بلوچستان میں کان کنوں پر حملہ: مچھ میں 10 ہزارہ کان کنوں کا قتل، دولتِ اسلامیہ نے ذمہ داری قبول کر لی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مچھ میں کوئلہ فیلڈ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم 10 کان کن ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد سے ہزارہ برادری نے میتیں شاہراہ پر رکھ کر احتجاج ختم کرنے کے بعد انھیں کوئٹہ منتقل کر دیا ہے۔
ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی قادر نائل نے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد میتوں کو کوئٹہ میں ہزارہ ٹاؤن کے ولی العصر امام بارگاہ منتقل کر دیا ہے۔
مچھ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا تھا کہ گذشتہ شب مچھ کے علاقے گیشتری میں نامعلوم مسلح افراد نے کان کنوں کو حملے کا نشانہ بنایا۔
انھوں نے بتایا کہ اس علاقے پنڈل گڈ نامی لیز پر مسلح افراد نے کان کنوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھنے کے علاوہ ان کے ہاتھ بھی باندھے اور بعد میں ان پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہو گئے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے مچھ میں ہزارہ کان کنوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ روئٹرز کے مطابق شدت پسند تنظیم سے منسلک اعماق نیوز ایجنسی پر شائع ہونے والے بیان میں 10 کان کنوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈپٹی کمشنر کچھی محمد مراد کاسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے کان کنوں کے گلے بھی کاٹے گئے تھے۔
اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے کان کنوں کا تعلق شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے سے ہے۔

ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کے علاوہ زخمی ہونے والے کان کنوں کو طبی امداد کے لیے سول ہسپتال مچھ منتقل کیا گیا ہے۔
اہلکار کے مطابق اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے تاہم اب تک حاصل کی جانے والے شواہد کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔
بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ حافظ عبدالباسط نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے نو افراد کی شناخت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کی شناخت ہوئی ہے ان کا تعلق افغانستان سے ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں کوئلے کے کان کنوں کا قابل مذمت قتل انسانیت سوز بزدلانہ دہشگردی کا واقعہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف سی کو حکم دیا گیا ہے کہ تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے قاتلوں کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بھی مچھ کے علاقے گیشتری میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انھوں نے فائرنگ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے واقعے کی فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وزیر اعلی نے اس واقعے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے اور زخمی ہونے والے کان کنوں کو علاج و معالجہ کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معصوم کان کنوں کو نشانہ بنانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ جام کمال خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گرد اور شرپسند عناصر اس قسم کے واقعات کے ذریعے صوبے کے امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کی کوئی بھی شکل قابل قبول نہیں ہے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGoogle Maps
مچھ کہاں واقعہ ہے؟
مچھ، کوئٹہ کے جنوب مشرق میں ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع کچھی کے معروف درہ بولان میں واقع ہے۔ یہ علاقہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں ہیں۔
کان کن لیبر یونین کے صدراقبال یوسفزئی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں کوئلے کی 62 لیز ہیں اور ان میں سے 52 فعال ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ 2018 میں جو اعداد و شمار اکھٹے کیے گئے تھے ان کے مطابق مچھ کی کوئلہ کانوں میں 17 ہزار کان کن کام کرتے ہیں جبکہ مجموعی طور پر ان کانوں سے 35 ہزار افراد کا روزگار جڑا ہے۔
مچھ اور درہ بولان کا شمار بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں ہوتا ہے اور بدامنی کے دیگر واقعات کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔
اس علاقے میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو پہلے بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
ماضی میں اس علاقے میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے جن افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا رہا ان کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے دیگر کن علاقوں میں کوئلہ کی کانیں ہیں؟
بلوچستان کے جن دیگر علاقوں میں کوئلے کی کانیں موجود ہیں ان میں مچھ کے علاوہ ہرنائی، کوئٹہ کے قریب مارگٹ، مارواڑ، دکی اور چمالانگ کے علاقے شامل ہیں۔
ان کانوں میں بلوچستان کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ خیبر پختونخوا کے علاقے سوات اور شانگلہ اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد کام کرتے ہیں۔
چمالانگ، مارگٹ اور مارواڑ کے سوا بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں میں کان کنوں کی سکیورٹی کے مؤثر انتظامات نہیں ہیں۔
اقبال یوسفزئی نے بتایا کہ اگر سکیورٹی کے انتظامات ہوتے تو اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکتا تھا۔










