ڈومینیکا ماریہ اور اویی نائیجل: جرمن سیاح جوڑا لاہور کی سڑکوں پر دربدر کیوں ہوا؟

،تصویر کا ذریعہ@uwegluecklich
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
کسی نے انھیں ’جرمن جاسوس‘ کہا تو کوئی انھیں لاہور کی سڑکوں پر موجود ’پُراسرار جوڑا‘ کہتا نظر آیا۔ کسی نے انھیں ’غیر ملکی بھکاری‘ سمجھا تو کسی نے انھیں سٹرک پر کرتب دکھاتے دیکھ کر ازراہِ مزاح کہا ’دیکھو وزیِرِ عمران خان نے کہا تھا نا کہ نئے پاکستان میں باہر سے لوگ نوکریاں ڈھونڈنے پاکستان آئیں گے۔۔۔ یہ دیکھیں جرمن جوڑا لاہور کی سڑکوں پر کرتب دکھا کر پیسے کما رہا ہے۔‘
پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی سڑکوں پر دربدر اس غیر ملکی جوڑے کے بارے میں بے شمار مفروضے اور تبصرے سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
یہ جوڑا پاکستان میں کب آیا، اس بارے میں بھی مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
تو غیر ملکیوں کا یہ جوڑا ہے کون؟ یہ لاہور میں کیا کر رہے تھے؟ اور لاہور پولیس نے انھیں کہاں اور کیوں منتقل کیا ہے؟
لاہور سٹی کے اسسٹنٹ کمشنر فیضان احمد کے آفس سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق لاہور میں واقع ایک تھری سٹار ہوٹل کے ریکارڈز کے مطابق اس جوڑے نے اکتوبر 2020 میں پہلی مرتبہ ان کے پاس کمرہ بک کرایا اور پانچ، چھ دن رہنے کے بعد جب وہ ادائیگی کے قابل نہ ہو سکے تو انھیں ہوٹل چھوڑنا پڑا اور وہ ہوٹل سے نکل کر پارکنگ میں موجود اپنی گاڑی میں منتقل ہو گئے جس پر جرمنی کی نمبر پلیٹ لگی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مطابق اس کے بعد ہوٹل کی انتظامیہ نے انار کلی تھانے میں ایک درخواست دی کہ ایک غیر ملکی جوڑا ہمارے ہوٹل کے سامنے والے حصے میں رہائش پذیر ہے جس کے بعد یہ جوڑا انتظامیہ کے نوٹس میں آیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس درخواست کے بعد سپیشل برانچ نے اس کیس پر کام شروع کیا اور جوڑے سے پوچھ گچھ بھی کی گئی جس میں انھوں نے بتایا کہ وہ 11 ممالک کی سیر کر چکے ہیں اور اپریل 2019 میں بذریعہ تفتان بارڈر پاکستان پہنچے ہیں۔
دورانِ تفتیش حکام کو یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ جوڑا پاکستان سے آگے انڈیا جانا چاہتا تھا لیکن پہلے نامعلوم وجوہات کی بنا پر انھیں ویزا نہیں ملا اور بعد میں کورونا وائرس اور سرحد کی بندش کے باعث وہ اپنا سفر جاری نہیں رکھ پائے اور ویزا ختم ہونے کے باوجود کئی مہینوں سے لاہور میں انارکلی نابھا روڈ پر کسٹمز ہاؤس کی دیوار کے ساتھ کھڑی اپنی گاڑی میں ہی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مطابق جس مقام پر ان سیاحوں کی گاڑی پارک تھی وہ ایک حساس علاقہ ہے اور اتوار کی رات کئی گھنٹوں تک گاڑی میں غیر موجودگی پر ان کی گاڑی سڑک سے ہٹوا دی گئی اور سیاحوں کے واپس آنے پر لاہور کے اسسٹنٹ کمشنر سٹی فیضان احمد نے گھنٹوں مذاکرت کرنے کے بعد اس جوڑے کو حساس علاقے سے کسی محفوظ جگہ/پناہ گاہ منتقل ہونے پر رضامند کر لیا۔
انھوں نے بتایا کہ اس جوڑے نے سرکاری پناہ گاہ میں رہنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی گاڑی میں ہی رہیں گے لہذا انھیں گاڑی سمیت سمن آباد میں بیت المال کے دفتر کی پارکنگ میں منتقل کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook\GesundheitLiebeFreiheit
