمت کے لیے انھوں نے انڈیا جانے کا فیصلہ کیا لیکن ویزا کے مسائل کی وجہ سے اُنھیں پاکستان کے شہر کراچی میں رُکنا پڑا۔
کراچی میں قیام کے دوران اُنھیں میکلوڈ روڈ (اب آئی آئی چندریگر روڈ) پر جذام کے مریضوں کی بستی میں قائم عارضی کلینک کو دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ جذام کے مریضوں کی ابتر حالت سے اتنی متاثر ہوئیں کہ اُنھوں نے انڈیا جانے کا ارادہ ترک کر کے کراچی میں رُکنے کا فیصلہ کیا۔
کلینک سے ہسپتال تک
جلد ہی ڈاکٹر روتھ فاؤ نے عارضی ڈسپنسری کو مستقل کلینک کی شکل دی اور چند برسوں بعد کراچی کے علاقے صدر میں ’میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر‘ کی بنیاد رکھی۔ پچاس بیڈ پر مشتمل یہ ہسپتال آج بھی قائم ہے جہاں دوائیں، ٹیسٹ اور دیگر تمام سہولیات پہلے دن کی طرح آج بھی بالکل مفت ہیں۔
’میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر‘ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مارون فرانسس لوبو بتاتے ہیں کہ ادارہ ’جرمن لیپروسی ریلیف ایسوسی ایشن‘ کی معاونت اور صحت کے صوبائی محکموں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔
’اِس وقت ملک بھر اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 157 سینٹرز کام کر رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ ادارہ جذام کے مرض سے متعلق ڈاکٹروں اور طبی عملے کو تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔‘
’مریضوں کو ڈھونڈ کر لاتیں‘

صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد نواز کو دس اگست 2017 کا وہ دن آج بھی یاد ہے جب ڈاکٹر روتھ فاؤ کی وفات ہوئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اُس دن زندگی میں پہلی بار وہ دھاڑیں مار کر روئے تھے۔
’اگر وہ نہ ہوتیں تو ہمارے جیسے مریض سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہوتے۔ ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ یہ تو ڈاکٹر فاؤ تھیں جو گھروں سے جذام کے مریضوں کو لے کر آتی تھیں اور اُن کا علاج کرتی تھیں۔ وہ اُن کی مالی ضروریات جیسے گھر کا کرایہ، آنے جانے کا خرچ اور دیگر اخراجات بھی پورے کرتی تھیں۔‘
محمد نواز کے بقول یہ ڈاکٹر فاؤ کی کوششیں ہی تھیں کہ پاکستان میں لوگوں میں جذام کے مرض کے بارے میں غلط فہمیاں دور ہوئیں اور آگاہی میں اضافہ ہوا۔
’مریض پر جان نچھاور‘

