بکا خیل کیمپ: وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کا ٹھکانا کیسا ہے اور وہاں زندگی بسر کرنے والے قبائلی کیا چاہتے ہیں؟

- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بنوں
صبح کے آٹھ بج رہے ہیں، میں بکا خیل کیمپ کے مرکزی گیٹ پر کھڑی تربن یا پھر مخصوص ٹوپی پہنے وزیرستانی مردوں، شٹل کاک برقعے میں ملبوس خواتین اور کچھ بھاگتے دوڑتے بچوں کو کیمپ سے باہر جاتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔۔۔ ہر کوئی عجلت میں بجری سے بنی سڑک پر تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا مرکزی گیٹ سے باہر نکل رہا ہے۔
اس منظر میں رکشوں اور چنگ چی کی پھٹ پھٹ کی آواز نمایاں ہے جن میں سامان سمیت سکڑ کر بیٹھے لوگ میران شاہ روڈ سے بنوں شہر کی جانب جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
کیمپ میں داخلہ اجازت سے مشروط ہے
اپنی شناخت کروائے بغیر نہ تو آپ اس کیمپ کے اندر جا سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے بغیر یہاں سے باہر نکل سکتے ہیں۔
اس کیمپ میں آنے جانے والے اگر تو یہاں کے رہائشی ہیں تو ان کے پاس موجود پاسنگ کارڈ ہی ان کی شناخت ہے۔ یہاں سکریننگ گیٹ بھی موجود ہے لیکن اگر آپ کیمپ کے مکین نہیں تو پھر اجازت نامہ اور اعلیٰ حکام سے کلیئرنس ضروری ہو گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس اجازت نامے کے فارم میں ’آپ کون ہیں؟ کس مقصد سے آئے ہیں؟ کیا یہاں آپ کے رشتہ دار رہتے ہیں؟ یہاں آنے کا مقصد خوشی، غمی یا پھر فقط ملاقات ہے؟‘ ان تمام سوالات کے جوابات دینے ہوں گے۔
تو پھر کیا واقعی یہ بکا خیل کیمپ کوئی سب جیل یا سکریننگ مرکز ہے؟ یہاں کے رہنے والے اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ یہ جاننے کی کوشش میں ہم بھی دو روزہ دورے کے لیے فوج کی اجازت کے مرحلے سے گزر کر بکا خیل کیمپ میں داخل ہوئے۔
یہ کیمپ کب اور کیوں بنایا گیا؟

جون 2014 میں جب شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو حکام کے مطابق شمالی وزیرستان کے ایک لاکھ خاندان بے گھر ہوئے۔ بنوں کے بکا خیل قبیلے کی زمین پر قائم کیا گیا یہ سرکاری کیمپ 3250 خاندانوں کی جائے پناہ بنا اور یہاں اس وقت بھی 2043 خاندانوں کے 10643 افراد مقیم ہیں۔
کیمپ کے باہر اونچی چار دیواری نہیں ہے۔ ڈیڑھ سے دو کلومیٹر کی لمبائی اور چوڑائی پر مشتمل اس کیمپ کی دیواریں وہ خار دار تاریں ہی ہیں جو مرکزی راستے، دفاتر اور کچھ دیگر مقامات کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہیں۔
کیمپ میں داخل ہوتے ہی چند گز دور بائیں جانب ایک کھلا میدان ہے جہاں چار چھوٹے چھوٹے سبز رنگ کے بوتھ ہیں۔
ان کے اندر بمشکل دو افراد بیٹھ سکتے ہیں جن کے سامنے میز پر رجسٹر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ افراد ان بوتھوں کے باہر قطاروں میں موجود افراد کا اندراج کرتے ہیں جنھیں کیمپ سے باہر جانا ہے۔

