کیا ہنر سیکھنا بے روزگاری کا توڑ ہو سکتا ہے؟ ملیے ایسے لوگوں سے جو ڈگری ہولڈرز سے زیادہ کماتے ہیں!

بلال احمد

،تصویر کا ذریعہBilal ahmed

،تصویر کا کیپشنبلال کبھی کبھار ورکشاپ آنے کی کوشش کرتے تھے لیکن والد انھیں ڈانٹ کر گھر بھجوا دیتے تھے
    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بلال ابھی تیرہ برس کے بھی نہیں تھے تو گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر دو اینٹیں رکھ کر سٹیرنگ کنٹرول کرتے اور گاڑی چلانے کی کوشش کرتے تھے۔

آج وہ راولپنڈی میں گاڑیوں کی مرمت اور سپییئر پارٹس کی ایک بڑی مارکیٹ کے وسط میں اپنی ورکشاپ چلا رہے ہیں۔ تباہ شدہ گاڑی کو پھر سے نئی زندگی دینا ان کا کام ہے۔

ان کے والد کا ڈینٹنگ اور پینٹگ کا کاروبار ہے۔ میٹرک کے بعد کالج میں داخلہ لینے تک بلال کبھی کبھار ورکشاپ آنے کی کوشش کرتے تھے لیکن والد انھیں ڈانٹ کر گھر بھجوا دیتے تھے۔

میں نے ان کے والد سجاد خان سے پوچھا کہ آپ کو کیوں پسند نہیں تھا کہ بلال یہ کام سیکھیں تو کہنے لگے ’میں نے میٹرک کے بعد حالات کی مجبوری کے باعث یہ کام شروع کیا، آج تیس سال سے اوپر ہو گئے ہیں لیکن اس شعبے کا ماحول اتنا اچھا نہیں اور میں بچوں کو ادھر اس ڈر سے نہیں آنے دیتا تھا کہ کہیں بری صحبت میں مبتلا نہ ہو جائیں، اس لیے ان کی توجہ پڑھائی پر رکھنا چاہی‘۔

ان کے دیگر تین بچے تو پڑھائی میں بہترین رزلٹ لے کر آتے تھے۔ بلال نے بھی راولپنڈی کے ایک اچھے سکول سے میٹرک تو کر لیا لیکن پھر آئی کام کے فرسٹ ائیر کو مکمل نہ کیا اور والد کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور کہا میں گاڑیوں کا کام کرنا چاہتا ہوں۔

مزید پڑھیے

یہ سنہ 2016 کی بات ہے۔ سجاد خان کہتے ہیں کہ ’میں نے اسے سمجھایا اور پھر بات مان کر بلال کو اپنے ساتھ کام پر لگایا۔ اب یہ گاڑی تیار کر لیتا ہے۔ اب میں گیراج میں نہ بھی ہوں تو یہ کام سنبھال لیتا ہے‘۔

بلال کے والد کہتے ہیں کہ کام سیکھتے ہوئے اسے کئی بار ڈانٹا اور مارا بھی، یہ محنت طلب کام ہے اور بہترین رزلٹ مانگتا ہے۔

گاڑی

،تصویر کا ذریعہBilal Ahmed

میں نے جب بلال سے یہ پوچھا کہ سخت سردی اور سخت گرمی میں ڈینٹنگ پڑھائی کے مقابلے میں مشکل تو لگتی ہوگی، تو کہنے لگے کہ محنت کے کام میں نہ شرم کرنی چاہیے اور نہ ہی اسے مشکل سمجھنا چاہے۔

’آج میں کئی ڈگری ہولڈرز سے زیادہ کماتا ہوں، مجھے پڑھائی سے زیادہ کام سیکھنا پسند تھا سو میں نے یہ کیا‘۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک مہینے میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ آمدن ہو ہی جاتی ہے۔

