ماضی کی ’ایلفی‘، آج کی ’زیب النسا‘: کراچی کی ایک پرانی مگر مشہور مارکیٹ کی دلچسپ داستان

،تصویر کا ذریعہFacebook/ Aroosul Bilad
- مصنف, عقیل عباس جعفری
- عہدہ, محقق و مورخ، کراچی
یہ 26 مئی 1970 کی بات ہے۔ کراچی سے نکلنے والے اُردو کے سب سے کثیر الاشاعت روزنامہ ’جنگ‘ میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی جس کا عنوان تھا ’ایلفی، زیبی ہو گئی۔‘
خبر کا متن تھا ’کراچی شہر کی سب بارونق سڑک الفنسٹن سٹریٹ کا نام زیب النسا سٹریٹ رکھ دیا گیا ہے۔ آج بلدیہ کراچی کی طرف سے اس سڑک پر زیب النسا سٹریٹ کے بڑے بڑے بورڈ نصب کر دیے گئے ہیں۔‘
الفنسٹن سٹریٹ جسے عرف عام میں ’ایلفی‘ کہا جاتا ہے ہمیشہ سے خواتین کی شاپنگ کا سب سے بڑا مرکز رہی ہے۔ ایلفی اور قرب و جوار کے علاقوں بوہری بازار وغیرہ میں جو چہل پہل رہتی ہے وہ کسی دوسرے علاقے میں نہیں ہوتی۔
خیال ہے کہ بلدیہ کی مقررہ کمیٹی نے جب شہر کی سڑکوں کے نام قومی رہنمائوں اور تاریخی شخصیتوں کے نام پر تجویز کیے تو الفنسٹن سٹریٹ کا نام زیب النسا سٹریٹ تجویز کرتے ہوئے وقت دو خیال تھے۔
ایک تو یہ کہ مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی بیٹی کا نام زیب النسا تھا جو انتہائی حسین ہونے کے ساتھ ساتھ فارسی کی نامور شاعرہ بھی تھیں اور ’مخفی‘ تخلص کرتی تھیں۔ اُن کے کلام کا مجموعہ ’دیوان مخفی‘ کی صورت میں موجود ہے۔
دوسرا یہ کہ چونکہ یہ علاقہ خواتین کی شاپنگ کا سب سے بڑا مرکز ہے اور یہاں عورتوں کی زیبائش کا ہر سامان مل جاتا ہے چنانچہ کمیٹی نے اس کا نام زیب النسا رکھ دیا۔ زیب النسا کے لغوی معنی عورتوں کی زیبائش کے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر میں مزید لکھا تھا کہ ’واضح رہے کہ الفنسٹن سٹریٹ کو منچلے لوگ ’ایلفی‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں، اس اعتبار سے اگر یہ لوگ ایلفی کو ’زیبی‘ کے نام سے پکارنے لگے تو یہ کوئی تعجب خیز بات نہ ہو گی۔‘
اس خبر کی اشاعت کے 40، 42 سال بعد اچانک وکی پیڈیا نے ’انکشاف‘ کیا کہ الفنسٹن سٹریٹ کا نام شہزادی زیب النسا مخفی کے نام پر نہیں بلکہ پاکستان کی نامور خاتون صحافی زیب النسا حمید اللہ کے نام پر رکھا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہNL.PINTEREST.COM
وکی پیڈیا کے اس 'انکشاف' کے بعد سوشل میڈیا ہی نہیں پرنٹ میڈیا میں بھی یہ بات تواتر سے دہرائی جانے لگی کہ زیب النسا سٹریٹ کا نام جس زیب النسا کے نام پر رکھا گیا ہے وہ زیب النسا مخفی نہیں بلکہ زیب النسا حمید اللہ ہیں۔
مگر باعث تعجب یہ بات ہے کہ اگر اس سڑک کا نام زیب النسا حمید اللہ کے نام پر رکھا جاتا تو یہ نام زیب النسا سٹریٹ نہیں بلکہ زیب النسا حمید اللہ سٹریٹ ہوتا۔
تاہم اس بحث میں الجھے بغیر کہ آیا یہ نام شہزادی زیب النسا کی نسبت سے پڑا یا صحافی زیب النسا کی، اس جگہ کی تاریخ بذات خود بہت اہمیت کی حامل اور دلچسپ ہے۔
ممتاز مؤرخ اقبال اے رحمن مانڈویا نے اپنی کتاب ’اس دشت میں ایک شہر تھا‘ میں لکھا کہ ’الفنسٹن سٹریٹ کا نام لارڈ ماؤنٹ سٹاورٹ الفنسٹن کے نام پر رکھا گیا تھا جو سنہ 1819 سے سنہ 1827 تک بمبئی کے گورنر رہے تھے۔ اُن کا تعلق برطانیہ کے لارڈ خاندان سے تھا، وہ ایک صاحب طرز ادیب اور دانشور تھے اور انھوں نے ہندوستان اور افغانستان میں اپنی تعیناتی کے دوران کئی کتابیں لکھی تھیں۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ سنہ 1951 میں اس سڑک کا نام بدل کر محمد علی جوہر سٹریٹ رکھنے کی تجویز پیش کی گئی تھی اور سبب یہ تھا کہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے جن افسران نے یہ نیا نام تجویز کیا تھا ان کا خیال تھا کہ ٹی جی الفنسٹن سنہ 1921 میں مولانا محمد علی جوہر کے خلاف چلائے جانے والے مقدمہ بغاوت میں وکیل استغاثہ تھے۔ جب ان افسران کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انھوں نے الفنسٹن سٹریٹ کا سابقہ نام ہی برقرار رہنے دیا۔