فیز ون، فیز ٹو، فیز تھری اور فیز فور۔ اس پورے کیمپ کی آبادی انہی فیزز پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے سے چند سو گز کے فاصلے پر ہیں۔
پتھریلی زمین کے نشیب و فراز پر پھیلے اس کیمپ کا طول و عرض لگ بھگ ڈیڑھ سے دو کلومیٹر ہے۔ کیمپ کے مرکزی گیٹ پر لکھے ہدایت نامے میں درج ہے کہ باہر آنے جانے کے لیے صبح سات سے شام سات کا وقت مقرر ہے۔
ایک بوتھ کے باہر اپنی باری کے انتظار میں قطار میں لگے رکشہ ڈرائیور عزیز اللہ نے مجھے بتایا: 'چھ سال سے اسی کیمپ میں رہ رہا ہوں۔ رات کو بھی لوگ یہاں آتے جاتے ہیں۔ البتہ رات کو داخلے کی صورت میں کیمپ کے ملک (مشران) کو بلایا جاتا ہے ، وہ بندے کی شناخت کرتا ہے اور پھر اسے داخل ہونے دیا جاتا ہے۔'
یہاں آنے جانے والوں کو کمیپ میں داخلے کی پرچی بنانے میں 20 سے 30 منٹ لگ جاتے ہیں اور شاید یہ لوگ اب گزرے چھ برسوں میں اس کے عادی بھی ہو چکے ہیں۔ خواتین پرچی بنوانے کے لیے خود نہیں آتیں بلکہ کسی بچے یا لڑکے کے ہاتھ کارڈ بھجوا کر دور کھڑے رہ کر انتظار کرتی ہیں۔
یہ لوگ باہر جا کر کام کر سکتے ہیں اپنے رشتے داروں سے مل سکتے ہیں جلسوں می شریک ہو سکتے ہیں لیکن کیمپ کے اندر سیاسی سرگرمیاں ممنوع ہیں۔
کیمپ کے اندر کا منظر

بکاخیل کیمپ میں ذرا آگے نظر دوڑائیں تو یہاں کی سکیورٹی کی ذمہ دار فوج کا دفتر، ساتھ ہی صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کا دفتر اور پھر اس سے پرے خیمے ہی خیمے دکھائی دیتے ہیں۔
جو ٹینٹ کبھی سفید تھے اب مٹیالے ہو چکے ہیں۔ ان کے گرد سبز رنگ کی جالی لگائی گئی ہے جو ان خیموں کے گرد دیوار کا کام دیتی ہے۔ نیلے رنگ کی پانی کی ٹینکی اور سولر پینلز یہاں ہر کمپاؤنڈ کا لازمی جزو دکھائی دیتے ہیں۔
کیمپ کے اندر ہر خاندان کو تقریباً ڈھائی سے تین مرلے زمین کا ٹکڑا دیا گیا ہے جہاں وہ ٹینٹ میں اپنے روزمرہ کے سازو سامان کے ساتھ موجود ہیں۔
آج تو باہر اچھی دھوپ ہے لیکن ان خیموں میں شدید بارش، گرمی یا سردی کے موسم میں کسی خاندان کے بڑے، بچے اور بوڑھے کیسے سماتے ہوں گے اور یہ کچی زمین کتنی آسانی سے کیچڑ میں تبدیل ہو جاتی ہو گی، یہ اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں۔
ہر خیمے کے اندر ایک جیسے حالات دکھائی دیے: ضرورتِ زندگی کی چند بنیادی چیزیں، کچھ برتن، اندر ہی لٹکتی رسیوں پر موجود کپڑے، چارپائیاں اور بستر۔