خیبر پختونخوا کے 60 سالہ پیر علی شاہ تیرہ، چودہ سال کے تھے جب اُنھیں جذام ہوا۔ وہ ’میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر‘ آئے اور اپنا علاج کروایا۔ صحتیابی کے بعد وہ یہیں کے ہو کر رہ گئے اور ڈاکٹر روتھ فاؤ کے ذاتی خدمتگار بنے۔
ڈاکٹر رتھ فاؤ کے حوالے سے مزید پڑھیے
’میرا علاج ڈاکٹر فاؤ نے کیا۔ وہ مریض پر جان نچھاور کرتی تھیں، نہ دن دیکھتیں اور نہ رات۔ مریض کے اندر ان کی جان تھی۔ جب آخری دنوں میں وہ بہت بیمار تھیں تب بھی صرف مریضوں کے بارے میں ہی پوچھتی تھیں۔‘
پیر علی شاہ کہتے ہیں کہ ’ڈاکٹر فاؤ ایک عظیم انسان تھیں۔ لوگ جن مریضوں سے ڈرتے تھے وہ اُن کی خدمت کرتی تھیں۔ اُس کی بہت یاد آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری کوئی بہت عزیز چیز گم ہو گئی ہے۔‘
’اماں کے لیے کیا مشکل؟‘
ڈاکٹر روتھ فاؤ کا مشن تھا کہ پاکستان کے کونے کونے میں جذام کے مریضوں کے لیے سینٹرز بنائے جائیں تاکہ مریضوں کو علاج کی سہولیات باآسانی اُن کے گھر کے قریب مل سکیں۔
سنہ 1968 میں اُنھوں نے حکومتِ پاکستان کو ’نیشنل لیپروسی کنٹرول پروگرام‘ شروع کرنے کی طرف راغب کیا جس کے تحت ملک بھر میں جذام کے علاج کے مراکز قائم کیے گئے۔
ڈاکٹر فاؤ خود ملک کے چپے چپے میں گئیں اور جذام کے مریضوں کا علاج کیا۔ تھرپارکر کے ریگستان ہوں یا خیبرپختونخوا کے دشوارگزار پہاڑ، ملک کا کوئی علاقہ ایسا نہ تھا جہاں وہ نہ پہنچیں ہوں۔
جب پوچھا جاتا کہ ایک عورت ہونے کے ناطے قبائلی معاشرے میں آپ کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تو وہ ہنس کر جواب دیتیں ’اماں کے لیے کیا مشکل؟‘ وہ کہتی تھیں کہ لوگ جانتے ہیں کہ میں اُن کی مدد کرنے آئی ہوں اِس لیے وہ مخالفت کے بجائے میری ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔
’ماں چلی گئی‘
’میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر‘ میں گذشتہ 33 سال سے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ساتھ خدمات انجام دینے والی شہناز خان پہلے پہل علاج کی غرض سے یہاں لائی گئی تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اُن جیسا کوئی نہیں تھا۔ انھوں نے میرا جتنا خیال رکھا وہ میں بُھلا نہیں سکتی۔ ڈاکٹر فاؤ بہت نفیس خاتون تھیں۔ کام کے دوران بھی اگر ہم لوگوں سے کوئی غلطی ہو جاتی تو وہ ڈانٹتی نہیں تھیں بلکہ سمجھاتی تھیں۔‘
’جب اُن کا انتقال ہوا تو ایسا لگا جیسے میری ماں چلی گئی ہے۔ اُن کی یاد آج بھی آتی ہے۔ کبھی کبھی خواب میں بھی آ جاتی ہیں اور پیار کرتی ہیں۔‘
60 سالہ ذکیہ خاتون گذشتہ 35 سال سے مختلف اوقات میں جذام کے علاج کے لیے ڈاکٹر روتھ فاؤ کے قائم کیے گئے ہسپتال میں آتی رہی ہیں۔ ’جب ہم مریض پہلی بار آتے تھے تو اکثر گندے مندے ہوتے تھے۔ وہ ہی ہمیں صاف کرتی تھی اور ہمیں نئے کپڑے دیتی تھیں۔ اپنے گھر والے اتنا خیال نہیں کرتے جتنا وہ کرتی تھیں۔ ہمارا دکھ سُکھ کرتی تھیں۔‘

ذکیہ خاتون یاد کرتی ہیں کہ ایک بار رمضان کے دنوں میں ڈاکٹر فاؤ افطار کے وقت اُن کے پاس آئیں اور ساتھ روزہ کھولا۔ ذکیہ بتاتی ہیں کہ آج بھی جب کبھی وہ کراچی کے گورا قبرستان کے پاس سے گزرتی ہیں تو ڈاکٹر فاؤ کو دور سے سلام ضرور کرتی ہیں۔
’تم میرے بچے نہیں؟‘
ایران سے تعلق رکھنے والے شیر محمد سنہ 1981 میں پاکستان علاج کے لیے آئے تو تب وہ وہ یہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ڈاکٹر فاؤ نہیں ہوتیں تو وہ اور اُن جیسے بے شمار جذام کے مریض کسی جنگل یا ویران جزیرے میں پڑے ہوتے۔
’ہمارے اپنے گھر والے ہمارے پاس بیٹھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ ہم جو برتن استعمال کرتے تھے وہ توڑ دیا کرتے تھے۔ یہ عورت ہمارے گلاس میں پانی پیتی تھی۔ ہمارے ساتھ بیٹھتی تھی۔ ہمیں گلے لگاتی تھی۔ ہمیں کھانا کھلاتی تھی۔ ایک چمچ ہمارے منھ میں ڈالتی تھی تو ایک اپنے منھ میں ڈالتی تھی۔‘
شیر محمد یاد کرتے ہیں کہ کبھی کبھی ازراہِ مذاق وہ روتھ فاؤ سے پوچھا کرتے تھے کہ ’اماں آپ نے شادی کیوں نہیں کیا؟‘ تو وہ جواب دیتی تھیں کہ ’کیا تم لوگ میرے بچے نہیں ہو؟ کیا ضرورت ہے شادی کی؟‘
جذام کیا ہے؟

