مہمند حادثہ: پہاڑ کی جانب تکتی نگاہیں، لواحقین کی دم توڑتی امیدیں

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ضلع مہمند
بڑا بھائی غلام نبی خطرہ بھانپ گیا تھا اور چھوٹے بھائی محمد نبی پر غصہ کیا کہ نکلو پہاڑ گر رہا ہے لیکن چھوٹے بھائی کو فکر تھی کہ وہ پتھر اٹھانے کے لیے اپنی جگہ پکڑ لے اور اسی دوران میں پہاڑ سرک کر نیچے آگرا۔
ہر طرف دھواں چھا گیا، اس وقت کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا، چیخ و پکار شروع ہوگئی تھی بڑے بڑے کمروں سے بھی بڑے پھتر نیچے گر رہے تھے اور لوگ جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔
محمد نبی کے بڑے بھائی ہکا بکا رہ گئے، انھیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اپنی جان بچا لی لیکن چھوٹے بھائی کا کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں رہ گیا ہے۔
بدھ کو ضلع مہمند کے گاؤں زیارت کلی میں محمد نبی کے لیے فاتحہ خوانی ہو رہی تھی۔ ان کے والد علیم خان سر جھکائِے ایک کونے میں چارپائی پر بیٹھے تھے۔ لوگ دعائیں کرتے اور چلے جاتے لیکن علیم خان سوچوں میں گم خاموش بیٹھے تھے۔
مزید پڑھیے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سنگ مرمر کی کان پر پہاڑی تودے گرنے سے کم از کم 24 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق لگ بھگ 8 سے 10 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زیارت کلی میں واقع ماربل کی کان منہدم ہونے کے بعد اب اس مقام پر امدادی کام جاری ہے اور بڑی تعداد میں امدادی کارکن لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں لیکن وہاں موجود لوگوں کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں کہ لاپتہ افراد کو جلدی تلاش بھی کیا جا سکے گا۔
صبح سے شام ہو جاتی ہے اور لوگوں کی نظرین مسلسل پہاڑ کی چوٹی کو تکتی رہتی ہیں، نہ بھوک کا خیال نہ پیاس کی پرواہ، صرف فکر ہے تو اپنے پیاروں کی کہ شاید کوئی خبر ملے کہ ان کا پیارا زندہ نکل آیا ہے۔

زیارت کلی میں سنگ مرمر کی کان پر یہ حادثہ پیر کو شام پانچ بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب مقامی لوگوں کے مطابق کان کن کام ختم کر کے جا رہے تھے اور پتھر اٹھانے والے مزدور ڈرائیور اور دیگر افراد وہاں موجود تھے۔
زیارت کلی میں علیم خان کے گھر میں بڑے خیمے میں بڑی تعداد میں چارپائیوں پر لوگ بیٹھے تھے۔ محمد نبی کے والد علیم خان سے بات کرنا چاہی تو وہ بات نہیں کر پا رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، لہجہ ان کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ جھکے چہرے سے انھوں نے بتایا کہ اتوار کی دوپہر بیٹے نے کہا کہ وہ جا رہا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ پہاڑ پر جا رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ محمد نبی کی عمر 18 سال تھی۔ وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکا تھا اور گزشتہ پانچ برسوں سے کام کی غرض سے پہاڑ پر جا رہا تھا۔
فاتحہ خوانی پر بیٹھے افراد نے بتایا کہ بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی پر غصہ کیا تھا کہ نیچے اتر آؤ، اب خطرہ ہے، پہاڑ گر رہا ہے لیکن وہ نہیں اترا۔ لوگوں سے جب پوچھا کہ بڑے بھائی غلام نبی کہاں ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ غم زدہ ہیں، بات نہیں کر سکتے، گھر میں ایک کمرے میں موجود ہیں اور مسلسل رو رہے ہیں۔
اس گاؤں میں ہر دو تین گھروں کے بعد ایک گھر میں فاتحہ خوانی ہو رہی تھی۔ اس گاؤں کے لوگوں نے بتایا کہ اس گاؤں کے لگ بھگ 12 افراد کی اس حادثے میں جان گئی ہے۔
اس حادثے میں جو لوگ ہلاک ہوئے ہیں ان کے گھروں میں فاتحہ خوانی ہو رہی تھی اور جو لوگ لاپتہ ہیں وہ اس امید میں ہیں کہ شاید ان کے لاپتہ افراد زندہ نکل آئیں یا اگر وہ زندہ نہیں رہے تو کم سے کم ان کی لاش ہی مل جائے۔
ایسے افراد پہاڑ پر جگہ جگہ موجود تھے اور امدادی کارکنوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ مشورے بھی دے رہے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ بھاری مشینری لائی جائے تاکہ اتنے بڑے پہاڑ کے نیچے دبے افراد کو نکالا جا سکے جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ڈرلنگ کے ذریعے کوششیں کرنی چاہییں۔

