بلوچستان کے شہروں کوئٹہ اور مچھ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بارہ سالہ بچے سمیت تین افراد ہلاک اور دو خواتین سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایک اور واقعہ میں کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر نامعلوم افراد نے راکٹ داغے اور فائرنگ کی ہے۔
صوبے کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت بیشتر جنوبی اضلاع میں آبادکاروں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کو رات کے وقت نامعلوم افراد نے کوئٹہ سے کوئی ساٹھ کلومیٹر دور مچھ میں ایک آباد کار محمد اسحاق کے مکان میں دستی بم پھینکا ہے۔ محمد اسحاق کے بارہ سالہ بیٹے اسامہ اس حملے میں ہلاک جبکہ ان کی والدہ بیوی اور ایک چھوٹا بچہ زخمی ہوئے ہیں جنھیں کوئٹہ ہسپتال علاج کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔
مچھ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس محمد ایاز نے بتایا ہے کہ نامعلوم افراد دستی بم پھینکنے کے بعد فرار ہو گئے اور اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
محمد اسحاق مچھ میں مرغیاں بیچنے کا کاروبار کرتے ہیں جبکہ ان کے والد محمد الیاس ریلوے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ محمد الیاس کوئی پچیس سال قبل پنجاب سے آکر مچھ میں آباد ہو گئے تھے۔
اسی طرح کوئٹہ ڈبل روڈ پر نامعلوم افراد نے ایک درزی شمروز اور ان کے شاگرد محمد عمران کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا ہے۔
دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے میرک بلوچ نامی شخص نے دونوں حملوں کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے کوہلو کے قریب بجلی کے ایک کھمبے کو بھی دھماکے سے اڑا دیا ہے جس سے قریبی علاقوں کو بجلی کی ترسیل معطل ہو گئی ہے۔
کوئٹہ کے سریاب روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ کالج پر راکٹ ناملعوم مقام سے داغے گئے ہیں جس میں پولیس کے مطابق ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔
اس کے علاوہ ڈیرہ مراد جمالی کے قریب نامعلوم افراد نے ایک شخص کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔ اس حملے کے ذمہ داری ایک اور کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے قبول کی ہے اور کہا ہے کہ اس شحص کا نام موسیٰ خان بگٹی ہے اور وہ سرکار کا مخبر تھا۔
ادھر کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ کے ترجمان دودا بلوچ نے بسیمہ کے علاقے میں پولیس اہلکاروں پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