17 سالہ نوجوان کے منفرد کاروبار کی کہانی، ’پیسے لگاؤ، پیسے کماؤ‘

ٹرینرز

،تصویر کا ذریعہSIMON JACOBS

کیا آپ کو اپنا 12 واں یوم پیدائش یاد ہے؟

شاید اس دن کوئی کیک کاٹا ہو، ہو سکتا ہے کہ وہ کیک کیٹرپلر کی شکل کا ہو اور اگر آپ زیادہ خوش قسمت رہے تو ہو سکتا ہے کہ آپ کے دوستوں نے آپ کے گھر قیام کیا ہو۔

اس دن آپ نے کیا کیا؟ خواہ جو بھی کیا ہو، شاید اس کا آپ کی باقی کی زندگی پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہوں گے۔

لیکن جو فرینکلن کے لیے اُسی دن یہ سب شروع ہوا اور آج وہ ٹرینر جوتوں کی کلیکشن کا انتہائی بیش قیمت ذخیرہ رکھتے ہیں اور برطانیہ میں ریپرز کی دنیا میں ٹرینرز جوتوں کے بڑے سپلائرز میں سے ایک ہیں۔

انھوں نے اپنے یوم پیدائش پر ملنے والے کچھ پیسے بچا کر معروف برطانوی گلوکارہ جیسی جے کے دستخط والے نائیکی کمپنی کے جوتے 'ایئر میکس 90 ایس' حاصل کیے اور ان کے مطابق وہ اس جوتے سے اپنے دوستوں کو متاثر کرنا چاہتے تھے۔

انھوں نے بی بی سی ریڈیو 1 نیوز بیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اسی دن بعد میں کسی نے انھیں دوگنی قیمت کی پیشکش کی۔ ظاہر ہے کہ میں نے پیسے لے لیے اور اپنی رقم کو دگنا کر لیا۔'

اس کے بعد سے انھوں نے جو سب سے قیمتی ٹرینرز (ریپر جوتے) فروخت کیے وہ 62 ہزار پاؤنڈ یعنی 81 ہزار ڈالرز کے تھے۔

اس جوتے کو حاصل کرنے کے لیے جو فرینکلن پرواز کرتے ہوئے امریکہ کے شہر لاس اینجلس پہنچے جہاں انھوں نے ایسی چیزوں کو ذخیرہ کرنے والے ایک شخص سے اسے 45 ہزار پاؤنڈ یعنی تقریبا 59 ہزار ڈالر میں خریدا۔

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام

وہ جوتے فیوچر نائیکی ایئرمیکس کے تھے اور ان کی خاص بات یہ تھی کہ اس کے تسمے خود بخود بند ہو جاتے تھے، بالکل فلموں کی طرح۔

جو فرینکلن کی عمر صرف 17 سال ہے اور وہ اپنے والدین کے ساتھ شمال مغربی لندن میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جوتوں کو کسی فن پارے کی طرح دیکھنے والوں کے ہاتھ اس کی 'اصل قیمت سے زیادہ قمیتوں' پر فروخت کرتے ہیں۔

ان کے زیادہ تر گاہک روس اور دبئی سے آتے ہیں اور وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو گرمیوں میں جب لندن آتے ہیں تو اپنی سونے کی لیمبورگینی (کار) کو ہیرڈز (لندن کا معروف شاپنگ کمپلیکس) کے باہر کھڑی کرتے ہیں۔

لیکن وہ برطانیہ کے بھی بہت سے ریپرز کے ہاتھوں اپنے شوز فروخت کرتے ہیں جنھیں یہ لگتا ہے کہ ویڈیو شوٹ میں ان کے جوتے انھیں نمایاں کرتے ہیں یا پھر اچھے لگتے ہیں۔

ڈیززی راسکل، اے جے ٹریسی، نوٹس اور ایم ہنچو جیسے معروف ریپر ان کے گاہک رہ چکے ہیں۔

ریپرشوز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کالج ڈراپ آؤٹ

جو کا کہنا ہے کہ وہ عام طور پر ایک ہفتے میں پانچ ہزار سے 20 ہزار پاؤنڈ تک پیسے بنا لیتے ہیں۔

جب وہ سکول میں ہی تھے تو وہ اس کا نصف کمایا کرتے تھے اس لیے یہ اتنی حیران کن بات نہیں ہے کہ انھوں نے اس وقت کالج چھوڑ دیا جب وہ محض 16 سال کے تھے۔

انھوں نے کہا: مجھے سے اتنے سارے لوگ رابطہ کرتے اور ٹرینرز خریدنے کی درخواست کرتے اور مجھ سے پوچھتے کہ وہ کہاں سے اچھے ٹرینرز لے سکتے ہیں تو میں کالج میں رہتے ہوئے یہ سب نہیں کر سکتا تھا۔ مجھے بہت زیادہ کاروبار کرنا ہوتا تھا۔'

جو کو پڑھنے لکھنے میں دشواری ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ پڑھنے میں کبھی اچھے نہیں تھے۔ لیکن سکول میں ان کے دوست کا کہنا ہے کہ انھیں 'چیزوں کی پہچان' تھی۔

جو نے کہا: 'وہ دیکھ سکتے تھے کہ میں بہت تیز لڑکا نہیں ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ مجھے یہ معلوم تھا کہ پیسے کیسے کمانے ہیں۔'