جذام کے مرض کے ماہر ڈاکٹر مطاہر ضیا کے مطابق جذام کی ابتدائی علامات میں جلد پر سفید یا ہلکے سرخ رنگ کے دھبے نمودار ہوتے ہیں جن میں چھونے کی حس ختم ہو جاتی ہے۔
’حساسیت کے ختم ہو جانے سے رگیں متاثر ہوتی ہیں جس سے جسم کے اعضا خاص طور پر ہاتھ، پیر اور چہرے کے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں۔ متاثرہ حصے کی حساسیت چلے جانے سے مریض مناسب دیکھ بھال نہیں کر پاتا اور اُن میں زخم بن جاتے ہیں۔ اکثر یہ زخم ٹھیک نہیں ہو پاتے اور ہڈیوں اور گوشت تک پہنچ جاتے ہیں۔‘
ڈاکٹر مطاہر کے مطابق اکثر مریض جذام کی ابتدائی علامات کو اہمیت نہیں دیتے اور ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے جس سے مرض بگڑ جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ مرض کی تشخیص بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ صرف تربیت یافتہ عملہ ہی معائنے اور جلد کے ٹیسٹ کے ذریعے جذام کا پتہ چلا سکتا ہے۔
ڈاکٹر مطاہر ضیا کے مطابق جذام قابلِ علاج مرض ہے جس کا علاج چھ ماہ سے ایک سال کے عرصے میں مکمل ہو جاتا ہے۔
’اگر وقت پر علاج شروع ہو جائے تو جسم کا کوئی حصہ خراب نہیں ہوتا۔ لیکن اگر ہاتھ پیر متاثر ہونا شروع ہو جائیں تو پھر مرض تو ختم ہو جاتا ہے لیکن معذوری تمام عمر رہتی ہے۔ بدقسمتی سے جذام کی کوئی ویکسین نہیں لہٰذا مرض کی علامات نمودار ہونے کے بعد ہی علاج شروع کیا جاتا ہے۔‘
مزید پڑھیے
ڈاکٹر مطاہر کے مطابق جذام کی بیماری سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اِس مرض سے متعلق غلط فہمیاں وقت کے ساتھ ساتھ بتدریج کم ہو رہی ہیں لیکن اب بھی کچھ علاقوں میں مریضوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں سنہ 1996 میں جذام پر قابو پا لیا گیا تھا۔ پاکستان اس خطے کا پہلا ملک تھا جس نے اِس مرض کو شکست دی۔ ’میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر‘ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مارون فرانسس لوبو کے مطابق ’یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جذام کا مرض پاکستان سے مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ اِس سطح پر پہنچنے میں ابھی چند دہائیاں اور لگ سکتی ہیں۔‘
ان کے مطابق اب بھی پاکستان میں ہر سال تین سو سے چار سو جذام کے نئے کیسز آ رہے ہیں جن میں سے چالیس فیصد تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کے خاندان میں پہلے بھی کسی کو یہ مرض ہوا تھا۔ نئے کیسز میں سے چالیس فیصد سندھ میں ہیں۔
مارون لوبو کے مطابق 1996 میں جذام پر قابو پانے کے بعد ’میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر‘ نے جذام کے ساتھ ساتھ ٹی بی اور آنکھوں کے امراض کا علاج بھی شروع کیا۔ اب یہ ادارہ ماں اور بچے کی صحت کے شعبے میں بھی خدمات انجام دے رہا ہے۔
دل کا ملک پاکستان

ڈاکٹر روتھ فاؤ کے ساتھی یاد کرتے ہیں کہ ایک بار کسی نے اُن سے کہا کہ آپ نے جذام کے خاتمے کے لیے اتنا کام کیا لیکن آپ کو بہت زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ تو روتھ فاؤ نے جواب دیا کہ میں وہاں کام کرتی ہوں جہاں کوئی نہیں جاتا اِسی لیے مجھے زیادہ لوگ نہیں جانتے۔
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان سے جذام کے خاتمے کا سہرا ڈاکٹر روتھ فاؤ کے ہی سر ہے۔ انھوں نے زندگی کی پانچ دہائیاں پاکستان میں جذام کے خاتمے کی جنگ لڑتے ہوئے گزار دیں۔
ڈاکٹر فاؤ کہا کرتی تھیں کہ اُن کی پیدائش کا ملک بےشک جرمنی ہے لیکن دل کا ملک پاکستان ہے اور اُن کا دل صرف پاکستان کے لیے ہی دھڑکتا ہے۔