غیر ملکیوں کا یہ جوڑا 40 سالہ اویی نائیجل اور ان کی اہلیہ 35 سالہ ڈومینیکا ماریہ نائیجل ہیں جن کا تعلق جرمنی سے ہے اور وہ اپنی ذاتی گاڑی میں دنیا بھر کی سیاحت پر نکلے ہیں۔
یہ جوڑا پولینڈ، چیک ریپبلک، آسٹریا، ہنگری، رومانیہ، بلغاریہ، ترکی، عراق اور ایران سمیت کئی ممالک گھومنے کے بعد سنہ 2019 میں پاکستان پہنچا تھا۔
پاکستان پہنچنے کے بعد وہ کوئٹہ، اسلام آباد سمیت کئی شہروں کی سیاحت کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہYoutube\Lamha News
بی بی سی بات کرتے ہوئے اسٹسنٹ کمشنر لاہور سٹی فیضان احمد کا کہنا تھا اس جوڑے کے ابتدائی ویزے کی میعاد جولائی 2019 تک تھی جس میں توسیع کروائی گئی لیکن توسیع کے بعد ان کے آخری ویزے کی میعاد بھی اکتوبر 2020 میں ختم ہو چکی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ پاکستان آنے کے بعد یہ جوڑا مختلف علاقوں کی سیاحت پر تھا اور ان کا ارادہ واہگہ بارڈر کے ذریعے انڈیا جانے کا تھا تاہم پہلے انھیں ویزا نہیں ملا اور بعد میں کورونا وائرس کے باعث وہ انڈیا نہیں جا پائے لہذا تب سے انھوں نے لاہور میں ہی اپنی ذاتی گاڑی میں رہائش اختیار کر لی۔
اسسٹنٹ کمشنر سٹی فیضان احمد کے مطابق یہ جرمن جوڑا پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم ہے اور امیگریشن اتھارٹیز، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، کسٹمز اور سفارت خانے سمیت سب کو آن بورڈ لے لیا گیا ہے اور متعلقہ وزارتوں کو بھی اطلاع کر دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دو سے تین دن کے اندر اس جرمن جوڑے کے حوالے سے فیصلہ کر لیا جائے گا کہ آیا انھیں جرمنی ڈی پورٹ کرنا ہے یا اگر سرحد کی دوسری جانب سے حکام نے اجازت دے دی اور انھیں ان کی اگلی منزل بھیجا سکتا ہوا تو شاید ان کے ویزے کی مدت بڑھائی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہYoutube\ilme aalim
گذشتہ اکتوبر میں لاہور میں سڑک کنارے دیے گئے ایک انٹرویو میں جرمن خاتون ڈومینیکا ہاتھ میں پیسے جمع کرنے والا ایک ڈبہ اٹھائے نظر آتی ہیں اور اپنا نام میکا بتاتی ہیں۔
اسی انٹرویو میں انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ انارکلی میں اپنے شوہر اور کتے کے ہمراہ اپنی ذاتی گاڑی میں رہتی ہیں جس کے چھت پر سونے کا انتظام کر رکھا ہے اور اس کے پچھلے حصے میں کچن بھی بنا رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں قدرتی ماحول میں زیادہ خرچہ کیے بغیر رہنا اور گوشت کے بغیر خود پکائی گئی سادہ خوراک کھانا پسند ہے اور وہ صرف انتہائی ضرورت پڑنے پر ہی کسی ہوٹل میں قیام کرتے ہیں۔
انھوں نے پاکستانیوں کی مہمان نوازی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعض اوقات لوگ انھیں پیسے بھی دے دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہImran Mazhar
وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ انھوں نے جرمنی میں کئی طرح کے مختلف کام کرنے کا تجربہ حاصل کیا ہے جس میں سوشل ورک سے آرٹ اور فلسفہ تک سبھی شامل ہے اور وہ دینا بھر کا سفر کر رہی ہیں تاکہ جو کچھ انھوں نے سیکھا وہ مفت میں سب کے ساتھ شئیر کر سکیں۔
