ملک رئیس خان: قبائلی رہنما جن کے قتل کی فوج اور طالبان دونوں نے مذمت کی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Masood_yaar
- مصنف, عزیزالله خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
شمالی وزیرستان میں ایک قبائلی رہنما ملک رئیس خان کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں ہلاکت کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
اس واقعے کی مقامی افراد، سکیورٹی فورسز اور طالبان کی جانب سے بھی مذمت کی گئی ہے۔
اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں دو افراد کو ہلاک کر دیا ہے جن کے بارے میں متضاد اطلاعات آ رہی ہیں۔
دو روز پہلے میر علی میں نامعلوم افراد نے ایک قبائلی رہنما ملک رئیس خان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
پختون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ ملک رئیس خان ان کی جماعت کے متحدہ عرب امارات کے رہنما دیدار وزیر کے بڑے بھائی اور شمالی وزیرستان میں پی ٹی ایم کے سرگرم عہدیدار عید رحمان وزیر کے چچا تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ کارروائی کس نے کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسند دندناتے پھر رہے ہیں اور حالات انتہائی کشیدہ ہیں، جس سے یہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
صرف یہی نہیں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ایک بیان میں اس حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ملک رئیس خان کا کردار ’قوم اور قبیلے کے حوالے سے مثبت رہا ہے اس لیے انھیں نشانہ بنایا گیا ہے‘۔
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ اس کا بدلہ لیں گے۔
اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے ایک سرچ آپریشن میں دو افراد کو ہلاک کیا ہے۔ فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق دونوں افراد کو میر علی کے قریب ایک انٹیلیجنس پر کی گئی ایک کارروائی میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں افراد ملک رئیس خان کے قتل میں ملوث تھے۔
اس بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ افراد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ملک رئیس کے جنازے میں شرکت کے لیے آ رہے تھے۔
پی ٹی ایم کے سربراہ محسن داوڑ نے بتایا کہ چار افراد جنازے میں شرکت کے لیے آ رہے تھے جن میں دو ہلاک، ایک زخمی اور ایک کو سکیورٹی اہلکار ساتھ لے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ درست نہیں ہے کہ یہ افراد ملک رئیس کے قتل میں ملوث تھے بلکہ یہ افراد جنازے میں شرکت کے لیے آ رہے تھے‘۔ اس بارے میں شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر اپنا مؤقف دینے کے لیے دستیاب نہیں ہو سکے۔
شمالی وزیرستان کی پولیس نے بھی بار بار رابطہ کرنے کے باوجود کوئی مؤقف نہیں دیا۔
ملک رئیس خان کون تھے؟
شمالی وزیرستان میں قبائلی رہنماؤں کو پہلے بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے جن کے قتل کی مذمت کی گئی لیکن ملک رئیس خان ایسے خاموش ملک تھے جو زیادہ منظر عام پر نہیں آئے لیکن ان کی اہمیت کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔
ان کا تعلق تحصیل میر علی کے قریب خوشحالی گاؤں سے تھا اور وہ طوری خیل قبیلے کے سربراہ تھے۔
مقامی قبائل سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما ملک نثار علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے علاقے کے ’لوگوں کے مسائل حل کرنے اور جرگے منعقد کرنے میں ماہر تھے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک رئیس خان اس علاقے میں غیر متنازعہ شخصیت تھے اور انھوں نے ہمیشہ علاقے میں امن کے قیام کے لیے کام کیا ’اسی لیے انھیں راستے سے ہٹا دیا گیا ہے‘۔
نثار علی خان نے کہا کہ اس علاقے میں ایک مرتبہ پھر جنگ کے لیے میدان تیار کیا جا رہا ہے اور ایسے لوگوں کو نشانہ بنا کر حالات کشیدہ کرنے کی ایک کوشش نظر آتی ہے۔
شمالی وزیرستان میں 2014 کے آپریشن ضرب عضب سے پہلے حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے جو جرگہ بنا تھا ملک رئیس خان اس جرگے کا حصہ تھے۔
ملک رئیس خان نے اس سلسلے میں حکومتی اور طالبان کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی تھیں اور علاقے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کی تھیں۔
ملک رئیس خان کو اسی لیے دونوں جانب سے ایک غیر متازعہ شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
ملک رئیس خان بنیادی طور پر مقامی پولیس میں جسے خاصہ دار کہا جاتا ہے، صوبیدار کے طور پر تعینات رہے ہیں۔ مقامی صحافیوں نے بتایا کہ اگرچہ ان کی حیثیت اہم تھی لیکن وہ عام طور پر خاموش طبع رہے ہیں۔
وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ دھماکے اور حملے
شمالی اور جنوبی وزیرستان میں اس طرح کے تشدد کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ان دو قبائلی علاقوں میں گذشتہ دو ماہ کے دوران تشدد کے درجنوں واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان واقعات میں سکیورٹی فورسز پر حملے، عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اور دھماکے بھی شامل ہیں۔
شمالی وزیرستان کے بعض مقامی صحافیوں نے دو برس کے دوران ان واقعات کے اعداد و شمار اکٹھے کیے ہیں۔
ان مقامی صحافیوں کے مطابق رواں سال اب تک ٹارگٹ کلنگ کے 34 واقعات پیش آ چکے ہیں جس میں صرف عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز پر حملے اس کے علاوہ ہیں۔ اسی طرح ان صحافیوں کے مطابق گذشتہ سال شمالی وزیرستان میں 51 افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے تھے۔