'ہماری فوٹو نہ بنانا ہمیں مار دیا جائے گا'
ایک خاتون ہونے کے ناطے میرے لیے ان خیموں میں داخل ہونا ناممکن نہیں تھا۔
ایک خیمے میں گئی تو وہاں ایک ادھیڑ عمر خاتون وزیرستان کی خواتین کی مخصوص شوخ رنگ کی گھیرے دار فراک پہنے اور رنگین دھاگوں سے اپنے بالوں کی آرائش کیے بیٹھی تھیں۔ انھوں نے مسکرا کر میرا خیر مقدم کیا اور تھال میں رکھی روٹی پیش کی۔
اس خیمے میں بیٹھتے ہی سب سے پہلے ایک خاتون نے مجھے کہا کہ تمھیں معلوم ہے میرے شوہر کی تین بیویاں ہیں، مگر مجھے راشن کارڈ نہیں ملا۔ مجھےالگ سے کارڈ چاہیے۔ یہیں ایک ماہ پہلے پیدا ہونے والی بچی کی والدہ نے بتایا کہ بچی کی پیدائش خیمے میں ہی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ 'ہمیشہ ہسپتال نہیں جاتے۔'
ان کی شکایت یہ تھی کہ اس مرتبہ لیڈی ہیلتھ ورکر حسب معمول بچے کی ضرورت کا سامان لے کر نہیں آئیں۔ خیمے میں میرے داخل ہونے پر وہاں دو خواتین تھیں اور تین چار بچے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہاں دس خواتین اور لگ بھگ 15 بچوں کلا مجمع لگ گیا۔
باہر چلتی پھرتی عورتوں اور یہاں لگے مجمعے سے یہ تو ظاہر ہو رہا تھا کہ کیمپ میں عورتیں ایک دوسرے کے ہاں آتی جاتی ہیں۔
اس مختصر نشست میں یہاں کی خواتین نے بتایا کہ 'ہاں چھوٹی موٹی مشکلات تو ہوتی ہی ہیں لیکن ہم یہاں خوش ہیں، اچھا گزارہ ہو رہا ہے۔ بس تم ہماری فوٹو مت بنانا باہر نام بھی نہ بتانا۔ ہمارے مرد بہت سخت ہیں، وہ ہمیں مار دیں گے۔ اگر ہماری آواز بھی گئی تو تمھیں خبر ملے گی کہ ہمیں مار دیا گیا ہے۔'
چلتے چلتے جب میں نے ٹینٹس کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا 'ہمیں دو برس بعد نیا ٹینٹ دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہر چھ ماہ بعد دیں گے لیکن ایسا نہیں کیا جاتا۔'
کیمپ میں صحت کی سہولیات
یہاں قائم بنیادی مرکز صحت میں موجود ڈاکٹر محمد شفیق اور ڈاکٹر آصف اقبال نے بتایا کہ 'یہاں کے مکین سخت گرمی میں جلد کے امراض اور جسم میں پانی کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیمپ میں ایک خاندان کو اگر 12000 ملتے ہیں تو ساتھ راشن بھی الگ ملتا ہے لیکن وہ پانچ بچوں کے حساب سے ہے مگر یہاں آپ کو ایک بیوی اور پانچ بچوں والے کم ہی ملیں گے۔'
بکا خیل کیمپ میں ہلال احمر پاکستان کے تحت ایک ہسپتال بھی قائم ہے اور اس ہسپتال میں مریضوں کی اچھی خاصی تعداد صبح سویرے ہی موجود تھی۔ ہسپتال انتظامیہ کہتی ہے کہ لگ بھگ سو ڈیڑھ سومریض روزانہ کی بنیاد پر آتے ہیں۔
ہاں ان دنوں وہاں کوئی لیڈی ڈاکٹر میسر نہیں تھی البتہ دو لیڈی ہیلتھ ورکرز ہی کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندانی منصوبہ بندی پر کیمپ میں موجود خواتین کم ہی عمل کر پاتی ہیں۔

یہاں ہسپتال میں اپنے پوتے کو گود میں اٹھائے نیلی چادر میں لپٹی خواہش بی بی کیمپ میں موجود انتظامات سے خوش دکھائی دیں۔
انھوں نے آپریشن ضرب عضب کے آغاز پر جب علاقے میں راستے بند تھے، اپنی رہائش گاہ مچس نامی گاؤں سے سرحد پار افغانستان جا کر پناہ لی تھی۔ خود تو وہ تین برس پہلے لوٹ آئیں لیکن اب اپنی بیٹیوں کی واپسی کی منتظر ہیں۔
وہ کہنے لگیں 'یہاں ہم خوش ہیں، سب سہولیات موجود ہیں، ڈاکٹر دوائی دیتے ہیں۔ ہم نے ہجرت صرف ڈر کی وجہ سے کی کیونکہ ٹینکوں اور دھماکوں کی آوازیں آتی تھیں، ہمیں اپنے گھر کی یاد آتی ہے۔ کیسے ہم بھوک سے مرنے والے حالات میں تھے لیکن مرے نہیں۔'
انھوں نے بتایا کہ 'میرا ایک بیٹا ہے وہ بھی اس کیمپ میں ہے، اس کا کوئی کاروبار نہیں ہے۔ اپنے علاقے میں مال مویشی کا کاروبار تھا۔ جب آرمی نے راستہ کھولا تو ہم خود افغانستان سے پاکستان آ گئے۔'
’60 فیصد خواتین میں ڈپریشن‘

