میر علی میں شدت پسندی کا نشانہ بننے والی خاتون کا خاندان کیسے مصیبتوں میں گِھرا

،تصویر کا ذریعہParvin Akhtar
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
’بابا نے جب سے بیٹی کی لاش دیکھی ہے تو اس کے بعد سے وہ خاموش ہیں۔ اُن کا دماغ کام نہیں کر رہا یہاں تک کہ وہ کھانا کھانے پر بھی دھیان نہیں دیتے۔ ان کی بیٹی ہونے کے ناطے میں ہی انھیں نہلاتی دھلاتی ہوں اور اُن کی دیگر ضروریات کا خیال رکھتی ہوں۔‘
یہ کہنا ہے 28 سالہ پروین اختر کا جن کی ایک بہن ناہید اختر کو رواں برس فروری میں شمالی وزیرستان کے شہر میر علی میں شدت پسندوں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
یہ واقعہ 22 فروری کو پیش آیا تھا جب ایک غیر سرکاری تنظیم کے لیے کام کرنے والی چار خواتین پر میر علی میں شدت پسندوں نے فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں تمام خواتین ہلاک ہو گئی تھیں۔
ناہید اختر کی ہلاکت کے بعد اُن کے گھر والے اب ایک انتہائی مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پروین کا کہنا تھا کہ ’بہن کی وفات کے بعد اب گھر کی تمام تر ذمہ داری میرے کندھوں پر آن پڑی ہے۔‘
’میں اس گھر کی بڑی بیٹی ہوں۔ مجھے بیٹی کا کردار بھی نبھانا ہے اور بیٹے کا بھی کیونکہ میرے دونوں بھائی ابھی بہت چھوٹے ہیں۔ مگر مشکل یہ ہے کہ جس معاشرے میں رہتی ہوں وہاں میں برقعہ پہن کر بھی نکلوں تو کچھ لوگ حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔‘
پروین اختر کی آواز یہ سب باتیں بتاتے ہوئے بھر آئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید بتایا کہ اُن کی بہن کی موت کے بعد اُن کے والد ذہنی طور پر معذور ہو چکے ہیں اور بالکل خاموش رہتے ہیں۔
پروین کہتی ہیں کہ چونکہ دونوں بھائی چھوٹے ہیں اس لیے وہ اور ناہید مل کر گھر کی ذمہ داری پوری کرتے تھے مگر اب یہ سب انھیں کرنا پڑتا ہے۔ پروین اور ناہید کے والد نے بڑی عمر میں شادی کی تھی اور اب ان کی عمر اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ وہ بستر کے ہو کر رہ گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKP Police
’مجھے ہی انھیں سنبھالنا پڑتا ہے، اُن کے کھانے پینے اور تمام ضروریات زندگی کی ذمہ داری بھی مجھ پر ہی ہے۔ والدہ سخت بیمار ہیں اور وہ بستر سے اٹھ بھی نہیں سکتیں۔ دو چھوٹے بھائی اور ایک چھوٹی بہن ہے۔ ناہید بڑا سہارا تھی لیکن وہ اللہ کو پیاری ہو گئی ہے۔‘
پروین بتاتی ہیں کہ بہن کی موت کے بعد اُن کے والد اتنے پریشان ہوئے کہ بتائے بغیر گھر سے غائب رہنے لگے اور کبھی کہیں سے ملتے تو کبھی کہیں سے۔ ’ناہید نہ صرف ان کی بڑی بیٹی تھی بلکہ بڑا بیٹا بھی۔‘
’جب والد گھر سے چلے جاتے ہیں تو میں برقعہ پہن کر اُن کی تلاش میں نکلتی تھی اور اکثر و بیشتر وہ ناہید کی قبر کے پاس بیٹھے ملتے ہیں، منت سماجت کر کے پھر انھیں گھر واپس لے آتی۔‘
انھوں نے بتایا کہ چند روز قبل ان کے والد کو فالج کا دورہ پڑا جس کے باعث وہ باتھ روم میں گرے اور ان کے کولہے کی ہڈی فریکچر ہو گئی۔ جب ڈاکٹروں کو دکھایا گیا تو انھوں نے کہا کہ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کا آپریشن نہیں کیا جا سکتا۔
’والدہ کو پہلے ہی معدے کی بیماری ہے جو اب السر میں بدل چکی ہے اور وہ بھی بستر کی ہو کر رہ گئی ہیں، وہ اس عینی شاہد ڈرائیور کی باتیں یاد کرتی رہتی ہیں کہ کیسے حملہ آوروں نے معلومات حاصل کیں اور پھر کیسے اُن کی بیٹی پر فائرنگ کر دی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہParvin Akhtar
ناہید کی عمر لگ بھگ 25 سال تھی۔ ان کے بہن بھائیوں کے مطابق وہ سب کا خیال رکھنے والی تھیں۔
پروین کے مطابق ناہید کی 2018 میں شادی ہوئی تھی لیکن شادی کامیاب نہیں ہوئی اور ایک ہی برس میں وہ طلاق کے بعد گھر واپس آ گئی تھیں۔
ناہید کی ایک اٹھارہ ماہ کی بیٹی بھی ہے۔
ناہید کی وفات کے بعد پروین ان دنوں مختلف محاذوں پر نبرد آزما ہیں۔ ایک طرف والدین کے علاج معالجے کے لیے ہسپتالوں کو جانا، دوسری جانب کچہری کے چکر لگانا، اپنی نوکری کرنا، چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا، یہ سب ان کی ذمہ داری ہے۔
ناہید نے طلاق کے بعد حق مہر کی رقم اور جہیز واپس لینے کا کیس اپنے سابقہ شوہر کے خلاف مقامی عدالت میں دائر کر رکھا تھا۔ لیکن ناہید کی ہلاکت کے بعد اب اس مقدمے کی نوعیت ہی تبدیل ہو گئی ہے۔
پروین کے مطابق اس کیس میں تاریخ پر تاریخ ملتی رہی مگر کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔
پروین کہتی ہیں کہ وہ ایک سرکاری سکول میں استانی ہیں اور وہاں سے حاصل ہونے والی تنخواہ وہ اپنے گھر کی دیکھ بھال، اپنی بہن کے مقدمے کی پیروی اور والدین کے علاج پر خرچ کر دیتی ہیں۔‘
’جب بھی مقدمے کی سماعت کے لیے کچہری جاتی ہوں تو تین سے پانچ ہزار روپے لگ جاتے ہیں لیکن مقدمے کا کوئی فیصلہ نہیں ہو رہا۔‘
’پہلے ہم دونوں بہنیں ہوتی تھیں تو مل کر اخراجات اور ذمہ داری نبھا لیتی تھیں مگر اب سب کچھ بدل چکا ہے۔‘
پروین اختر نے بتایا کہ ناہید کے سابق شوہر نے اب اپنی بچی کے حصول کا مقدمہ بھی دائر کر دیا ہے جس کی وہ پیروی کر رہی ہیں۔