ایسی ہی ایک اور ویڈیو میں ڈومینیکا دنیا بھر کی سیاحت کے خواب، اب تک کے سفر اور پاکستان میں زندگی اور سرحدیں ختم ہو جانے کی خواہش کا بھی اظہار کرتی ہیں۔
ڈومینیکا یہ بھی کہتی ہیں کہ ساری دنیا ان کا گھر ہے اور ان کا اصل مقصد دنیا بھر میں پیار بانٹنا ہے۔
انٹرویو کرنے والے رپورٹر نے جب انھیں اپنے چینل میں کام کرنے کی آفر کی، ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس سب کا تجربہ نہیں اور سارے تکنیکی کام میرے شوہر ہی کرتے ہیں۔ لیکن جب رپورٹر نے ان کے شوہر سے بات کرنا چاہی تو انھوں نے بتایا کہ ان کے شوہر کو لوگوں سے باتیں کرنا زیادہ پسند نہیں ہے۔
یوٹیوب پر ستمبر 2020 کو پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اس جوڑے کو سڑکوں پر کرتب دکھاتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook\GesundheitLiebeFreiheit
تو اتنا عرصہ ان کی گاڑی ایک حساس علاقے میں کیسے پارک رہی؟
اسسٹنٹ کمشنر فیضان احمد کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ حال ہی میں ان کی سامنے لایا گیا لہذا ڈی سی لاہور نے اتوار کو اس پر ایکشن لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان سیاحوں کی گاڑی جہاں پارک کی گئی تھی وہ کسٹمز ہاؤس کا فرنٹ اور ایک حساس علاقہ ہے نیز یہ کہ ان سیاحوں کو بھی کوئی خطرہ پیش آ سکتا تھا لہذا سکیورٹی اور حفاظت کے پیش نظر انھیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
اے سی لاہور یہ بھی بتایا کہ یہ جوڑا آرٹسٹ ہے اور انھوں نے فیس بک پر ایک پیج بھی بنا رکھا ہے جس پر مختلف اشیا فروخت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جوڑا نہایت کفایت شعار ہے اور گوشت کے بجائے سبزیوں اور پھلوں پر گزارا کرتے ہیں لہذا ابھی تک کم پیسوں میں ان کا گزارا چل رہا ہے۔
لاہور پولیس کے مطابق یہ جوڑا ہر اتوار کو سوپ بنا کر شہریوں میں مفت تقسیم بھی کیا کرتا تھا۔
عطیات کی ویب سائٹ کراؤڈ فنڈنگ پر ان خاتون کا پروفائل بھی موجود ہے۔ لہذا یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ شاید عطیات کے ذریعے ان کی گزر بسر چل رہی تھی۔
اس کے علاوہ پاکستان کے کئی نجی چینلز کو دیے گئے انٹرویوز میں انھیں سڑک کنارے ایک پیسے جمع کرنے والا ڈبہ اور پوسٹر اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے (جس پر’ورلڈ ٹور ود لو‘ لکھا ہے) اور انھی انٹرویوز میں ڈومینیکا ماریہ نائیجل بتاتی ہیں کہ وہ دنیا بھر کے سفر کے لیے فنڈز جمع کر رہی ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ بھیک نہیں بلکہ ان کا لوگوں سے مسکراہٹ کے تبادلے اور میل جول رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@uwegluecklich
بی بی سی کے رابطہ کرنے پر ڈومینیکا ماریہ نائیجل نے فی الحال بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مشکل صورتحال سے دوچار ہیں اور ابھی بات نہیں کر سکتیں۔
دوسری جانب بی بی سی کے بھیجے گئے سوالنامے کے جواب میں برلن میں واقع جرمنی کے پریس ڈیپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ وہ اس جرمن جوڑے کی صورتحال سے آگاہ ہیں اور اسلام آباد میں واقع ان کا سفارت خانہ اس جوڑے سے رابطے میں ہے۔
تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔










