کیا پاکستان کا ’مثبت تشخص‘ صرف غیر ملکی بلاگرز کے کہنے سے اجاگر ہوتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Travelstudio92
- مصنف, سارہ عتیق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
کس کو برا لگتا ہے کہ غیر ملکی لوگ آپ کے وطن کا دورہ کریں اور اس کی شان میں قصیدے پڑھیں۔
حال ہی میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیتھرین جارج نامی صارف نے ایک سفید فام خاتون کی پاکستانی مردوں کے ساتھ تصاویر شئیر کیں اور لکھا کہ ’دنیا میں عورتوں کی کوئی ایسی عزت نہیں کرتا جتنا پاکستانی مرد کرتے ہیں اور پاکستان وہ ملک ہے جو عورتوں سے محبت اور (ان کی) عزت کرتا ہے۔‘
کیتھرین کی جانب سے شائع کی گئیں یہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں اور جہاں بہت سے پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے ان تصاویر کو بڑے فخر سے شئیر کیا، وہیں کئی افراد نے انھیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
ان تصاویر کو سراہانے والے صارفین کا کہنا تھا کہ کیتھرین نے نہ صرف یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان خواتین کے لیے ایک محفوظ ملک ہے بلکہ عورت مارچ کے منتظمین اور متعدد این جی اوز کےخواتین کی آزادی سے متعلق بیانیے کو بھی بے نقاب کر دیا۔
لیکن دوسری جانب بہت سی خواتین کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے آئی ایک سفید فام خاتون کے پاس حق نہیں کہ وہ پاکستان کی عوام اور خاص طور پر خواتین کے ان کی حفاظت اور زندگی سے متعلق تجربات کو اس طرح رد کرے۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابھی یہ بحث جاری ہی تھی کہ یہ بھانڈا پھوٹ گیا کہ دراصل کیتھرین جارج نامی خاتون کوئی حقیقی شخصیت نہیں اور یہ اکاؤنٹ جعلی ہے جس نے پولینڈ کی ایلکس مروز نامی بلاگر خاتون کی دورہ پاکستان کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر استعمال کی تھیں۔
ایلکس نے اپنے انسٹاگرام اکاونٹ پر اس فیک اکاؤنٹ کو رپورٹ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے لکھا کہ میری اجازت کے بغیر میری تصاویر شئیر کی گئیں ہیں اور میں پاکستان کی لڑکیوں اور خواتین کی طرف سے بات نہیں کر سکتی جو یہاں رہتی ہیں اور اپنے ملک کو بہتر جانتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Afnanbashir12
انھوں نے مزید لکھا کہ کیتھرین نامی صارف کی طرف سے کی گئیں پوسٹس کے ذریعے ایسا ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک سفید فام لڑکی جس نے پاکستان میں چند دن گزارے ہیں، وہ پاکستان کے بارے میں سب جانتی ہے اور یہ تعجب کی بات ہے کہ ایسے متعصبانہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آتے ہیں جب خواتین پدرشاہی کے خلاف مارچ کرتی ہیں۔
ایلکس کی جانب سے اس وضاحت کے سامنے آنے کے بعد کیتھرین جارج نامی صارف نے یہ کہتے ہوئے تصاویر ڈیلیٹ کر دیں کہ ’میں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ تصاویر میری ہیں۔ میں نے یہ تصاویر مثبت سوچ کے لیے شئیر کی تھیں اور آپ مجھے چند منفی سوچ رکھنے والوں کے لیے مورد الزام نہیں ٹھرا سکتی۔‘

،تصویر کا ذریعہInstagram/@goldenbrownbaozi
پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لیے سفید فام افراد کا سہارا کیوں؟
تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ سفید فام شخص کی شناخت والے فیک ٹوئٹر اکاونٹ بنائیں گئے ہوں۔
اس وقت بھی ٹوئٹر پر ترکی، چین، روس اور یورپ کی شہریت والے افراد سے منسوب ایسے متعدد اکاؤنٹس ہیں جن کی اصل شناخت مشکوک ہے۔
