ہزارہ دھرنا: شرکا نے اس غضبناک سردی میں اپنے شب و روز کیسے گزارے؟

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ آج کل جس غضبناک سردی کی لپیٹ میں ہے اس میں کسی بھی شخص کے لیے گھر سے باہر بیٹھنا ممکن نہیں لیکن ایسے میں سینکڑوں خواتین، مرد اور بچے کھلے آسمان تلے چھ دن تک دھرنا دیے بیٹھے رہے۔
یہ لوگ شہر کے ایک ایسے مقام پر بیٹھے تھے جہاں بلندی کے باعث سردی کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
پہلے کے مقابلے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سردی کی شدت میں بھی مزید اضافہ ہوا لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی اور چھٹے روز شرکا کی تعداد میں گذشتہ پانچ روز کے مقابلے میں اضافہ ہوا۔
یہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جو کہ کان کنوں کے قتل کے خلاف تین جنوری سے میتوں کے ہمراہ دھرنا دیے بیٹھے رہے۔
ان کان کنوں کو دو اور تین جنوری کی درمیانی شب ضلع کچھی میں درہ بولان کے علاقے مچھ میں قتل کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دھرنا کہاں دیا جارہا تھا؟
کوئٹہ شہر میں دھرنا مغربی بائی پاس کے علاقے میں ہزارہ ٹاؤن کے قریب دیا جا رہا تھا۔ مغربی بائی پاس کوئٹہ کی اہم شاہراہ ہے جہاں سے بہت بڑی ٹریفک گزرتی ہے۔ اس دھرنے کی وجہ سے اس شاہراہ پر تین جنوری سے گاڑیوں کی آمدوروفت بند رہی۔
اس علاقے میں یہ پہلا دھرنا نہیں بلکہ اس سے قبل بھی ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد اس شاہراہ پر دھرنا دیتے رہے ہیں۔
دھرنے کے لیے قناتیں لگائی گئیں جس کے پہلے حصے میں مرد جبکہ پچھلے حصے میں خواتین کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا۔

قناتوں کے اندر ہی قتل کیے جانے والے کان کنوں کی میتیں بھی رکھی گئیں۔ تین جنوری کو ہی کان کنوں کی لاشوں کو مغربی بائی پاس پر دھرنے کی جگہ پر منتقل کیا گیا تھا۔
دھرنے کی ایک منتظمہ سیمی آغا نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ لاشوں کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے کسی بھی قسم کے کیمیکلز کا استعمال نہیں کیا گیا بلکہ صرف برف کا استعمال کیا جاتا رہا۔
سیمی آغا نے بتایا کہ کوئٹہ میں اس وقت درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ہے۔
’ایسے میں میتوں کو محفوظ بنانے کے لیے برف کی بھی ضرورت نہیں ہوتی تاہم احتیاطاً اس کا استعمال کیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’قتل کیے جانے والے کان کنوں کے لواحقین کا مطالبہ ہے کہ عمران خان آئے تو میتوں کو دفنایا جائے گا تاہم اگر وہ فوری طور پر نہیں آتے تو وہ طویل عرصے تک میتوں کو نہیں دفنائیں گے اور ان کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔‘

بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے دھرنے کے مقام پر انتظام
دھرنے کے شرکا کے لیے کھانے پینے کا انتظام دھرنے کے مقام پر ہی کیا گیا۔ جہاں صبح کے ناشتے کے علاوہ شرکا کو دو وقت کا کھانا بھی فراہم کیا جاتا رہا۔
سیمی آغا نے بتایا تھا کہ کھانے پینے کی اشیا اپنی مدد آپ کے تحت فراہم کی جاتی رہیں۔
شرکا کو کھانے میں سب سے زیادہ فراہم کیا جانے والا آئیٹم چاول ہے۔ دھرنے کی ایک اور منتظمہ صدیقہ نے بتایا کہ زیادہ تر شرکا کو چکن بریانی فراہم کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چاول چھولے کے علاوہ ان کو چھولے اور روٹی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ سیمی آغا نے کہا کہ ناشتے میں چائے کے ساتھ روٹی کے علاوہ انڈا بھی دیا جاتا ہے۔
شدید سردی کی وجہ سے چونکہ چائے کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اس لیے چائے کی فراہمی کے لیے دھرنے میں تین سے چار مقامات پر انتظامات ہیں جہاں بڑے بڑے دیگوں میں چائے بنائی جاتی ہے۔
شرکا میں سے کسی کو بھی چائے کی طلب ہو تو وہ جتنی بار چاہے چائے کے لیے لگے سٹالز پر مفت چائے پی سکتا ہے۔
ایک سٹال پر موجود ذیشان حیدر نے بتایا کہ دھرنے کے شرکا کے لیے سبز چائے بھی دستیاب ہے لیکن منتظمین کی جانب سے زیادہ تر قہوہ فراہم کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ سردی کی شدت بہت زیادہ ہے اس لیے چکن سوپ بھی دستیاب ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کھانے پینے کی اشیاء لوگ نیاز کے طور پر دیتے ہیں جنھیں وہ دھرنے کی شرکا کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی کے علاوہ دھرنے کی جگہ پر لوگوں کو وضو اور منہ ہاتھ دھونے کے لیے گرم پانی کا انتظام بھی ہے۔
خدمت کے فرائض ہزارہ سکاؤٹس اور دیگر رضا کار سرانجام دیتے ہیں۔
دھرنے کے شرکا کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے لیے میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے۔ کیمپ میں موجود رضاکار ضرورت پڑنے پر نہ صرف شرکا کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہیں بلکہ وہاں ایمبولینس بھی موجود ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو ہسپتال بھی پہنچایا جاتا ہے۔
سردی سے بچنے کے لیے خاطر خواہ انتظام نہیں
شدید سردی میں منتظمین کی جانب سے دھرنے کے شرکا کو کھانے پینے کی فراہمی کے لیے ہر ممکن انتظامات کیے گئے ہیں لیکن غضبناک سردی سے بچنے کے لیے کوئی مناسب انتظام نہیں۔
دھرنے کے لیے لگی قناعتوں سے باہر مرد حضرات لکڑیاں جلا کر کسی حد تک اپنے آپ کو گرم رکھنے کا انتظام کرتے ہیں لیکن قناعتوں کے اندر ایسا کوئی انتظام نہیں۔
قناعتوں کے اندر جو لوگ بیٹھے ہیں ان کا انحصار گرم لباس پر ہوتا ہے جبکہ بعض لوگوں کے پاس کمبل بھی ہوتے ہیں۔
سیمی آغا نے بتایا: ’میرے بھائی کو سنہ 2015 میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں قتل کیا گیا۔ ہمیں گزشتہ بیس پچیس سال سے ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا جذبہ ہے جس کے باعث شرکا کی تعداد میں کمی نہیں آئی۔‘
طویل عرصے تک پر امن دھرنا دینے کی روایت
بلوچستان بالخصوص کوئٹہ میں فرقہ وارانہ واقعات میں جہاں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے وہیں انھوں نے اس کے خلاف شدت سے احتجاج بھی کیا۔

لاشوں کے ہمراہ کئی روز تک پر امن احتجاج کی روایت انھوں نے ہی قائم کی۔
سنہ 2008 کے عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے تیسری دور حکومت میں جب علمدار روڈ پر واقع سنوکر کلب میں یکے بعد دیگردو خود کش حملے ہوئے تو اس کے بعد بھی لاشوں کے ساتھ طویل دھرنا دیا گیا جس پر ان کے مطالبے پر نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کو کچھ عرصے کے لیے معطل کر کے بلوچستان میں گورنر راج نافذ کیا گیا ۔
اس وقت سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو دھرنے کے شرکا کے پاس آنا پڑا تھا ۔
دو سال قبل کوئٹہ شہر میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا تو شہر کے مختلف علاقوں میں دھرنوں کے علاوہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی معروف سماجی کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کی۔
اس وقت یہ شرط رکھی گئی تھی کہ فوج کے سربراہ جب آئیں گے تو احتجاجی دھرنوں کو ختم کرنے کے علاوہ تادم مرگ بھوک ہڑتال کو ختم کیا جائے گا جس پر فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ تو آئے تھے لیکن وہ دھرنے کے شرکا کے پاس نہیں آئے تھے بلکہ شرکا اور جلیلہ حیدر کو ان سے بات چیت کے لیے کوئٹہ کینٹ لے جایا گیا تھا۔