یہیں میری ملاقات سیماب سے ہوئی جو لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بعد گذشتہ سات ماہ سے یہاں پر ماہر نفسیات کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے خیال میں یہاں 60 فیصد خواتین ڈپریشن کا شکار ہیں۔
سیماب کہتی ہیں کہ 'روزانہ کی بنیاد پر ہم تقریباً 15 مریضوں کو دیکھتے ہیں۔ یہاں پر ڈپریشن کا تناسب بہت زیاد ہے جس کی وجہ بے گھر ہونے کے مسائل ہیں، ان کے آبائی علاقوں میں موجود خاندانوں میں سے سے کافی عزیز و اقارب کی وفات ہو چکی ہے ۔ کچھ ادھر ہیں تو کچھ ادھر، خاص طور پر نوجوان لڑکیوں میں یہ مسئلہ زیادہ ہے۔ سب کو کم خوابی کا مسئلہ ہے۔'
حکام کے مطابق یہاں کی آبادی میں کل 43 فیصد بچے ہیں جن کی عمریں 10 برس سے بھی کم ہیں اور کل آبادی میں 26 فیصد مرد ہیں۔ روزانہ اس کیمپ میں ایک یا دو بچے پیدا ہوتے ہیں۔ 'اعدادو شمار کے مطابق' دسمبر 12 سے آٹھ فروری تک یعنی 58 دن میں 78 بچے پیدا ہوئے۔
مزید پڑھیے
'لڑکیاں دباؤ کے باعث سکول نہیں آتیں'

کمیپ میں آبادی کے برعکس آپ کو یہاں بہت ہی کم بچے سکول جاتے دکھائی دیں گے۔ نرسری سے چھٹی جماعت تک ٹی ڈی پی سکول ہیں جن میں 665 لڑکے اور 205 لڑکیاں زیر تعلیم ہیں۔ ٹی ڈی پی سکول میں موجود خاتون استاد روبینہ حبیب نے بتایا کہ 'لڑکیاں سکول پڑھنے آنا چاہتی ہیں لیکن گھر کے مردوں کے دباؤ کی وجہ سے سکول آنا مشکل ہوتا ہے۔'
وہیں خیموں میں بنے ٹی ڈی پی سکول میں پانچویں جماعت کے طالب علم عثمان جنھوں نے تین برس دمن کے پہاڑوں میں گزارے تھے اب یہاں کیمپ میں رہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'پانچ، چھ برس سے گھر نہیں دیکھا۔'

