سنتھیا ڈی رچی: ’ویزے میں توسیع کی درخواست مسترد، امریکی شہری کو 15 روز میں پاکستان چھوڑنے کا حکم‘

رچی

،تصویر کا ذریعہ@CynthiaDRitchie

وفاقی وزارتِ داخلہ نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کے ویزے میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

سرکاری خبررساں ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق ویزے میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد وزارتِ داخلہ نے سنتھیا رچی کو آئندہ 15 روز میں پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ سنتھیا رچی کے پاس پاکستان میں رہنے سے متعلق تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں اور ان کے ویزے کی میعاد 31 اگست تک ہے۔

سنتھیا رچی بزنس ویزہ پر پاکستان آئی تھیں اور انھوں نے اپنے ویزے میں توسیع کی درخواست دے رکھی تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کو وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مذکورہ امریکی شہری کے ویزے کی مدت میں توسیع کی درخواست کو وزیر داخلہ نے مسترد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اہلکار کے مطابق سنتھیا ڈی رچی کے ویزے میں توسیع سے متعلق درخواست پر ایڈیشنل سیکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جنھوں نے اس درخواست کا جائزہ لینے کے بعد سفارش کی کہ ویزے کی معیاد میں توسیع نہ کی جائے۔

سنتھیا ڈی رچی کے وکیل عمران فیروز کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔

واضح رہے کہ سنتھیا رچی کو ملک بدر کرنے کی ایک درخواست سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما افتخار احمد نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر رکھی ہے۔

اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ امریکی شہری کے پاکستان میں ویزے کی میعاد نہ صرف ختم ہو چکی ہے بلکہ وہ ایسی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں جو ملک مخالف ہیں۔

سنتھیا

،تصویر کا ذریعہFacebook/ scynthiadritchie

،تصویر کا کیپشنسنتھیا رچی کی پاکستانی پولیس کی خواتین اہلکاروں کے ہمراہ لی گئی تصویر

’سنتھیا کسی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث نہیں‘

سنتھیا ڈی رچی کے وکیل عمران فیروز ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اگلے چند روز میں وزارت داخلہ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ خود وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رپورٹ جمع کروائی ہے کہ سنتھیا ڈی رچی پاکستان میں کسی غیر قانونی یا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں۔

اُنھوں نے امید ظاہر کی کہ وزارتِ داخلہ کے حکام ان کی اپیل پر غور کرتے ہوئے ان کی مؤکلہ کے ویزے کی مدت میں توسیع کریں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ان کے ویزے کی مدت میں توسیع نہیں ہوتی اور وہ امریکہ واپس چلی جاتی ہیں تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کے خلاف درخواستوں کی سماعت کا کیا ہوگا تو سنتھیا ڈی رچی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کی گواہی سکائپ پر بھی لی جاتی ہے اس کے علاوہ اسلام آباد میں ای کورٹس بھی کام کر رہی ہیں۔

پاکستانی سیاستدانوں کے خلاف بات کرنے پر پابندی

گذشتہ روز سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کے حکم پر سنتھیا ڈی رچی کے پاکستان میں قیام سے متعلق وزارت داخلہ کا بیان بھی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنتھیا ڈی رچی کو پاکستان کی سیاسی شخصیات کے خلاف بیانات دینے سے روکتے ہوئے وفاقی وزارت داخلہ سے بزنس ویزا پالیسی پر وضاحت بھی طلب کی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی بلاگر سنتھیا رچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر سماعت کا آغاز کیا تھا تو حکومتی وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سنتھیا رچی نے وزارت داخلہ کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ پاکستان میں کسی سرکاری ادارے سے منسلک نہیں رہی ہیں۔

نمائندہ بی بی سی اعظم خان کے مطابق اس پر چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا تھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ پہلے تو عدالت کو بتایا گیا تھا کہ امریکی بلاگر پاکستان میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے ساتھ پراجیکٹس پر کام کر رہی تھیں۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ اس حوالے سے پالیسی کیا ہے؟ کیا بیرون ملک سے آ کر کوئی بھی یہاں کچھ بھی کر سکتا ہے؟ کیا سنتھیا موجودہ حکومت کے خلاف بھی بیانات دیں تو کیا پالیسی یہی ہو گی؟