پاکستانی کامیڈین اور پوڈ کاسٹ کرنے والے شہزاد غیاث نے سنہ 2019 میں سمینتھا گیری نامی ایک سفید فام خاتون کا فیک اکاؤنٹ بنایا جس میں انھوں نے پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی جس کے بعد متعدد پاکستانیوں نے انھیں اپنا مہمان بنانے کی دعوت دے ڈالی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@iKatherineGeorg
سمینتھا گیری کے اکاؤنٹ سے انھوں نے متعدد غیر ملکی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی طرح نہ پاکستان کی خوبصورت تصاویر شئیر کی بلکہ یہ بتایا کہ کیسے پاکستان خواتین کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔
لیکن اس کے چند گھنٹے بعد ہی شہزاد نے خود یہ راز فاش کر دیا کہ اس اکاؤنٹ کے پیجھے وہ ہیں۔
شہزاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے اس تجربے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ آج بھی پاکستان کی عوام کی بڑی تعداد سامراجی سوچ اور نظریے کی غلام ہے جو سمجھتی ہے کہ سفید فام ہم سے بہتر ہیں لہذا اپنے تجربات اور نظریات پر ان کی رائے کو فوقیت دیتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@SamanthaAGerry1
ان کا کہنا ہے کہ کیتھرین جارج جیسے فیک اکاؤنٹ بنانے والوں کی بھی یہی سوچ ہے، جن کو لگتا ہے کہ اس ملک کے مسائل حل کرنے کے بجائے ہم اس قسم کے سفید فام افراد کے فیک اکاؤنٹ سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں سب اچھا ہے۔
شہزاد نے سمینتھا گیری نامی فیک اکاؤنٹ امریکی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سنتھیا رچی کے حوالے سے اُن کے اُس پوسٹ کے بعد بنایا تھا جس میں سنتھیا رچی کو پشاور کی سڑکوں پر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا گیا۔
سنتھیا کی ان تصاویر کو شئیر کرتے ہوئے متعدد صارفین نے لکھا تھا کہ کیسے سنتھیا نے ثابت کر دیا کہ پاکستان خواتین کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔
شہزاد کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کا پاکستان میں اپنے تجربات کو بتانا غلط نہیں لیکن ان تجربات کی بنا پر پاکستان کی عوام کی رائے کو رد کرنا غلط ہے۔
’کیا آپ نے کبھی کسی پاکستانی خاتون یا مرد کو امریکہ جا کر یہ کہتے دیکھا ہے کہ میرا امریکہ میں رہنے کا تجربہ بہت اچھا ہے اور سیاہ فام افراد کی تفریق اور تعصب سے متعلق باتیں غلط ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Moosa_Patriot
کیا غیر ملکیوں کے فیک اکاؤنٹس پاکستان کی مثبت تشخص اجاگر کرنے میں کارآمد ہیں؟
پاکستان کے وزیراعظم کے ترجمان برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کی ایسی پہلی حکومت ہے جس نے ملک کے ’مثبت تشخص‘ کو اجاگر کرنے کے لیے پاکستانی اور غیر ملکی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ساتھ کام کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
ڈاکٹر ارسلان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس سلسلے میں پاکستان اور غیر ملکی انفلوئنسرز میں تفریق نہیں کی۔
’جہاں حکومت نے ملکی مسائل جیسے کے کورونا سے متعلق آگاہی کے لیے پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ساتھ کام کیا وہیں سیاحت کے فروغ کے لیے غیر ملکی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو سراہا لیکن اگر کوئی غیر ملکی پاکستان میں گزارے وقت کا تجربہ لوگوں سے شئیر کرتا ہے تو ان کو اس کی مکمل آزادی ہے تاہم اس قسم کے فیک اکاؤنٹ بنا کر ایسا کرنا درست نہیں کیونکہ جب ایسے اکاؤنٹس کی اصلیت سامنے آتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے باعث شرمندگی ہے۔‘
ڈاکٹر ارسلان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت فیک اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کرنے میں سرگرم ہے تاہم اس سلسلے میں ٹوئٹر کا ردعمل سست روی کا شکار ہے۔












