یہ ’سنتھیا‘ کون ہیں اور پاکستانی ٹوئٹر پر ’سنتھیا‘ کا نام کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟

پاکستان

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنسنتھیا رچی خود کو پاکستان میں فری لانس پروڈیوسر اور ہدایت کار اور سٹریٹجیک کمیونِکیشنز کنسلٹنٹ کہتی ہیں
    • مصنف, عابد حسین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں نے منگل کی صبح جب ٹوئٹر کھولا تو شاید انھیں اندازہ نہیں تھا کہ نئے سال کی آمد پر پہلے ہی دن انھیں محظوظ کرنے کے لیے کس طرح کا مواد ملے گا؟

بات شروع ہوئی سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے والی امریکی شہری سِنتھیا رِچی کی غصے سے بھرپور ایک ٹویٹ سے جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ پاکستان میں شائع ہونے والے انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز کے کالم نویس یاسر لطیف ہمدانی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کریں گی۔

وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ یاسر لطیف ہمدانی نے اپنے حالیہ کالم میں ان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے اور اس کے خلاف وہ عدالت میں جائیں گی۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہTwitter

اپنی اگلی دو ٹویٹس میں سنتھیا نے اخبار کے مدیر رضا رومی اور ناشر شہریار تاثیر کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو آگے تک لے جائیں گی اور ساتھ ہی انھوں نے امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو بھی ٹویٹ میں ٹیگ کیا۔ (واضح رہے کہ امریکہ میں 'شٹ ڈاؤن' کی وجہ سے سرکاری ادارے کام نہیں کر رہے۔')

سنتھیا رچی کی ٹویٹ کے جواب میں پاکستانی سوشل میڈیا پر متحرک رہنے والے فرحان ورک نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رضا رومی طالبان کی مخالفت کرنے پر گولیوں کا نشانہ بنے ہیں اور اختلاف رائے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کی ذات پر کیچڑ اچھالا جائے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہTwitter

ان ابتدائی ٹویٹس کے بعد ٹوئٹر پر ایک جنگ کا ماحول بن گیا اور دونوں جانب سے تابڑ توڑ حملے شروع ہو گئے۔

ایک جانب فرحان ورک اور ان کے ساتھیوں نے سنتھیا پر الزام لگایا کہ وہ سفید فام امریکی ہونے کے ناطے فائدہ اٹھاتی ہیں اور کہا کہ وہ پاکستانیوں کو لیکچر دینا بند کریں۔

دوسری جانب سنتھیا کے حمایتیوں نے #WeSupportCynthia کے نام سے ہیش ٹیگ ٹرینڈ شروع کر دیا جو دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کا سب سے زیادہ ٹرینڈ ہونے والے موضوع بن گیا۔

ساتھ ساتھ پاکستانی امور پر ٹویٹ کرنے والے شخص رچرڈ ہیرس بھی میدان میں کود پڑے اور زور و شور سے سنتھیا کی حمایت، اور پاکستانی ’لبرلز‘ اور فرحان ورک کے خلاف ٹویٹس کی بوچھاڑ کر دی۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہTwitter

فرحان ورک کو ' ڈرپوک' قرار دیتے ہوئے انھوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وہ امید کر رہے تھے کہ فرحان رضا رومی اور یاسر لطیف ہمدانی کی مذمت کریں گے۔

لیکن فرحان ورک بھی کہاں رکنے والے تھے، انھوں نے سنتھیا رچی کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ 'میں نے آپ کے کام پر تحقیق کی ہے اور دیکھا کہ آپ نے پاکستان کا مثبت تاثر بڑھانے کے لیے ہزاروں دستاویزی فلمیں بنائی ہیں جو کہ لاکھوں برطانوی اور امریکی شہریوں نے دیکھیں ہیں۔'

جب ان سے کسی نے معلوم کیا کہ کیا آپ واقعتاً سنجیدہ ہیں، تو فرحان نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ 'باجی نے صرف پانچ ویڈیو بنائی ہیں اور یہ ویڈیو صرف پاکستانیوں نے دیکھیں ہیں۔'

پاکستان

،تصویر کا ذریعہTwitter

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں سنتھیا رچی کی جانب سے ’پاکستان کی مثبت تصویر پیش کرنے کے لیے‘ پشاور میں سائیکل چلاتے ہوئے اور ٹرک کے سامنے کھڑی تصاویر ٹوئیٹر پر پوسٹ کی گئی تھیں۔ سِنتھیا رِچی نے ان تصاویر کے ساتھ 'مثبت پاکستان'، 'ابھرتا پاکستان' اور 'ایک الگ زاویہ' جیسے ہیش ٹیگز استعمال کیے تھے۔

خود کو فری لینس پروڈیوسر اور ہدایت کار اور سٹریٹجیک کمیونِکیشنز کنسلٹنٹ اور 'ڈیوِلز ایٹووکیٹ' (یعنی وہ جو ہر بات کا مخالف نظریہ پیش کرنے پر یقین رکھتے ہوں) قرار دینے والی سنتھیا کا کہنا ہے کہ وہ صحافی نہیں ہیں۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہTwitter

حسن اتفاق کچھ ایسا تھا کہ خود کو نجی کاروبار کے مالک کہنے والے اور جنوبی ایشیا کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے رچرڈ ہیرس پہلے بھی سنتھیا کا سوشل میڈیا پر دفاع کر چکے ہیں۔

'کیا سنتھیا رچی واقعی پاکستانیوں میں اس قدر مقبول ہیں؟'

اس #WeSupportCynthia والے ہیش ٹیگ کا اگر جائزہ لیں تو وہ تمام ٹویٹس جو سنتھیا رچی کی حمایت میں کی گئی ہیں ان میں کہا گیا کہ سنتھیا نے پاکستان کے لیے کس قدر مثبت کام کیے ہیں اور دنیا بھر کو پاکستان کی خوبصورتی سے روشناس کرایا ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ 'تمام ہوشمند پاکستانی سنتھیا کے ساتھ ہیں۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

صارف سعد کلیم لکھتے ہیں کہ وہ سنتھیا کے خلاف ہونے والی مہم کی سخت مذمت کرتے ہیں اور وہ پاکستان کا مثبت تاثر بڑھانے کے لیے سنتھیا کی خدمات کو سراہتے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

ایک اور صارف حبیب یوسفزئی نے سنتھیا رچی کے کام کی ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمارے معاشرے کی اتنی مثبت تصویر دکھانے والی سنتھیا سے میں کیسے نفرت کر سکتا ہوں؟'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

سنتھیا رچی کی حمایت میں اتنی تیزی سے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کا بننا اور سرفہرست آجانے پر بھی کئی لوگوں کے ذہن میں سوالات پیدا ہوئے۔ اس کے بارے میں ڈیٹا جرنلزم کرنے والے صحافی شہریار پوپلزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے #WeSupportCynthia کے ٹرینڈ کو جاری دیکھا تو انھیں یقین تھا کہ یہ ’مصنوعی طور پر کیا جا رہا ہے۔‘

'ہمارے سافٹ وئیر 'پراجیکٹ شکاری' کی مدد سے ہم نے اس ہیش ٹیگ پر کی جانے والی ٹویٹس کو جانچا تو معلوم ہوا کہ صرف دو گھنٹے میں ہی وہ ٹاپ ٹرینڈ بن چکا تھا اور اس کے ساتھ کی جانے والی ٹویٹس کی تعداد 13 ہزار سے زیادہ تھی اور ابتدا میں تو وہ تمام کی تمام سنتھیا کے حق میں ہی تھیں۔'

شہریار پوپلزئی نے بتایا کہ ان کی تحقیق کے مطابق ایک واضح تعداد نقلی یا جعلی اکاؤنٹس سے کی گئی تھیں۔

'ہم نے یہ دیکھا کہ ایک ہی جیسی ٹویٹ کئی مختلف اکاؤنٹ سے کی گئیں اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ ٹویٹس باقاعدہ طور پر ایک مہم کا حصہ ہیں۔'

دوسری جانب سنتھیا کی جانب سے یاسر لطیف ہمدانی اور ڈیلی ٹائمز اخبار کو عدالت میں لے جانے کے دعوے پر صحافی عصام احمد نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ سنتھیا کی کسی عدالت میں شنوائی ہو گی۔

سنتھیا نے جلد ہی رضا رومی سے معذرت کرتے ہوئے ٹویٹ کی اور کہا کہ وہ شاید غصے میں زیادہ بول گئیں اور ان کا مقصد دل آزاری کرنا نہیں تھا۔

انھوں نے لکھا کہ 'ہم سب کو مہذب طریقے سے بات کرنی چاہیے اور دوسروں کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔'

پاکستان

،تصویر کا ذریعہTwitter

رضا رومی نے بھی اپنی ٹویٹ میں سنتھیا کی معافی کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ 'کبھی کبھی ہم غصے میں ایسا کچھ بول جاتے ہیں جس پر بعد میں ہمیں ندامت ہوتی ہے۔'

لیکن فرحان ورک شاید سنتھیا کو معاف کرنے کے موڈ میں نہیں لگتے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سنتھیا رچی کے بارے میں وہ مزید ویڈیو ٹوئٹر پر جاری کریں گے اور انھیں اس بات کی ابھی بھی شکایت ہے کہ کوئی سفید فام شخص پاکستان میں رہتے ہوئے کس طرح پاکستانیوں کی خلاف بات کر سکتا ہے۔