جنوبی وزیرستان کے علاقے ورسک میں پولیس کو ملزمان کو گھروں سے گرفتار کرنے کی مشروط اجازت

،تصویر کا ذریعہZabihullah Wazir
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں پولیس اہلکاروں کو گھروں میں چھپے ملزمان کو گھر کے اندر جا کر گرفتار کرنے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے۔
پولیس کو یہ اجازت جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں پولیس، قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماؤں کے تعاون سے منعقدہ ایک سیمنار میں تجاویز کے بعد دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ قبائلی اضلاع میں اگر ملزم اپنے گھر یا کسی بھی گھر کے اندر چھپ جائے تو وہاں پولیس کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ ملزم کو گھر کے اندر جا کر گرفتار کر سکے جس کی وجہ ’چادر اور چار دیواری کا تقدس‘ ہے۔
ان علاقوں میں لیڈی پولیس یعنی خواتین پولیس اہلکار نہیں ہیں جبکہ عدالت سے گھر کے اندر جا کر گرفتار کرنے کا اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے پولیس کو دوسرے ضلع میں جانا پڑتا ہے۔
اس علاقے میں پولیس کو بظاہر دو بڑے مسائل کا سامنا ہے، ایک منشیات فروشی اور دوسرا ذاتی دشمنی پر لوگوں کو قتل کر کے گھروں میں چھپ جانا، جس سے ملزمان قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مقامی رہنماؤں اور نمائندہ افراد کے ہمراہ گرفتاری کا فیصلہ فی الحال صرف ایک علاقے کے لیے ہے لیکن اس کا دائرہ کار دیگر علاقوں تک بھی پھیلایا جانا چاہیے۔
اعظم ورسک کا علاقہ پاک افغان سرحد سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہZabihullah Wazir
جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک کے پولیس تھانہ انچارج انسپکٹر زبیح اللہ وزیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ساری صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے علاقہ اعظم ورسک کے پولیس تھانے میں منعقدہ سیمینار میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ منشیات فروش یہ کاروبار ترک کر کے پولیس تھانے میں رپورٹ کریں دوسری صورت میں علاقے کے عمائدین انھیں ایسا کرنے پر مجبور کریں گے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ’اگر اس کے باوجود کوئی یہ کاروبار کرتے ہوئے پایا گیا تو ملزم کے والد، بھائی یا بیٹے اسے پولیس کے حوالے کریں گے اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو مقامی قبائلی رہنماؤں اور نوجوانوں کے ہمراہ پولیس کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ گھر کے اندر جا کر ملزم کو گرفتار کر سکے گی۔‘
زبیح اللہ وزیر کا کہنا تھا کہ ’اسی طرح بازار میں ایک کلومیٹر کے احاطے کے اندر اگر کسی نے ذاتی دشمنی کی بنا پر کسی کو قتل کر دیا تو اسے بھی اسی طرح پولیس کے حوالے کیا جائے گا یا پولیس مقامی لوگوں کے ہمراہ گھر پر چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کر سکے گی۔‘
تحصیل برمل کے تھانہ اعظم ورسک کے انچارج انسپکٹر زبیح اللہ وزیر کا کہنا تھا کہ ’علاقے کے تمام لوگوں کو بلایا تاکہ ان مسائل کے حل کے لیے تجاویز سامنے لائی جائیں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’علاقے میں منشیات استعمال کرنے والے افراد کو تو راستوں سے گرفتار کر لیا جاتا ہے لیکن ان کے پاس اتنی کم مقدار میں منشیات برآمد ہوتی ہے کہ اکثر عدالتیں انھیں جرمانہ کر کے چھوڑ دیتی ہیں لیکن جو بڑے ملزمان ہیں اور جو منشیات کا کاروبار کرتے ہیں وہ گھروں میں چھپ جاتے ہیں۔‘
’اسی طرح ذاتی دشمنی میں قتل کرنے والے ملزمان بھی سامنے نہیں آتے اور وہ اکثر ورادات کرنے کے بعد گھروں میں خواتین کی موجودگی کا فائدہ اٹھا کر چھپ جاتے ہیں کیونکہ خواتین کی وجہ سے پولیس گھروں کے اندر نہیں جا سکتی۔‘
’ایسا بھی ہوا ہے کہ پولیس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ ملزم کہاں چھپا ہوا ہے لیکن چادر اور چار دیواری کے تقدس کی خاطر پولیس اندر نہیں جا سکتی جس کا ملزمان فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘
علاقے کے لوگوں کا کیا کہنا ہے؟

،تصویر کا ذریعہZabihullah Wazir
قبائلی رہنما بھی علاقے میں منشیات کے کاروبار اور نوجوانوں کے نشے کی لت میں پڑنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک مقامی قبائلی رہنما ملک سعد اللہ خان کا کہنا ہے کہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہے اور اس کے لیے علاقے کے تمام لوگوں کو متحد ہونا پڑے گا۔
سیمنار سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ ’پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے حکام کی اجازت کے بغیر جنازہ بھی نہیں گزر سکتا اور اس علاقے میں منشیات پشاور یا اسلام آباد سے نہیں آتیں بلکہ افغانستان سے آتی ہیں اس لیے حکام کو اس کی کڑی نگرانی کرنا ہو گی۔‘
مقامی زمیندار فرمان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل برمل کے اس علاقے اعظم ورسک میں صورتحال سنگین ہے اور کم عمر نوجوان چرس، ہیروئن اور آئس جیسی منشیات کا آزادانہ استعمال کر رہے ہیں۔
انضمام سے پہلے کیا ہوتا تھا؟
ماضی میں یہ علاقے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے تھے اور یہاں ایف سی آر یعنی فرنٹیئر کرائم ریگولیشن قانون رائج تھا۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی ملزم مقامی انتظامیہ کو مطلوب ہوتا تھا تو مقامی لیویز اہلکار ملزم کے والد، بیٹے، بھائی یا کسی رشتہ دار کو حراست میں لے لیتے تھے جس پر ملزم اکثر اپنے آپ کو انتظامیہ کے حوالے کر دیتا تھا۔
اس قانون کو ’کالا قانون‘ کہا جاتا تھا جس کے تحت لمبے عرصے تک ایسے ملزمان جیلوں میں رکھے جاتے تھے اور ان کے مقدمات کی سماعت بھی نہیں ہوتی تھی۔
ایف سی آر یا فرنٹیئر کرائم ریگولیشن قبائلی علاقوں کا قانون تھا جو سب سے پہلے 1871 میں لاگو کیا گیا تھا جس کی مختصر سی دفعات تھیں لیکن 1901 میں اس میں مزید قانونی شقیں شامل کی گئیں اور جرائم کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا۔
اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں شقیں اور دفعات بڑھائی گئیں اور انضمام سے پہلے تک اس میں 60 سے زیادہ شقیں شامل کر دی گئی تھیں۔ اس قانون کی شق نمبر 40 کو زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا تھا۔