وزارت داخلہ کے نمائندے نے جب عدالت کے سامنے اس حوالے سے ایک آرڈر پیش کیا تو چیف جسٹس نے کہا یہ آپ نے کیا آرڈر جاری کیا ہے؟ کیا کوئی قانون یا پالیسی نہیں ہے؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا آپ کے پاس کوئی دستاویز ہے جو بتائے کہ غیر ملکیوں کے لیے پاکستان کی ویزا پالیسی کیا ہے؟ کل کوئی اور بزنس ویزے پر آ کر وزیراعظم کے خلاف بیانات دے تو اسے بھی چھوڑ دیں گے؟

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کر دی تھی۔

رحمان ملک

رحمان ملک کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے حکم کالعدم

علاوہ ازیں بدھ کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے سابق وفاقی وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رحمان ملک کے خلاف اندراج مقدمہ سے متعلق درخواست مسترد کرنے کا مقامی عدالت کا ایک فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سنتھیا ڈی رچی نے کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ سابق وزیر داخلہ کے خلاف اُنھیں (سنتھیا) مبینہ طور پر جنسی ہراساں کرنے پر ایف آئی آر درج کر جائے۔

تاہم مقامی عدالت نے پانچ اگست کو عدم ثبوتوں اور پولیس کی رپورٹ کی روشنی میں یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔

سنتھیا رچی نے اس عدالتی فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بدھ کے روز اس درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’جسٹس آف پیس‘ (مقامی عدالت) نے اپنے فیصلے میں اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقامی عدالت نے مقدمے کے انداراج سے متعلق اپنا فیصلہ سناتے ہوئے قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو مدنظر نہیں رکھا اس لیے اس عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مذید کہا ہے کہ سنتھیا ڈی رچی کی طرف سے سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے خلاف مقدمے کے اندارج کی درخواست کو زیر التوا تصور کیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو حکم دیا ہے مقدمے کے اندارج کی اس درخواست کا معاملہ جسٹس آف پیس کو بھیجا جائے۔ اس فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ معاملہ اس جج کی سربراہی میں قائم ہونے والے جسٹس آف پیس کو نہ بھیجا جائے جنھوں نے ابتدا میں یہ درخواست مسترد کی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ جسٹس آف پیس فریقین کو سن کر تین ہفتوں میں اس درخواست سے متعلق فیصلہ کریں۔

واضح رہے کہ سنتھیا ڈی رچی نے رحمان ملک سمیت سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں کو اُنھیں مبینہ طور پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے تاہم ان رہنماؤں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

سنتھیا رچی نے سابق وزیر داخلہ کے خلاف مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کے بارے میں ایک درخواست اسلام آباد کے تھانے سیکریٹریٹ میں بھی جمع کروائی تھی تاہم مقامی پولیس نے عدم ثبوت کی بنا پر اس درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہTwitter

اس کیس میں پہلے کیا ہوتا رہا؟

گذشتہ ماہ وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہیں جو کہ غیر قانونی یا ملک کے قانون کے خلاف ہو۔

وزارت داخلہ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ سنتھیا رچی کے پاس پاکستان میں رہنے سے متعلق تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں اور ان کے ویزے کی میعاد 31 اگست تک ہے۔

گذشتہ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا تھا کہ وہ وزارت داخلہ کی اس رپورٹ کو عدالت میں چیلنچ کریں گے جس میں کہا گیا ہے امریکی بلاگر کا پاکستان میں قیام غیر قانونی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے دلائل کے دوران یہ ثابت کریں گے کہ سنتھیا رچی کو ویزے میں دی جانے والی توسیع نہ صرف غیرقانونی ہے بلکہ وہ پاکستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ سیکریٹری داخلہ اس معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔

بینظیر

،تصویر کا ذریعہAFP

ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایف آئی اے کو اُن کے خلاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان نے سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر شکیل عباسی کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست پر ایف آئی اے کو سنتھیا رچی کے خلاف تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔

درخواست گزار نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے خلاف 'نازیبا' ٹویٹس کرنے اور درخواست گزار کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر سنتھیا رچی کے خلاف مقدمے کے اندارج کی استدعا کی تھی۔

سیشن کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اور ایف آئی اے میں جاری تحقیقات کو رکوانے کے لیے سنتھیا رچی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو کہ 22 جون کو مسترد کر دی گئی تھی۔

اسی روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار سنتھیا ڈی رچی کے وکیل نے ماتحت عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے حکمنامے کا ذکر کیا تو چیف جسٹس نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حکم میں تو ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کو انکوائری کا مکمل اختیار ہے، 'ایف آئی اے سے توقع ہے کہ وہ کسی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر کارروائی کرے گی۔'