دودو بھیل کی مبینہ تشدد سے ہلاکت: ’بھائی کا بدن جھلسا ہوا تھا اور جسم پر زخموں کے 19 نشانات تھے‘

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
محکمہ صحت سندھ کی جانب سے اینگرو کول پاور کمپنی کے گارڈز کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے ایک مزدور دودو بھیل کی عبوری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کے ڈیڈ باڈی پر زخموں کے 19 نشانات موجود تھے۔
عبوری رپورٹ میں موت کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے کیونکہ حکام کے مطابق انھیں ابھی ہسپتال سے مزید معلومات اور رپورٹس ملنے کا انتظار ہے۔
دودو بھیل کے بھائی نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے 33 سالہ بھائی کو چوری کے شبے میں کمپنی کے گارڈز نے مبینہ طور حراست میں لیا تھا اور انھیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے چند روز بعد وہ ہلاک ہو گئے تھے۔
مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے مزدور دودو بھیل کے اہلخانہ اور کمیونٹی کے لوگ گذشتہ کئی روز سے اس ہلاکت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور گذشتہ روز سندھ پولیس نے مظاہرین کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمے کا اندراج بھی کیا تھا۔
یاد رہے کہ سندھ اینگرو کول مائیننگ کمپنی کی جانب سے دودو بھیل کی ہلاکت کی تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے اس کیس میں نامزد ملزمان کو ملازمتوں سے معطل کر کے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
دوسری جانب لواحقین کے احتجاج اور ان کے خلاف سندھ حکومت کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے بھی گذشتہ روز اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ سیشن جج سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے جبکہ ڈی آئی جی میرپورخاص اور ایس ایس پی کو 13 جولائی کو عدالت میں حاضر ہونے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد سندھ حکومت نے بھی اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تین وزرا پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عبوری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق دودو بھیل کے جسم کے مختلف حصوں بشمول کندھوں، پیٹھ اور ٹانگوں پر زخموں کے نشان ہیں اور جب کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے لایا گیا تو وہ کسی حد تک خراب (سٹر) ہو چکی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دودو بھیل کون تھے؟

33 برس کے دودو بھیل تھر بلاک ٹو میں کوئلے سے بجلی بنانے والی کمپنی سندھ اینگرو کول مائنگ کے پاور پلانٹ کے قریبی گاؤں 'ابن جو تڑ' کے رہائشی تھے۔ دودو اینگرو پلانٹ میں ہاؤس کیپنگ کے شعبے میں کام کرتے تھے۔
دودو بھیل کے بھائی امام بھیل کے مطابق ان کے بھائی کو 30 ہزار روپے کے قریب تنخواہ ملتی تھی اور وہ گذشتہ تین ماہ سے پلانٹ میں ہی تھے اور اہلخانہ سے ٹیلیفون پر رابطے میں رہتے تھے۔ بھائی کے مطابق دودو نے تین ہفتے قبل گھر والوں کو بتایا تھا کہ وہ جلد گھر چھٹی پر آئیں گے۔
چوری کا الزام
امام بھیل نے دعویٰ کیا کہ کمپنی کے سکیورٹی اہلکاروں نے چند روز قبل اُن کے بھائی دودو بھیل سمیت اُن کے کزن مورو اور غفور کھوکھر نامی مزدور پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے سکریپ کی چوری کی ہے مگر ملزمان کی جانب سے انکار کے بعد انھیں قید کر لیا گیا۔
اینگرو کول کمپنی کا پلانٹ اور رہائشی علاقہ چار دیواری میں قائم ہے اور یہاں آمد و رفت کے لیے دو سے تین چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
امام بھیل کے مطابق اس واقعے کے بعد وہ کمپنی انتظامیہ، مقامی وڈیروں اور سیاست دانوں کے پاس مدد کے لیے گئے لیکن کسی نے بھی مدد نہیں کی، جس کے بعد انھوں نے مٹھی میں عدالت میں دودو بھیل اور مورو بھیل کی کمپنی میں گمشدگی کا مقدمہ دائر کیا۔
’جسم پر جھلسنے کے نشانات تھے‘
امام بھیل نے دعویٰ کیا کہ رہائی کے بعد وہ اپنے بھائی کو گاؤں لے کر گئے مگر وہ بہت کمزور نظر آ رہا تھا۔ 'جب اس کے کپڑے تبدیل کیے تو اس کا جسم جھلسا ہوا تھا، جلد اُتر چکی تھی، اسے بہت بے دردی کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔'
'ہم اس کو لے کر اسلام کوٹ ہسپتال پہنچے جہاں ڈاکٹرز نے کہا کہ اس کو ضلعی ہسپتال مٹھی لے جاؤ۔ وہاں ٹیسٹ کیے اور بتایا کہ ان کے گردے متاثر ہوئے ہیں، پھر حیدرآباد لے جانے کا کہا گیا مگر ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ میرے بھائی کے بچنے کے امکان کم ہیں۔'
دودو بھیل کو حیدرآباد سول ہسپتال میں گردوں کے وارڈ میں منتقل کیا گیا، جہاں انھیں خون کی بوتلیں بھی لگائی گئیں۔ امام بھیل نے بتایا کہ بھائی کی حالت میں بہتری نہیں آ رہی تھی جس کے بعد انھوں نے سینیئر ڈاکٹر سے پوچھا تو انھوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں مریض کو کراچی لے جانا چاہیے۔
اسی رات کو دودو بھیل گیارہ بجے وفات پا گئے۔ اہلخانہ نے میت سمیت دھرنا دے دیا جس میں اینگرو کمپنی میں ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے دیگر مزدور بھی شامل ہو گئے۔
وزیر اعلیٰ کے معاون برائے انسانی حقوق ویرجی کولہی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر انجنیئر گیان چند نے ابتدائی طور پر مظاہرین سے مذاکرات کیے اور کمپنی کے سکیورٹی چیف اور گارڈز کے خلاف تشدد اور قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔
ویرجی کولہی نے بی بی سی کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق دودو بھیل کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات تھے۔
پولیس کا لاٹھی چارج اور لواحقین پر دہشت گردی کا الزام

