'استاد جی نہ مارو۔۔۔': لاہور کی ورکشاپ میں بچے پر تشدد کرنے والے کو سزا مل پائے گی؟

ہتھکڑیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو لاہور

لاہور میں مکینک کی ایک ورکشاپ کا منظر۔ ایک بھاری بھرکم جسامت کے مالک شخص کے سامنے ایک آٹھ سے دس سال کی عمر کے لگ بھگ چھوٹا بچہ زمین پر بیٹھا ہے۔ وہ شخص نیچے جھکتا ہے اور بچے کو گردن سے دبوچ کر آگے کو جھکا لیتا ہے۔

اس کے ہاتھ میں لوہے کی تار ہے جسے دہرا کر کے وہ اس تار کے تین چار وار بچے کی کمر پر کرتا ہے۔ بچے کی چیخیں بلند ہوتی ہیں اور وہ روتے ہوئے اس شخص سے رکنے کی التجا کرتا ہے۔ وہ نہیں رکتا۔ ایک لمحے کے تؤقف سے ایک بار پھر بچے کو دبوچ لیتا ہے اور مرتبہ زیادہ شدت سے اس کی کمر پر ضربیں لگاتا ہے۔

بچہ بلبلا اٹھتا ہے اور 'استاد جی نہ مارو۔ ہائے نہ مارو' کی التجا کرتا ہے۔ ایسے میں اس کے منہ پر تھپڑ پڑتا ہے۔ پاس ہی کسی دوسرے شخص کی آواز آتی ہے کہ 'چل بس کر دے۔' وہ شخص وہیں لوہے کی تار ہاتھ میں تھامے جارحانہ انداز میں کھڑا ہوتا ہے اور ویڈیو ختم ہو جاتی ہے۔

تقریباً 16 سیکنڈ کا یہ کلپ حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا جس کے بارے میں اندازہ تھا کہ یہ جگہ لاہور میں کہیں موجود تھی۔ لاہور پولیس کے سربراہ سی سی پی او غلام محمود ڈوگر نے پولیس کو اس شخص کو تلاش کرنے کی ہدایت دی۔

مزید پڑھیے:

لاہور کے علاقے شاہدرہ میں اس ورکشاپ کا سراغ لگا لیا گیا اور پولیس نے ویڈیو میں بچے کو تشدد کرتا نظر آنے والے محمد وقار نامی شخص کو گرفتار کر لیا۔ دورانِ تفتیش اس نے بتایا کہ اس نے بچے کو محض دیر سے کام پر آنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا۔

پولیس کی حراست میں دیے گئے ایک ویڈیو بیان میں محمد وقار بچے، اس کے والدین اور عوام سے معافی مانگتا ہوا نظر آیا۔ 'میں کوشش کروں گا کہ آئندہ کبھی مجھ سے ایسا کام نہ ہو۔' تاہم بچے پر بدترین نوعیت کا تشدد کرنے کی انھیں کیا سزا ملے گی، یہ واضح نہیں ہے۔

شاہدرہ ٹاؤن پولیس نے ورکشاپ کے محمد وقار کو گرفتار کرنے کے کئی گھنٹے کے بعد ان پر ایف آئی آر درج کی۔ اس ایف آئی آر میں بچے پر تشدد کے حوالے سے کوئی دفعہ نہیں لگائی گئی۔ ان کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔

خاکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ملزم کے خلاف بچے پر تشدد کا مقدمہ کیوں نہیں ہوا؟

شاہدرہ ٹاؤن پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ بھی یہ تھی کہ 'اس قسم کے حالات میں کام کرنے کی جگہوں پر بچوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات پر کوئی واضح قانون موجود نہیں تھا۔'

پولیس کے مطابق ان کے لیے ایک مسئلہ یہ تھا کہ محمد وقار کے خلاف کس قانون کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ 'پولیس نے تمام تر چائلد پروٹیکشن کا بھی جائزہ لیا لیکن اس میں بھی اس نوعیت کے تشدد کے حوالے سے کوئی شق موجود نہیں۔'

ایک پولیس اہلکار کے مطابق ایک تجویز یہ بھی تھی کہ ڈومیسٹک وائلنس یعنی گھریلو سطح پر تشدد کی روک تھام کے لیے موجود قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا جائے۔ لیکن، انھوں نے کہا کہ، اس میں بھی واضح طور پر کام کرنے کے مقام پر ایک کام کرنے والے بچے پر تشدد کے حوالے سے کوئی شق موجود نہیں تھی۔

خاکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پولیس نے اغوا کے مقدمے کا فیصلہ کیوں کیا؟

پولیس اہلکار کے مطابق اس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ملزم کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا جائے۔ بچے کے والد نے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا تھا کہ ان کا نو سے دس سالہ بیٹا 'کبھی کبھار' محمد وقاص کی ورکشاپ پر کام کرنے جایا کرتا تھا۔

انھوں نے پولیس کو بتایا کہ محمد وقاص نے نہ صرف ان کے بیٹے کو 'بدترین تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ وہ ایک روز گلی میں کھیل رہا تھا تو محمد وقاص نے میرے بیٹے کو اغوا کر لیا۔'

'اس نےمیرے بیٹے کو اپنی دکان میں بند کر لیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میرے پیسے پانچ ہزار روپے جو تم نے مجھ سے ادھار لیا تھا وہ واپس دو تو میں تمہارے بیٹے کو چھوڑ دیتا ہوں۔' ان کے اس بیان پر پولیس نے محمد وقاص کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کر لیا۔

'اغوا کے مقدمے میں ضمانت نہیں ہو سکتی'

لاہور پولیس کے لیگل ڈیپارٹمنٹ کے ڈی ایس پی لیگل محمد ارسلان نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اگر کسی چھوٹے بچے کو اغوا کیا گیا ہو تو اس کی سزا زیادہ ہوتی ہے اور ملزم کے لیے عدالت سے ضمانت حاحل کرنا مشکل ہوتا ہے۔'

تاہم انھوں نے بتایا کہ 'پاکستان میں کام کرنے کے مقامات پر بچوں کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے واضح قوانین بنانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔'

کیا ملزم پر چائلڈ لیبر کے قوانین کے تحت مقدمہ درج ہو سکتا تھا؟

ایڈووکیٹ عرفان احمد شیخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مخلتف شعبہ جات جیسا کہ فیکٹریوں، دکانوں اور دیگر اسے مقامات پر بچوں سے مشقت کروانے کے حوالے سے قوانین موجود ہیں جن میں مخلتف سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ 'چائیلڈ لیبر کروانے والے کو ایک سال قید یا 20 ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان قوانین میں وقت کے بدلتے تقاضوں کے مطابق ترامیم نہیں کی گئیں۔'

بچہ ورکشاپ پر مشقت کیوں کر رہا تھا؟

بچے کے والد عبدالرحمان سے یہ جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی کہ بچے سے ورکشاپ پر مشقت کیوں کروائی جا رہی تھی تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو پایا۔ ان کے فون سے جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔

یہ واضح نہیں تھا کہ پولیس نے اغوا کا مقدمہ درخواست گزار کے بیان پر درج کیا یا بچے کے والد نے اغوا کا مقدمہ درج کروانے کے لیے یہ بیان پولیس کو دیا۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ عدالت میں ملزم کے خلاف درج کیا گیا اغوا کا مقدمہ کتنا مضبوط ثابت ہوتا ہے۔