کوہستان میں پولیس اہلکار اور کم عمر لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ایلیٹ فورس کے ایک اہلکار سمیت ایک کم عمر لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔
پولیس اسٹیشن جلگوٹ کے مطابق مانسہرہ ایلیٹ فورس اہلکار قاسم شاہ اور ایک کم عمر لڑکی کے قتل کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے تاہم پولیس نے درج مقدمہ اور واقعہ کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا ہے۔ ایس ایچ او جلگوٹ سخاوت خان کے مطابق دونوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔ دونوں کے لواحقیقن قتل مقدمہ میں مدعی بننے کو تیار نہیں تھے۔ جس بنا پر پولیس نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کے دو ملزمان جو کہ مقتولہ کے بھائی اور والد ہیں موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔
قتل ہونے والے دونوں افراد کا تعلق ایک ہی قبیلے سے ہے اور دونوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ قریبی عزیز بھی تھے۔
مقامی پولیس سٹیشن نے تصدیق کی ہے کہ انھیں جمعرات کو یہ اطلاع ملی تھی کہ مانسہرہ ایلیٹ فورس میں خدمات انجام دینے والے اہلکار قاسم شاہ کو قتل کر دیا گیا ہے اور اسی دن اس علاقے میں ایک کم عمر لڑکی بھی قتل ہوئی ہے۔
اپر کوہستان کا وہ علاقہ جہاں یہ دونوں افراد قتل ہوئے وادی سُپٹ ایک دور دراز علاقہ ہے جہاں پر ٹرانسپورٹ کی زیادہ سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نفری روانہ کر دی گئی تھی پولیس پارٹی پیدل علاقے کی طرف روانہ ہوئی۔
اس سے قبل ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر داسو افتخار سواتی کا کہنا ہے کہ ’دہرے قتل‘ کا واقعہ پولیس کے نوٹس میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس واقعہ کی تفتیش میرٹ پر کرے گی اور ’ملوث افراد کسی بھی صورت میں بچ نہیں سکیں گے‘۔

واقعہ کب پیش آیا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وادی سپٹ سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ’دہرے قتل‘ کا واقعہ 27 جولائی کی دوپہر تقریباً تین بجے پیش آیا تھا۔ مقامی افراد کے مطابق مبینہ طور پر پہلے لڑکی کو اس کے گھر میں قتل کیا گیا اور اس کے بعد قاسم شاہ، جو کہ اپنے گاؤں میں کسی اور جگہ پر بیٹھے تھے، انھیں وہاں قتل کیا گیا۔
مقامی افراد کے مطابق مبینہ طور پر قاسم شاہ پر کلاشنکوف کی گولیوں کا پورا برسٹ فائر کیا گیا، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
مقامی لوگوں کے مطابق واقعے کے بعد قاتل نے وہاں پر اکٹھے ہونے والے لوگوں سے مبینہ طور پر کہا کہ قاسم شاہ ان کا ’چور‘ تھا۔
واضح رہے کوہستان میں ’چور‘ کی اصطلاح اُن کے لیے استعمال ہوتی ہے جن کا تعلق کسی بھی غیر محرم کے ساتھ ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق اس موقع پر مبینہ قاتل سے کہا گیا کہ اگر قاسم ’چور‘ تھا تو پھر کس کے ساتھ ’چور‘ ہوا اور وہ کہاں ہے تو مبینہ قاتل نے بتایا کہ وہ پہلے ہی اپنی بیٹی کو قتل کر چکا ہے۔
اس کی تصدیق قاسم کے رشتہ داروں اور مقامی لوگوں نے مبینہ قاتل کے گھر جا کر کی۔
مقامی لوگوں کے مطابق جب اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ مبینہ قاتل نے قاسم کو قتل کرنے سے پہلے اپنی بیٹی کو قتل کیا ہے تو قاسم کے رشتہ داروں نے خاموشی سے اپنی میت اٹھائی اور اس کا جنازہ واقعہ کے ایک دن بعد 28 جولائی کو ادا کیا گیا۔
واضح رہے کہ قاسم شاہ کے ایک بھائی کوہستان پولیس میں بحثیت کانسٹیبل خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا خاندان گرمیوں کے موسم میں وادی سپٹ منتقل ہو جاتا ہے جبکہ سردیوں میں جلکوٹ کے علاقے میں رہائش رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کوہستان میں ’چور‘ کیسے قرار دیا جاتا ہے؟
