آرمی چیف کو خط لکھنے کا معاملہ: سابق جنرل کے بیٹے کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستانی فوج کے سربراہ، کور کمانڈرز اور اعلیٰ افسران کو خطوط لکھنے کے معاملے پر گرفتار ہونے والے ایک ملزم کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کمانڈنگ افسر خود اس بات کا تعین کرے کہ آیا یہ معاملہ فوجی عدالت کے دائرہ سماعت میں آتا ہے یا اس کو سویلین عدالت میں بھیجا جائے۔‘
عدالت کا کہنا تھا کہ فوجی عدالت اس وقت تک زیر حراست ملزم کے خلاف کوئی فیصلہ نہ دے جب تک اس معاملے کی تفتیش کرنے والے افسر خود اس بات کا تعین نہ کرلیں کہ ملزم کے اس اقدام کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی بنتی ہے یا نہیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ مدعی کی طرف سے جو جواب جمع کروایا گیا ہے اس میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ابھی اس معاملے کی تفتیش ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
واضح رہے کہ ملزم حسن عسکری پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل سید ظفر مہدی کے صاحبزادے ہیں اور اُنھیں چند ماہ قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع اور دیگر معاملات پر آرمی چیف، تھری سٹار اور ٹو سٹار جنرلز کو خطوط لکھنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی فوج کے ایجوٹینٹ جنرل کی جانب سے اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جو جواب جمع کروایا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ملزم کا یہ اقدام ماتحت افسران کو اعلیٰ افسران کے خلاف بغاوت پر اکسانا ہے۔ اس جواب میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ملزم حسن عسکری کو گرفتار کرنے سے پہلے انھیں کئی بار متنبہ کیا گیا کہ وہ ایسی حرکتوں سے باز آجائیں لیکن انھوں نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
درخواست گزار میجر جنرل ریٹائرڈ سید ظفر مہدی کی وکیل زینب جنجوعہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے یہ فیصلہ اوپن کورٹ میں سنایا اور کمرہ عدالت میں فوجی افسران کے علاوہ سویلین بھی موجود تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’عدالت نے اپنے فیصلے میں کمانڈنگ افسر کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہر دو ہفتوں کے بعد ملزم سے اس کے گھر والوں کی ملاقات کروائی جائے۔‘
زینب جنجوعہ کا کہنا تھا کہ کمرہ عدالت میں موجود فوج کے قانونی معاملات کو دیکھنے والے ادارے جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ کے نمائندوں نے عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
درخواست گزار کی وکیل کا کہنا تھا کہ ابھی انھیں اس فیصلے کی مصدقہ کاپی نہیں ملی جس کو دیکھنے کے بعد وہ اپنے موکل سے مشورہ کر کے فیصلہ کریں گے کہ آیا اس عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنا ہے یا نہیں۔
پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل سید ظفر مہدی کی طرف سے اپنے بیٹے کی بازیابی اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی رکوانے کے لیے جو درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی اس میں یہ موقف بھی اپنایا گیا تھا کہ کسی سویلین کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔













