’موہن جو دڑو‘ پر تاریخ مسخ کرنے کا الزام

،تصویر کا ذریعہ
وادی سندھ کی قدیم تہذیب کے بارے میں بالی وڈ کی کچھ عرصہ قبل ریلیز ہونے والی فلم ’موہن جو دڑو‘ سے مورخین خوش نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس وقت کی قدیم تہذیب کو جس انداز میں پیش کیا گیا ہے اس سے تاریخ کی صحیح عکاسی نہیں ہوتی۔
یہ فلم معروف ہدایت کار آشوتوش گواریکر نے بنائی تھی اور یہ باکس آفس پر بھی اتنی مقبول نہیں ہوئی جتنی اس کی توقع کی جا رہی تھی۔
گواریکر اس سے پہلے 16ویں صدی کے مغل بادشاہ اکبر اور ہندو شہزادی جودھا کے بارے میں بھی فلم بنا چکے ہیں جو باکس آفس پر کامیاب رہی تھی۔
ان کی یہ نئی فلم وادی سندھ کی تہذیب کے بارے میں ہے جس کا آغاز پانچ ہزار برس قبل ہوا اور یہ دریائے سندھ کے کنارے اس علاقے میں تھی جو اب پاکستان اور شمالی بھارت میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
موہن جو دڑو اس تہذیب کا ایک بڑا شہر تھا اور مورخین اور بر صغیر کی قدیم تہذیب سے واقف ماہرین کو اس بات پر اعتراض ہے کہ فلم میں اس دور کی تہذیب و ثقافت کو اس انداز میں پیش کیا گیا جس سے تاریخ اور اس دور کی غلط نمائندگی ہوتی ہے۔
اس فلم میں سنہ 2016 قبل مسیح کا زمانہ دکھایا گیا ہے اور ہیرو، شرمن، کا کردار اداکار ریتک روشن نے نبھایا ہے جو ایک کاشتکار کے طور پر کام کرتا ہے جبکہ ہیروئن کا کردار پوجا ہیگڑے نے ادا کیا ہے جو ایک پجاری کی بیٹی ہے۔
فلم میں ہیرو رقص کرتا ہے اور رومانوی گیتوں سے پروں کا ایک لباس پہننے والی ہیروئن کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ مختلف کردار ایک عجیب سے لہجے میں ہندی زبان میں بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
فلم میں کبیر بیدی نے ایک ایسے بادشاہ کا کردار نبھایا ہے جو ہیرو کو رومن طرز کے بنے ایک اکھاڑے میں میں پھینک دیتا ہے جبکہ مورخین کا کہنا ہے کہ اس دور میں اس طرح کی کسی بھی روایت کا کوئی بھی ثبوت نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSpice PR
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس میں ہیرو آریانہ دور کا زیادہ لگتا ہے نہ کہ موہن جودڑو کے وقت کا کیونکہ وہاں کے باسی ممکنہ طور پر سیاہ رنگت کے ہوا کرتے تھے۔
فلم کے کلائمیکس میں تباہی مچانے والاایک سیلاب آتا ہے جس سے پوری بستی میں پانی بھر جاتا ہے اور پھر ہیرو بڑی بہادری کے ساتھ لوگوں کو اس مصبیت سے نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔
وادی سندھ کی تہذیب کی تباہی کی ایک وجہ تباہ کن سیلاب بھی بتائی جاتی ہے جبکہ بعض کے مطابق اس بستی پر آریئن قوم نے حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے لوگ علاقہ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
بہرحال انڈیا کے بہت سے تنقید نگار اور مورخین کو اس فلم میں اس دور کو افسانوی انداز میں پیش کرنے کو پسند نہیں کیا ہے۔
ہندی فلموں سے متعلق کتاب ’بالی بک‘ کی مصنف دیپتا کیرتی کا کہنا ہے کہ تاریخی فکشن تو افسانے کو ایک مستند تاریخی ماحول میں تخلیق کرنا ہے۔ ’لیکن ایسا لگتا ہے جیسے بالی وڈ میں ایک اچھی کہانی کے لیے تاريخ کو تو ہوا میں ہی اچھال دیا جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ
وہ کہتی ہیں کہ لوگ بھی اس بات کو اسی وقت اچھی طرح سمجھ بھی گئے تھے کہ فلم ساز نے تسلیم شدہ تاریخ کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے جب فلم کے ٹریلر ریلیز ہوئے تھے۔
سوشل میڈیا پر بھی بہت سے لوگوں نے اس پر یہ کہہ کر نکتہ چینی شروع کر دی تھی کہ یہ تو ایک تاریخی دور کو گلیمرائز طریقے سے پیش کرنے کی کوشش ہے۔
وہ والدین جو اپنے بچوں کے ساتھ فلم دیکھنے گئے وہ اس مایوسی کے ساتھ واپس آئے کہ اس فلم میں تاریخ سے زیادہ تو رومانس ہے۔
دہلی میں رہنے والی تاریخ کی ایک استانی واسو دتّہ سرکار کا کہنا ہے کہ ’فلم کا سکول کے بچوں پر گہرا اثر پڑتا ہے اور اس سے وہ کنفیوز ہو سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فلم اشوکا میں بھی بہت سی تاریخی حقائق مسخ کر کے پیش کیے گئے تھے جس سے تاریخ کے بہت سے طلبا تذبذب کا شکار ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
لیکن فلم بنانے والے اور اس میں کردار ادا کرنے والے افراد اس کا دفاع کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ فلم تو بس ماضی کے لوگوں کے متعلق ایک افسانوی کہانی ہے۔
فلم کے ہدایت کار آشوتوش گواریکر نے مقامی میڈیا سے ایک انٹرویو میں کہا کہ فلم دیکھتے وقت لوگوں کو اس کی تاریخي حقائق اور اس کے سچ ہونے کے حصے کو نظرانداز کر دینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلم بناتے وقت ایک تخلیق کار کی حیثیت سے انھوں نے کرداروں کے رکھ رکھاؤ کے انتخاب میں آزادی سے کام لیا۔