پختونخوا سول سوسائٹی نیٹ ورک کے صوبائی کوارڈنیٹر اور انسانی حقوق کے کارکن تیمور کمال کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ’کوہستان کا سب سے بڑا مسئلہ وہ قتل ہیں جو ’غیرت‘ کے نام پر کیے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پورے کوہستان میں ’چور‘ قرار دینے کا طریقہ ایک ہی طرح سے ہے۔ اس میں عموماً یہ ہوتا ہے کہ لڑکی کا والد، بھائی یا کوئی اور قریبی عزیز اپنی لڑکی اور کسی لڑکے کو ’چور‘ قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ مبینہ طور پر وادی سپٹ کے واقعے میں ہوا ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ ’چور‘ قرار دینے کے بعد سب سے پہلے وہ اپنی لڑکی کو قتل کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد لڑکے کو قتل کیا جاتا ہے۔ جب لڑکے کا قتل ہوتا ہے تو پھر لڑکے کے لواحقین پوچھتے ہیں کہ کیوں قتل کیا ہے تو ان کو بتایا جاتا ہے کہ ’لڑکا میرا چور تھا‘، یعنی مجرم تھا۔
جس پر لڑکے کے لواحقین پوچھتے ہیں کہ تو پھر لڑکی کدھر ہے۔ جس پر اگر لڑکی قتل ہوئی ہو تو لڑکے کے لواحقین کو لڑکی کی میت اور قتل ہونے کی تصدیق کروائی جاتی ہے۔ اس پر پھر کوستان معاملے کو آگے لے کر نہیں جایا جاتا۔ عموماً مقدمات بھی درج کروانے سے گریز کیا جاتا ہے۔
ممتاز قانون دان امان ایوب ایڈووکیٹ کے مطابق کوہستان میں ویڈیو سکینڈل کے منظرِ عام پر آنے سے پہلے تو پولیس میں ’غیرت‘ کے نام پر قتل کے واقعات کے مقدمات بھی درج نہیں ہوتے تھے۔ اور اگر مقدمات درج ہو بھی جائیں تو پولیس کو کوئی شہادتیں نہیں ملتی تھیں، جس کی وجہ سے لوگ عدالتوں سے بری ہو جاتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو سکینڈل کے بعد سے پولیس تک جب اس طرح کے واقعات کے حوالے سے اطلاعات آتی ہیں تو وہ مقدمات ضرور درج کرتی ہے۔ مگر پولیس کے لیے بھی سب سے بڑا مسئلہ عدالتوں میں ثابت کرنا ہوتا ہے۔
امان ایوب ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ جب کسی لڑکی اور لڑکے کو ’چور‘ قرار دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب لڑکی کے لواحقین کو ’دو قتل کرنے کا لائنس مل جاتا ہے‘۔
’چور قرار دینے کے لیے کوہستان میں کوئی ثبوت پیش کرنے، کوئی جرگہ منعقد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ بس اتنا کافی ہے کہ لڑکی اور لڑکے کو چور قرار دیا جائے۔ پہلے لڑکی کو قتل کیا جائے پھر لڑکے کو۔ لڑکی کا قتل تو آسان ہوتا ہے کیونکہ وہ بیچاری ویسے ہی گھر پر موجود ہوتی ہے۔‘
قاسم شاہ کے ساتھی کیا بتاتے ہیں؟
ایلیٹ فورس مانسہرہ میں خدمات انجام دینے والے قاسم شاہ کے ساتھیوں نے بتایا کہ قاسم شاہ 15 جولائی کو رخصت پر گئے تھے۔
اس دوران کشمیر انتخابات کے لیے ایلیٹ فورس کو فرائض ادا کرنے کا کہا گیا تو تمام فورس کے اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں، تاہم علاقہ دور دراز ہونے کی وجہ سے یہ اطلاع قاسم شاہ تک نہ پہنچ سکی جس بنا پر قاسم شاہ کو کاغذات میں 19 جولائی سے غیر حاضر قرار دیا گیا ہے۔
قاسم شاہ کے ساتھیوں کے مطابق انھیں بھی واقعے کی اطلاع منگل کو ایک نامعلوم فون کال پر دی گئی تھی۔ ساتھی اہلکاروں کے مطابق واقعے کے بعد انھوں نے قاسم شاہ کے بھائی سے، جو کوہستان پولیس میں کانسٹیبل کے فرائض انجام دے رہے ہیں، رابطہ کیا جنھوں نے واقعے کی تصدیق کی۔
ساتھی اہلکاروں کے مطابق علاقہ انتہائی دور دراز ہے اور اس وجہ سے وہ ابھی تک وہاں نہیں جا سکے۔
قاسم شاہ پہلے سے شادی شدہ تھے اور چار بچوں کے باپ تھے۔ وہ 2007 سے ایلیٹ فورس میں خدمات انجام دے رہے تھے۔