ہندوستان میں برطانوی راج کے دور میں پرانے کراچی میں ہندو اور مسلمان متوسط طبقے کے افراد آباد تھے مگر حکمران طبقے نے جس علاقے کو اپنا مسکن بنایا تھا وہ صدر اور اطراف کا علاقہ تھا۔
ان کے ساتھ کراچی میں کاروبار کے لیے یورپین باشندوں کی اچھی خاصی تعداد بھی آئی تھی۔ الفنسٹن سٹریٹ انھی باشندوں کی کاروباری سرگرمیوں کا مرکز تھی۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/ Aroosul Bilad
اقبال اے رحمن مانڈویا کے مطابق ’الفنسٹن سٹریٹ کی شہرت ابتدا ہی سے شاپنگ ایریا کے طور پر ہی ہے۔ اس سڑک کی حیثیت ایک سپر سٹور کی سی تھی جس میں ہر طرح کی معیار مصنوعات دستیاب تھیں۔
برطانوی باشندے اس شہر کے باسیوں کے لیے انھونی چیز تھے۔ شہریوں نے انھیں تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا تھا، فوجی افسران ’گورا صاحب‘ کہلاتے تھے، سویلین عہدے دار بلحاظ عہدہ کمشنر صاحب، کلکٹر صاحب اور ڈپٹی صاحب جیسے القاب سے پکارے جاتے تھے اور وہ برطانوی یا یورپین جو کاروبار کرنے آئے تھے ’بکس والا صاحب‘ کہلاتے تھے، اس لیے کہ وہ اشیائے صرف کے ڈبوں یا کارٹنز کو بکس کہتے تھے جو ان کی پہچان بن گئی۔ الفنسٹن سٹریٹ میں بکس والے صاحبان کی بے شمار دکانیں تھیں۔‘
جن مؤرخین نے بھی کراچی کی تاریخ تحریر کی انھوں نے الفنسٹن سٹریٹ کا ذکر بڑے اہتمام کے ساتھ کیا۔ ممتاز ادیب اجمل کمال نے ’کراچی کی کہانی‘ کے عنوان سے اپنے جریدے کا خصوصی نمبر شائع کیا جس کی پہلی جلد میں پیر علی محمد راشدی کے ایک مضمون ’وہ دن، وہ لوگ‘ کا اُردو ترجمہ بھی شامل ہے۔
پیر علی محمد راشدی لکھتے ہیں کہ ’الفنسٹن سٹریٹ کی دکانیں دیکھ کر لوگوں میں احساس کمتری پیدا ہوتا تھا۔ میمن برادری کی دو چار دکانوں کے سوا باقی سب دکانیں انگریزوں، پارسیوں اور ہندو عاملوں کی تھیں، مگر صدر کی دکانوں کا مہندار تب میمن حاجی ڈوسل ہوتے تھے۔
سب سے بڑی دکان، ہر قسم کا سامان، عمدہ دھاگے سے لے کر اعلیٰ درجے کی بندوقوں تک اس ایک ہی دکان سے مل جاتا تھا البتہ دکان میں داخل ہونے سے پہلے بوٹ صاف کرائے جاتے، کوٹ کے بٹن بند کیے جاتے اور داڑھی مونچھوں کو ہاتھ پھیر کر درست کیا جاتا کیونکہ اندیشہ ہوتا کہ اندر داخل ہونے پر کسی انگریز افسر سے سامنا نہ ہو جائے۔ سندھیوں کو اپنے سے اونچے لوگوں کے ادب کے تقاضے ہر وقت اور ہر جگہ یاد رہتے ہیں۔‘
راشدی آگے لکھتے ہیں کہ ’ڈوسل کی دکان ایک ادارہ تھی۔ سندھ کے تقریباً تمام وڈیرے، میر اور پیر اس دکان کے مقروض ہوتے تھے اور فصل کٹنے پر سال بھر کی کمائی کا بڑا حصہ انھیں ڈوسل کا ادھار چکانے میں صرف کرنا پڑتا تھا۔ ان لوگوں کی مار بندوقوں، کارتوسوں، ولائتی بسکٹوں اور خوشبودار صابن پر ہوتی تھی اور ان جنسوں کی ڈوسل کے پاس کوئی کمی نہ تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہFacebook/ Aroosul Bilad
انھوں نے لکھا ہے کہ ’کچھ افراد شام کے وقت ڈوسل کی دکان کے باہر محراب دار چبوترے پر کرسیاں ڈال کر بیٹھ جاتے تھے کہ کوئی افسر یا اس کی میم گزرے تو اٹھ کر اسے سلام کریں، ایک لحاظ سے ڈوسل کی دکان کے سامنے بیٹھنا خود عزت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔‘
اقبال اے رحمن مانڈویا نے لکھا ہے کہ الفنسٹن سٹریٹ اپنی کیمسٹ شاپس کی وجہ سے بھی مشہور تھی جن میں ’سمتھ اینڈ کیمبل‘ اور ’جے بلس اینڈ کمپنی‘ کے نام سرفہرست تھے۔
اسی سڑک سے متصل شاہراہ عراق جیولرز کی دکانوں کی وجہ سے معروف ہے۔ اس سڑک پر اس کاروبار کا آغاز 1880 میں سیٹھ موہن لال ایسرداس نے کیا تھا اس وقت یہ سڑک ’کلارک سٹریٹ‘ کہلاتی تھی۔ سیٹھ موہن لال ایسر داس اینڈ سنز کے اعتبار کا یہ عالم تھا کہ برطانوی حکومت نے انھیں سنہ 1936 سے سنہ 1941 کے دوران سرکاری جیولر مقرر کیا تھا۔
سیٹھ موہن لال ایسر داس کی فرم آج بھی انڈیا میں سونے کی مشہور ترین کاروباری چین ہے۔
پیر علی محمد راشدی نے لکھا ہے کہ ’الفنسٹن سٹریٹ پر لوگ جے بلس کی دکان کے باہر کھڑے ہوکر شیشے سے اندر کا نظارہ کرتے اور کہتے ’واہ رے انگریز واہ۔‘
’یہ دکان یورپی طرز میں آراستہ کی گئی تھی۔ ایک بار سندھ کے ایک روحانی بزرگ کوئی چیز لینے اس دکان میں داخل ہوئے۔ مریدوں کو معلوم ہوا تو وہ لاٹھیاں لے کر آن پہنچے اور اس دکان کے شیشے توڑ کر اس کے ٹکڑے تبرک کے طور پر اپنے ساتھ لے گئے۔‘
’بزرگ نے بلس کو اس نقصان کا معاوضہ دیا کہ کہیں وہ سندھ کے کمشنر سے اس کی شکایت نہ کر دے اور بلس سے یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ آئندہ اس کی دکان میں داخل نہیں ہوں گے۔'
الفنسٹن سٹریٹ پر زیادہ تر کاروبار انگریزوں، میمنوں اور پارسیوں کے ہاتھ میں تھا۔ یہاں کپڑوں، گھڑیوں، کتابوں، فوٹو گرافی، جوتوں اور شراب کی دکانیں ہوا کرتی تھیں۔ پاکستان بننے کے بعد ان میں سے اکثر دکانیں انڈیا سے آنے والے کاروباری مہاجرین کو الاٹ ہو گئیں جنھوں نے یہاں پر انہی اشیا کا کاروبار دوبارہ شروع کر دیا جو ان دکانوں میں پہلے ہوا کرتا تھا۔
انہی میں ایک آغا محسن جعفری تھے جو آگرہ میں کتابوں کے کاروبار سے منسلک تھے۔ انھیں الفنسٹن سٹریٹ پر کتابوں کی ایک متروکہ دکان الاٹ ہوئی جہاں انھوں نے پاک امریکن کمرشل انک کے نام سے کتابوں کا کاروبار شروع کیا۔
وہ پاکستان میں انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے واحد تقسیم کار تھے۔ یہ کراچی میں کتابوں کی سب سے بڑی دکان تھی جو ان کی وفات سنہ 1998 تک قائم رہی۔
اسی طرح کتابوں ہی کی ایک دکان مشہور شاعر آغا شاعر قزلباش کے صاحبزادے اور ممتاز شاعرہ اور براڈ کاسٹر سحاب قزلباش کے بھائی آغا سرخوش قزلباش کو الاٹ ہوئی جنھوں نے ’کتاب محل‘ کے نام سے ایک طویل عرصے تک کتابوں کا کاروبار کیا۔
آغا سرخوش قزلباش کی وفات سنہ 1986 میں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ مشتاق احمد یوسفی نے اپنے مشہور مضمون ’صبغے اینڈ سنز‘ میں آغا سرخوش قزلباش اور ان کی دکان کتاب محل کا احوال رقم کیا ہے۔
اقبال اے رحمن مانڈویا نے اپنی کتاب ’اس دشت میں ایک شہر تھا‘ میں الفنسٹن سٹریٹ سے وابستہ ایک دلخراش یاد کا بھی ذکر کیا ہے۔ اُن کے مطابق آٹھ جنوری 1953 کو اس سڑک پر دس نوجوانوں کو خون میں نہلادیا گیا تھا جو حکومت کی طلبا پالیسی سے مطمئن نہ تھے۔
ان نوجوانوں نے ڈی جے کالج سے وزیر تعلیم کی قیام گاہ تک جانے کے لیے ایک جلوس نکالا جسے الفنسٹن اسٹریٹ میں روکا گیا، طلبا نہ رُکے تو ان پر لاٹھی چارج اور فائرنگ ہوئی جس میں دس طلبا ہلاک ہو گئے۔