اس پہاڑ پر موجود لوگ اپنی اپنی کہانیاں سناتے رہے۔ کسی کا بیٹا تو کسی کا باپ اور کسی کا بھائی تو کسی کے رشتہ دار لاپتہ ہیں۔
ان لوگوں میں ایک بزرگ قوی خان موجود تھے جو اپنے داماد کی تلاش میں آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ تین روز سے وہ یہاں پہاڑ پر موجود ہیں اور یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ شائد کہیں ان کا داماد مل جائے لیکن ان کی باتوں سے یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ کہ ان کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ چند روز پہلے بیٹی نے بتایا تھا کہ ان کا داماد بیمار تھا لیکن جس دن پہاڑ پر یہ حادثہ ہوا انھیں پریشانی لاحق ہوگئی تھی اس لیے انھوں نے فون پر معلوم کیا تو بتایا گیا کہ وہ تو پہاڑ پر گیا تھا۔
ان کے مطابق پہاڑ پر جس جگہ لوگوں نے ان کے داماد کی موجودگی کی نشاندہی کی ہے وہاں تلاش کے لیے جانے میں دن نہیں ہفتے نہیں بلکہ مہینوں لگ سکتے ہیں۔
ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور زبان نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور پریشانی میں بولے کہ اس واقعے کے بعد ان کی اپنی بیٹی سے بات بھی نہیں ہو سکی۔ انھوں نے فون کیا تھا اور نواسے سے کہا تھا کہ ماں سے بات کراؤ لیکن ’اس کی جو حالت ہے وہ بات کرنے کے قابل نہیں تھی‘۔

،تصویر کا ذریعہKhanzeb
مقامی لوگوں نے بتایا کہ سنگ مرمر کی اس کان میں اگر دھماکہ کر دیا جائے اور یا بارش ہو جائے تو فوری طور پر اس کان کی جانب نہیں جاتے بلکہ اسے وقت دیا جاتا ہے۔ جس روز حادثہ ہوا اس روز کان کن کام کر کے باہر آ گئے تھے اور پتھر جمع کرنے والے مزدور، ٹھیکیدار اور گاڑیاں لے جانے والے ڈرائیور وہاں موجود تھے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ دراصل لوگ دھماکے کے بعد فوری طور پر وہاں اس لیے چلے جاتے ہیں تاکہ وہ مناسب جگہ اپنے لیے منتخب کر سکیں جہاں وہ اپنی گاڑی کھڑی کرسکیں اور اپنے لیے پتھر جمع کر سکیں۔ اس حادثے کا شکار ہونے والے افراد بھی مزدور اور ڈرائیور تھے۔
وہاں انتظار کرنے والے افراد میں محمد حیات بھی موجود تھے۔
انھوں نے بی بی سی کو تبایا کہ ان کا ایک رشتہ دار جس کا نام انھوں نے سجاد بتایا وہ لاپتہ ہے۔ سجاد اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہے اور سجاد کے والد بھی اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے گھر میں اب ان کے ایک بزرگ دادا اور خواتین ہیں اس لیے اب سجاد کے رشتہ دار ہی اس کی تلاش کے لیے یہاں پہاڑ پر آئے ہوئے ہیں۔ محمد حیات نے بتایا کہ ان کے گھر میں سوگ ہے۔

ضلع مہمند میں سنگ مرمر کے حادثے کے بعد اس علاقے میں سوگ ہے۔ لوگوں کا یہی سوال تھا کیا بھاری مشینری یہاں لائی جائے جس سے لاپتہ افراد کو تلاش کیا جا سکے اور یہ سوال کہ کیا اس علاقے میں مستقل طور پر ایسے اقدامات کیے جا سکیں گے جس سے اس طرح کے حادثات نہ ہوں۔
پشاور میں ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی صبح ایک لاش نکال لی گئی ہے اور وہاں تلاش کا کام جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ امدادی کارکن لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور جہاں انھیں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کچھ ہو سکتا ہے وہاں تلاش شروع کر دی جاتی ہے۔