امام بھیل کا دعوی ہے کہ انھیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا لیکن پولیس اور کمپنی کی ملی بھگت سے ان کو محفوظ راستہ فراہم کیا گیا اور انھوں نے حفاظتی ضمانت حاصل کر لی، انھوں نے پولیس کی اس غفلت کے خلاف دوبارہ اسلام کوٹ میں احتجاج کیا، جس میں خواتین اور بچے بھی موجود تھے پولیس نے رات کو ہوائی فائرنگ کی، شیلنگ کی اور لوگوں کو زبردستی منتشر کیا۔
اسلام کوٹ تھانے میں مظاہرین پر انسداد دہشت گردی سے لے کر لاؤڈ سپیکر کے غیر قانونی استعمال کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ انھیں اطلاع تھی کہ یہ مظاہرین پیٹرول پمپ سمیت مختلف املاک پر حملے کریں گے، انھوں نے اپنے ساتھ پتھر اور ڈنڈے بھی اٹھا رکھے تھے، پولیس نے انھیں منشتر کرنے کے لیے شیلنگ کی، اس مقدمے کے بعد پولیس نے نو افراد کو حراست میں لے لیا۔
اس واقعے کے بعد سندھ اسمبلی میں جی ڈی اے کے رکن عبدالرزاق راہموں نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے مظلوموں کا ساتھ دینے کے بجائے ملزمان کا ساتھ دیا۔
حکام کا ایکشن
سندھ اینگرو کول مائیننگ کمپنی کی جانب سے دودو بھیل کی ہلاکت کی تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے نامزد ملزمان کو ملازمتوں سے معطل کر کے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
کمپنی نے سوشل میڈیا اور اخبارات میں تشہیر کر کے متاثرہ خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور ورثا کو مکمل تعاون، حمایت اور وسائل کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ ورثا کو ان کے اطمینان کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ مکمل انصاف اور شفافیت کو برقرار رکھتے ہوئے تحقیقاتی اداروں اور عدالتوں سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔
گذشتہ روز سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی دودو بھیل کمیونٹی کے احتجاج کا نوٹس لیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے متعلقہ سیشن جج سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈی آئی جی میرپورخاص اور ایس ایس پی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 13 جولائی کو عدالت میں حاضر ہوں۔
صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے توانائی، سیاحت اور ماحولیات کے وزرا پر مشتمل ایک تین رکنی وزارتی کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق یہ کمیٹی دودو بھیل کی ہلاکت کی انکوائری کر کے تین روز میں وزیراعلیٰ سندھ کو رپورٹ پیش کرے گی۔