قبائلی رہنما کیا کہتے ہیں؟
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج سے لگ بھگ چھ سال پہلے آپریشن ضرب عضب کے لیے اپنا وطن چھوڑا تھا تاکہ امن قائم ہو سکے لیکن ایک مرتبہ پھر علاقے میں بد امنی کی فضا پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔
شمالی وزیرستان کی صورتحال پر قبائلی رہنماؤں کے چار جرگے منعقد ہو چکے ہیں لیکن ان جرگوں سے اب تک کچھ حاصل نہیں ہوا بلکہ جرگے میں شامل رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
ان جرگوں کے نتیجے میں ایک کمیٹی قائم کی گئی جو حکومت سے رابطہ کرے گی اور علاقے میں تشدد کے واقعات کی روک تھام اور دیگر مسائل پر بات چیت کرے گی۔
ان جرگوں میں شامل قبائلی رہنما ملک خان مرجان نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں معاملات مشاورت سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کس سے مشاورت تو ان کا کہنا تھا کہ سب سے مشاورت، حکومت سے، لوگوں سے، فوج سے اور باقی سب سے بات چیت کرنی ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ ’طالبان بھی اپنے لوگ ہیں، وزیرستان کے لوگ ہیں، وہ کوئی پرائے نہیں ہیں، اس لیے ان سے مذاکرات کیے جائیں‘۔
ملک خان مرجان نے کہا کہ پہاڑوں پر جو لوگ گئے ہیں انھیں واپس لانا چاہیے اور اس بارے میں قبائلی رہنماؤں کو بھی ذمہ داری لینا ہوگی اور اس کے لیے حکومت اور فوج کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔
کیا شدت پسند پھر سے متحرک ہو گئے ہیں؟
شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب جون 2014 میں شروع کیا گیا تھا اور چند برسوں میں سکیورٹی فورسز نے متعدد کارروائیاں کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی وزیرستان کو شدت پسندوں سے مکمل صاف کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی کہا گیا کہ بڑی تعداد میں شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں اور دیگر فرار ہوئے ہیں۔ اس آپریشن کے دوران کوئی دس لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور آپریشن کے بعد انھیں واپس اپنے علاقوں میں لایا گیا۔
آپریشن ضرب عضب کے بعد کچھ عرصہ حالات بہتر رہے، لوگ معمول کی زندگی کی جانب واپس آنے لگے، کاروبار اور دیگر زندگی کی سرگرمیاں شروع ہوئیں لیکن پھر ایک ایک کر کے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات شروع ہوئے جو اب تک جاری ہیں۔
دفاعی امور کے ماہر تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ صرف شمالی وزیرستان میں حالات خراب ہوئے ہیں اور اس کی وجوہات مختلف ہیں جن میں ایک تو یہ ہے کہ شمالی وزیرستان کی افغانستان سے ملنے والی سرحد پر خار دار تاریں ابھی تک مکمل نہیں کی جا سکیں جس وجہ سے شدت پسند سرحد پار سے آ کر کارروائیاں کرتے ہیں اور فرار ہو جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ باقی قبائلی علاقوں میں حالات بہتر ہیں اور شمالی وزیرستان میں کوششیں کی جا رہی ہیں کہ امن قائم کیا جائے۔
بریگیڈیئر محمود شاہ نے بتایا کہ اب ایسے حالات نہیں ہیں کہ شدت پسند دوبارہ آ سکیں گے اور ناں ہی یہ شدت پُسند قبائلی علاقوں میں کہیں موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’جنوبی وزیرستان سے ایک رپورٹ یہ آئی ہے کہ کچھ شدت پسند ایک گھر گئے اور وہاں سے کھانا مانگا لیکن گھر میں موجود افراد نے انکار کر دیا اور سکیورٹی فورسز کو اطلاع دی جس پر ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور یہ تاثر اب عام لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ اگر شدت پسند دوبارہ آئیں گے تو انھیں لوگ قبول نہیں کریں گے‘۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کالعم تنظیم تحریک طالبان کی دھڑے بندی کے بعد تنظیم کمزور ہو گئی تھی لیکن اب حزب الاحرار اور جماعت الاحرار کے ٹی ٹی پی میں ضم ہونے کے بعد تنظیم کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
سینیئر صحافی حسن خان نے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہاں سکیورٹی فورسز پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد جب لوگ واپس اپنے گھروں کو گئے تو ان شدت پسندوں کو پھر سے کارروائیاں کرنے کا موقع مل گیا ہے۔
حسن خان کا کہنا تھا کہ آپریشن میں ان شدت پسندوں کو مکمل ختم نہیں کیا گیا تھا بلکہ انھیں ان علاقوں سے نکال دیا گیا تھا اور یہ لوگ چھپ کر بیٹھ گئے تھے اور اب انھیں واپس آنے کا موقع ملا ہے۔
حسن خان کے بقول شدت پسند تنظیموں کے انضمام کے بعد عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کی تنظیمیں زیادہ کارروائیاں کرتی ہیں تاکہ وہ اپنی موجودگی کا احساس دلا سکیں۔ حسن خان نے بتایا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب حالات قدرے بہتر ہو گئے تھے تو سکیورٹی کی صورتحال بھی قدرے نرم ہو گئی تھی، جس وجہ سے یہ کارروائیاں شروع ہوئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کے دوبارہ واپس ان علاقوں میں آنے کے امکانات کم ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سکیورٹی اہلکار الرٹ ہیں اور لوگوں میں بھی شعور آیا ہے جبکہ افغانستان میں بھی جو حالات تبدیل ہو رہے ہیں وہاں بھی ان شدت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنا مشکل ہوگا البتہ اکا دکا واقعات شاید پیش آتے رہیں۔