انھوں نے بتایا کہ 'ابو ہمیں گاڑی میں بٹھا کر افغانستان لے گئے تھے تین برس افغانستان کے پہاڑوں میں گزارے پھر پاکستانی فوج نے راستہ کھولا اور ہمیں سیدھا یہاں لے کر آئی۔ وہاں (مدھا خیل) میں نہیں چھوڑا، وہاں تو آپریشن ہو رہا ہے۔ یہاں اچھا وقت گزر رہا ہے یہاں سکول بھی ہے پہلے یہ نہیں تھا چار دیواری بھی نہیں تھی۔' سکول میں خوش ہوں۔ کیمپ بھی ٹھیک ہے ابھی یہ یونٹ بھی صحیح ہے۔ جب چھٹی ہوتی ہے تو ہم رشتے داروں سے ملنے کے لیے باہر جاتے ہیں۔۔ کم ازکم پانچ سال ہوگئے ہیں ہم نے اپنا گھر نہیں دیکھا۔ وہاں فوج جانے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔'
نوجوان بےمقصد گھومتے نظر آئے
کچھ بچے اور نوجوان لڑکے کیمپ میں بنے کھیل کے میدان میں فٹ بال اور کرکٹ کھیلتے دکھائی دیے۔ ان کی بہت بڑی تعداد صبح سے شام تک یونہی بے مقصد گھومتی پھرتی نظر آئی۔ جبکہ کیمپ میں موجود زیادہ تر مرد بھی فراغت کا شکار ہی دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم چند افراد نے کیمپ انتظامیہ کی جانب سے ہنر مندی کے پروگرام سے استفادہ بھی کیا ہے، کسی نے ڈرائیونگ سیکھی تو کسی نے مکینک کا کام سیکھا۔
چند نوجوانوں نے یہ بھی بتایا کہ ہمارے بھائی یا والد عرب امارات میں کام کر رہے ہیں اور وہ بھی باہر جانے کے خواہش مند دکھائی دیے۔
گھر واپسی کیوں ممکن نہیں ہو سکی؟
آپریشن ضرب عضب تو ختم ہو چکا ہے بظاہر اب قبائلی علاقے علاقہ غیر نہیں رہے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہو چکے ہیں پھر یہ دس ہزار خاندان وزیرستانی کمیپ میں اور 15 ہزارخاندان اس سے باہر اور کئی ہزار سرحد پار کیوں محصور ہیں، آخر یہ عارضی کیمپ برس ہا برس بعد بھی بند کیوں نہیں ہو سکا؟
خواہش بی بی سے میں نے پوچھا کیا کبھی مڑ کر آپ اپنے گھر گئیں تو انھوں نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا وہاں تو تب ہی جا سکتے ہیں جب مر جائیں۔
'کافی لوگ افغانستان جا چکے ہیں ہمارے علاقوں کو پرندہ بھی نہیں جاتا ہے۔ جب آنکھ بند ہو جاتی ہے مر جاتے ہیں تو پھر صرف دفنانے کے لیے لاش کو لے جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔'
وہ بتانے لگیں وہاں ان کا بڑا سا گھر تھا گھر جانے کو دل چاہتا ہے مگر اجازت نہیں ملی۔ انھوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ 'جائیں اور مر جائیں یا واپس بھیج دیا جائے تو کیا ہوگا۔'
کیمپ کی مارکیٹ میں انڈے اور سوپ پیچنے میں مشغول عزیز الدین تحصیل میرانشاہ سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے بتایا کہ وہ تو علاقے میں واپس گئے تھے لیکن ادھر ان کا گھر اور دکانیں سب کچھ زمین بوس ہو چکا ہے۔ انھیں امید ہے کہ مارچ میں وہ گھر چلے جائیں گے اور اس کے لیے وہاں انھیں ٹینٹ ہی لگا کر کیوں نہ رہنا پڑے رہ لیں گے۔

،تصویر کا ذریعہPDMA
'ہمارا علاقہ میران شاہ کے نزدیک ہے کینٹ کے ساتھ ہے، دوماہ قبل میں گیا تھا اپنے علاقے کا چکر لگایا صرف میرا گھر نہیں بلکہ سارا علاقہ مسمار ہوچکا ہے۔ یہاں کیمپ میں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے بجلی ہے، پانی ہے، ٹینٹ ہے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہے 12ہزار وقت پر ملتا ہے لیکن پھر بھی اپنا علاقہ اپنا ہے چاہے بدحال ہو ویران ہو۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'میرعلی کے دکاندار بھی سراپا احتجاج ہیں 3000 ہزار دکانداروں کو پیسے ملے ہیں اور 3000 ہزار کو نہیں ملے ہیں، واپسی کے بعد سروے کی ٹیم آئے گی اور وہ سروے کرے گی اور تصویریں بنائیں گی ٹوکن دے گی۔'
اس کیمپ سے آخری بار اگست 2018 میں 54 خاندان اپنے گھروں کو واپس لوٹے تھے۔ جن کا تعلق دتہ خیل کے تین دیہات سے تھا۔
لیکن ان ہزاروں خاندانوں کی گھروں کو واپسی آخر کب تک ممکن ہو پائے گی، کیا کوئی ٹائم لائن ہے؟
اس سوال کا جواب نہ تو واضح طور پر فی الوقت کیمپ انتظامیہ یعنی پی ڈی ایم اے دے سکی، نہ شمالی وزیرستان کی انتظامیہ اور نہ ہی علاقے کی کلیئرنس کے ذمہ دار فوجی حکام سے مل سکا۔
کیمپ کے منیجر عمران وزیر نے بتایا کہ 'آج کل یہاں زیادہ تر خاندان دتہ خیل سے تعلق رکھتے ہیں مدھا خیل قبیلے کے ہیں جیسے ہی ان کا علاقہ کلیئر ہوگا یہ اپنے علاقے میں واپس چلے جائیں گے۔'
پی ڈی ایم اے کے مطابق یہاں بسنے والے ہر خاندان پر ماہانہ 50 ہزار تک خرچ آتا ہے۔ جو باہر ہیں وہ بھی راشن اور ماہانہ خرچ لیتے ہیں۔
علاقہ کلیئرنس کا کیا مطلب ہے؟