جو اور ہنچو

،تصویر کا ذریعہJOE FRANKLIN

،تصویر کا کیپشنفکر نہ کریں ہم نے دریافت کیا ہے کہ جو نے ایم ہنچو کو بغیر ماسک کے نہیں دیکھا ہے

انھیں اعتراف ہے کہ پہلے پہل تعلیم چھوڑنے کو ان کے والدین نے 'پاگل پن' کہا تھا 'لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور میں کام کرتا رہا تو انھیں احساس ہوا کہ یہ بھی صحیح چیز ہے۔

'اخیر میں یہ طلب اور فراہمی کا معاملہ ہے۔ وہ اسے ٹرینرز کے طور پر بھی نہیں دیکھتے۔ وہ اسے ایک چیز کے طور پر دیکھتے کہ میں اسے حاصل کرتا ہوں اور اس سے منافع کماتا ہوں۔'

انھوں نے انسٹاگرام پر اپنی کچھ مصنوعات کی نمائش کی ہے اور وہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت ہی اپنے گاہکوں کو مشرقی لندن میں اپنے کام کی جگہ لاتے ہیں۔

جو کا کہنا ہے کہ یہ ان کی خصوصی سروس ہے۔

انھوں نے مثال کے طور پر بتایا کہ انھوں نے نائیکی کا ایس بی ڈنک پیرس ٹرینر صرف دو گھنٹے کے اندر لیوٹن کے ایک پرائیوٹ ایئرپورٹ پر ایک نجی جیٹ میں پہنچایا اور اس کے انھیں 30 ہزار پاؤنڈ ملے۔

انھوں نے کہا کہ 'اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو آپ کا ٹرینر رن وے پر پہنچایا جائے تو میں وہاں بھی پہنچا سکتا ہوں، میرے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔'

ایسا کرنے کے لیے انھوں ملک بھر میں ٹیکسی سے تیزی سے جانا ہوتا ہے اور راستے میں وہ ٹرینرز حاصل کرنے کے لیے اسے یکجا کرنے والوں سے تول مول بھی کر رہے ہوتے ہیں۔

جوتا حاصل کرنے کے بعد وہ ایئرپورٹ کے لیے نکل پڑتے ہیں جہاں خریدار ایک جیٹ میں اپنی بیوی اور بچے کے ہمراہ کھانے اور لگیج کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے۔

’اور اس کا یہ تاثر ہوتا ہے کہ ارے مجھے یقین نہیں آتا کہ تم نے کر دکھایا۔ میں نے صرف دو گھنٹے قبل تمھیں ایک نادر ٹرینر کے متعلق ٹیکسٹ پیغام بھیجا اورتم نے واقعی وہ مجھے میرے طیارے پر پہنچا دیا۔'

جو فرینکلن

،تصویر کا ذریعہSIMON JACOBS

جو کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لیے واقعی انتہائی اہم پل ہوتا ہے۔

'انھوں نے جو کہا میں اس کا احسان مند ہوں۔ ظاہر ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کے گاہک کو آپ کی خدمات سے تشفی ہوئی ہے لیکن جب وہ واقعی اس کا اظہار کرتے ہیں تو یہ میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔'

جو کا کہنا ہے کہ ان کے دروازے سے جو فنکار آتے ہیں انھیں دیکھ کر کسی فین بوائے کی طرح بیتاب نہیں ہو جاتے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'میں انھیں یہاں ایسی خدمات فراہم کر رہا ہوں جو انھیں کہیں نہیں ملے گی۔ اگرچہ ڈریک (معروف کینڈین گلوکار) بھی آئے تو میں کسی پرستار بچے کی طرح نہیں کروں گا۔ وہ بس ایک گاہک ہے جو وہاں آیا ہے میں صرف اپنی خدمات پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔'

جو فرینکلن ایسی زندگی جی رہے ہیں جو ہم میں سے بہت سوں کے صرف خوابوں میں ہی ہو سکتی ہے؟ یہ فطری ہے کہ ان سے پوچھا جائے کہ وہ اپنے پیسے کن چیزوں پر خرچ کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'ایمانداری سے بتاؤں تو میں اپنے پیسے کو پھر سے بزنس میں لگا دیتا ہوں۔ میں اپنے پیسے کو مزید پیسے کمانے کے لیے استعمال کرتا ہوں۔'

وہ بتاتے ہیں کہ ان کے دوست جو ابھی بھی سکول میں ہیں یا کام کرنے لگے ہیں وہ ان سے یہ بھی نہیں کہتے کہ کم از کم ہفتے میں ایک بار چکر لگا جاؤ۔ وہ ہنستے ہیں اور کہتے ہیں 'اب تک نہیں۔'

جو کا منصوبہ ہے کہ وہ ٹرینرز کی توسیع کریں اور 'سوشل میڈیا کا میوزک ایپ لانچ کریں جو اس سے قبل کبھی نہیں کیا گيا ہے۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک ٹرینرز بیچتے رہیں گے جب تک کوئی دوسری اچھی چیز فروخت کرنے کو نہیں مل جاتی۔

17 سالہ جو اپنا بزنس شروع کرنے والوں کو یہ مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ 'اپنی غلطیوں سے سیکھیں، تنقید کو ہمیشہ برداشت کریں، کوشش کرتے رہیں اور کبھی بھی ہمت نہ ہاریں۔'