موئن جو دڑو کے کنگ پریسٹ کی تذلیل پر توہین مذہب کا مقدمہ درج

موہن جودڑو
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے صوبہ سندھ میں پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف موہن جو دڑو کے 'کنگ پریسٹ' کی توہین کا مقدمہ درج کرلیا ہے، مقدمے میں توہین مذہب کی دفعہ شامل کی گئی ہے۔ گذشتہ روز سوشل میڈیا پر کنگ پریسٹ کے مجسمے کو لعنت دینے کی تصویر وائرل ہوئی تھی۔

لاڑکانہ کے ایئرپورٹ تھانے پر دائر مقدمے میں آرکیالوجی محکمے کے چوکیدار جاوید نے موقف اختیار کیا ہے کہ گذشتہ شام انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر دیکھی جس میں جس میں کچھ نامعلوم افراد سائٹ پر موجود کنگ پریسٹ کے مجمسے کو لعنت دے رہے ہیں۔

بقول ان کے یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے ردِ عمل میں آرکیالوجی محکمے کے حکام بالا نے ملازمین کو ہدایت کی کہ اس واقعے کا مقدمہ درج کیا جائے جس کی وجہ سے وہ ایف آئی آر درج کرانے آئے ہیں۔

مذہبی جذبات مجروح

اپنی نوعیت کا یہ منفرد مقدمہ ہے جس میں توہین مذہبی اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ زیر دفعہ 295 پاکستان پینل کوڈ مجریہ 1860 کے باب 15 میں شامل ہے، جس کی سزا دس سال قید اور جرمانہ ہے اور ایسے مقدمات کی تفتیش سینئیر پولیس افسران کرتے ہیں۔

موہن جودڑو

،تصویر کا ذریعہTWITTER

موئن جو دڑو کے بارے میں ماہرین کی رائے ہے کہ یہ پانچ ہزار سال قدیم تہذیب کے آثار ہیں، جہاں پکی اینٹوں سے جدید خطوط پر شہر کے آثار ملے ہیں جہاں نکاسی اور فراہمی آب کا نظام بھی موجود تھا۔

سنہ 1922 سے 1928 کے درمیان پہلی بار کھدائی، برطانوی ماہر سر جان مارشل کی سربراہی میں ہوئی، جس کے بعد سے آٹھ جگہوں پر کام کر کے 'ایریاز' کی کھدائی کی جا چکی ہے۔

مزید پڑھیے

رواں سال موئن جو دڑو کو دریافت ہوئے ایک سو سال مکمل ہوچکے ہیں، گذشتہ سال حکومت سندھ نے موئن جو دڑو سے ملنے والے الفا بیٹ کی شناخت کے لیے عالمی کانفرنس بھی منعقد کی تھی۔

کنگ پریسٹ کون ہے؟

سر جان مارشل کو کھدائی کے دوران داڑھی والے ایک شخص کی مورتی ملی، جس کے سر پر دراڑ تھی جبکہ مجسمے نے چادر اوڑھ رکھی ہے جو اجرک کے ڈیزائن سے مشابہ ہے۔

محقق ابھی تک یہ حتمی طور پر طے نہیں کرپائے ہیں کہ موئن جو دڑو کے رہائشی لوگوں کا مذہب کیا تھا، تاہم آثاروں پر بعد میں قائم بدھ مت کا ایک اسٹوپا بھی موجود ہے، سرخ اینٹوں والے اس اسٹوپا کی بقایات ابھی بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔

سوشل میڈیا کا رد عمل

موئن جو دڑو

موئن جو دڑو میں تین نامعلوم افراد جن میں ایک نابالغ بھی شامل ہے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں تینوں کنگ پریسٹ کے مجسمے کو لعنت دے رہے تھے، جس کے بعد بالخصوص ٹوئٹر پر صارفین نے سندھ کے محکمہ نوادرات اور ثقافت کے صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ کو ٹیگ کرکے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

عروسہ کھٹی نے لکھا کہ ان لوگوں کی شناخت ہونی چاہیے، اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ اس مائنڈ سیٹ کو سمجھا جائے جو منظم طریقے سے ہمارے کلچر کے خلاف سازش کررہا ہے، اس کی وجوہات جاننے کی بھی ضرورت ہے۔

سورٹھ سندھو نے لکھا کہ سائٹ پر سکیورٹی گارڈ اور گائیڈ موجود ہوتے ہیں ان لوگوں کو وہاں ہی گرفتار کرنا چاہیے تھا، ڈی پٹی کمشنر اس کا نوٹس لیں تہذیب کی توہین کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

صحافی آصف قاضی لکھتے ہیں کہ موہن جو دڑو کی تاریخ میں پہلی بار یہ توہین ہو رہی ہے یہ کونسی طالبانی سوچ ہے؟ اس سے قبل میوزیم کے اندر ڈانسنگ گرل کے پوسٹر کو بھی کچھ لوگ پھاڑ گئے تھے۔ موہن جو دڑو کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

موئن جو دڑو

،تصویر کا ذریعہ@Uroosakhatti

خالد حسین کورائی نے ایک تصویر شیئر کی جس میں ایک نوجوان موئن جو دڑو کو سیڑھیوں کو چوم رہا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ ایک وہ ہیں جن کے لیے اس تہذیب کی قدر اس حد تک ہے کہ وہ اس کی دہلیز کو چوم کر عزت بخشتے ہیں دوسرے وہ ہیں جو کنگ پریسٹ کی تذلیل کرتے ہیں جو دراصل آئینے میں خود کو ہی ہاتھ دکھا رہے ہیں۔

وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ نے سوشل میڈیا پر اس بحث کا نوٹس لے لیا

اور ڈی جی منظور کناسرو کو ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت جاری کیں، ڈی جی کا کہنا ہے کہ ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے نادرا سے مدد لیں گے۔