سول و فوجی حکام کے مطابق سرحدی علاقوں میں کہیں باڑ لگانے کا کام باقی ہے تو کہیں بارودی سرنگیں رکاوٹ ہیں اور کہیں ابھی زندگی پھر سے شروع کرنے کے لیے بنیادی سہولیات ناپید ہیں۔
وہاں جرگے میں ملنے والے قبائلی مشران بھی اس بات پر زور دیتے نظر آئے کہ علاقہ کلیئر کیا جائے اور سہولیات دی جائیں تو ہی واپس لوٹنا ممکن ہو گا۔
صحت کارڈ کے لیے لائن میں کھڑے شہباز خان نے کہا کہ ہم کیمپ میں ٹھیک ہیں وہاں ہمارے علاقے میں نہ سڑک ہے نہ ہسپتال ہم جائیں اور پھر واپس آنا پڑے اور کیمپ میں بھی جگہ نہ ملی تو ہم اپنے بچوں کو لے کر کہاں جائیں گے۔
قبائلی مشر ملک علی شاہ کے مطابق ہمارا علاقہ کھنڈر بنا ہوا ہے اکا دکا واقعات اب بھی ہو جاتے ہیں ہم نے حکومت سے علاقے کو کلیئر کرنے کی درخواست کی ہے۔ وہ کہتے ہیں باڑ کا کافی کام ہوگیا ہے جب وہ مکمل لگ جائے گی تو علاقہ مکمل محفوظ ہو جائے گا۔
لیکن قبائلی رہنما اور ان کنبوں کے سربراہان کے بقول چار لاکھ معاوضے میں گھر کی چھت کیسے کھڑی کریں گے؟
فوجی حکام نے سنہ 2017، 2018، اور 2019 میں سرحد پار موجود وزیرستانیوں کو واپس لانے کے لیے انتظامات کیے تھے۔ اس کیمپ میں سرحد پار سے آنے والے بہت سے خاندان موجود ہیں۔
قبائلی مشر علی شاہ کے مطابق ابھی تک سرحد پار 5300 وزیرستانی خاندان اپنی درخواستیں شمالی وزیرستان میں فوجی حکام کو بھیج چکے ہیں۔

فوجی حکام کہتے ہیں کہ ایک بڑا مسئلہ ان افراد کی شناخت کا تھا کیونکہ کاغذات کی عدم موجودگی میں یہ پتہ لگانا کہ کوئی پاکستانی ہے یا افغان قدرے مشکل ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فوج اور متعلقہ ایجنسیوں کی جانب سے ان خاندانوں کی سکرینگ ناگزیر تھی کیونکہ مقصد صاف کیے گئے علاقے کو مستحکم رکھنا اورکسی قسم کی دراندازی سے بچنا تھا۔
تاحال پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں سرحد پار موجود پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے دوبارہ سے کوئی وقت مقرر نہیں کر سکیں۔
مشران کہتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ملک واپسی کی کوشش کرتے ہیں۔
یہاں مرد، نوجوان اور ان گنت بچے اور ٹینٹوں میں محصور خواتین اپنے علاقے کے لیے 'وطن' کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کیوں نہیں ہمارا وطن ہے ہم اجازت ملنے پر جائیں گے لیکن مستقبل کے لیے خدشات ان کے الفاظ اور سوچتی نگاہوں میں دکھائی دیتے ہیں کہ واپس جا کر پھر پہلے جیسے حالات یا دربدری کا شکار نہ ہو جائیں۔
برسوں سے قائم اس عارضی کیمپ کا مستقبل کیا ہو گا، مکینوں کا انتظار کب ختم ہو گا ،یہاں ہر دوسرے دن پیدا ہونے والے بچے گھر کی چھت اور محفوظ مستقبل کب پائیں گے؟ یہ سوال حل طلب ہیں۔