ان کے والد سجاد خان کہتے ہیں کہ کام یہ بہت اچھا ہے لیکن اس جانب بچے زیادہ تر مجبوری کی وجہ سے آتے ہیں لیکن اگر کچھ تعلیم حاصل کر کے آیا جائے تو ماحول زیادہ بہتر ہو سکتا ہے۔

لیکن یہاں زمینی حقائق کچھ مختلف ہیں۔ 14 یا 16 سال تعلیم یعنی ڈگری کا حصول یہاں زیادہ نوجوانوں کا خواب ہے اور پھر ایک اچھی پوسٹ پر مناسب تنخواہ یا اپنا بزنس اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد آرام کی زندگی۔

لیکن ایسے میں تکنیکی تعلیم یا ہنر مندی کی جانب جانا ہمیں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ یہ والدین اور کسی طالب علم کی دوسری چوائس تو ہو سکتی ہے لیکن پہلی شاید کم ہی ہوتی ہے۔

آپ کو کسی ٹائر پنکچر کی شاپ پر چائلڈ لیبر کرتا بچہ تو دکھائی دے گا لیکن یہ کم ہو گا کہ آپ کسی میٹرک پاس لڑکے کو سکول سے آکر شام میں کسی گیراج، کسی پلمبر یا پھر کاریگر کی دکان پر دیکھیں۔ یعنی تعلیم اور ہنرمندی بیک وقت ساتھ ساتھ کم ہی دکھائی دیتی ہیں۔

گاڑی سپیئر پارٹس

،تصویر کا ذریعہBilal Ahmed

ڈگری یافتہ اور بیروزگار

اب آئیے ایک نظر اعدادو شمار پر بھی ڈال لیں کہ ملک میں اس وقت ڈگری یافتہ اور بے روز گار افراد کی شرح کیا ہے؟

اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں مالی سال 21-2020 کے دوران بے روزگار افراد کی تعداد 66 لاکھ 50 ہزار تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ مالی سال 20-2019 کے دوران اس کی تعداد 58 لاکھ تھی۔

لیبر فورس سروے 2017-2018 کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے بے روزگاری کی شرح 9.56 فیصد بتائی گئی ہے۔

ڈگری رکھنے والوں میں بے روزگاری کی شرح دیگر مجموعی طور پر بے روزگار افراد کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فراہم کی جانے والی تعلیم اور نئے تعلیم یافتہ افراد کو جزب کرنے کی معیشت کی ضرورت کے درمیان مطابقت نہیں ہے۔

بیروزگاری کی سب سے زیادہ شرح 11.56 فیصد، 20-24 سال کی عمر والے افراد میں پائی جاتی ہے۔

ایسے میں نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے مخصوص تعلیمی ادارے قائم کیے جاتے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تکنیکی اور فنی تعلیم کے لیے قائم ادارے حکومتی سطح پر ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی، ٹیوٹا کے ماتحت چلتے ہیں۔

TEVTA

،تصویر کا ذریعہTEVTA

ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق سنہ 1999 میں وہاں 3856 طالب علم تھے اور 2018 تک یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ پانچ سو کے قریب پہنچ چکی تھی۔ لڑکیوں کی تعداد 31 جبکہ لڑکوں کی تعداد 69 فیصد ہے۔

ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق 65 فیصد طلبا و طالبات کو نوکریاں مل چکی ہیں جبکہ 35 فیصد بے روزگار ہیں۔

گھر کی ہر خراب چیز کو ٹھیک کرنے کی کوشش

پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر ضلع ساہیوال میں محمد عدنان کی رہائش ہے۔ وہ یہیں پلے بڑھے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں اپنے گھر کی ہر خراب چیز کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا تھا تو بھائی نے کہا کہ یہ تکنیکی طور پر ذہین ہے تو اسے اسی فیلڈ میں ڈالیں۔‘

انھوں نے اپنے بھائی کے مشورے پر میٹرک کے بعد تین سال کا ڈپلومہ کیا۔

’ڈپلومے میں میں نے کمپیوٹر بھی پڑھا لیکن میں نے دیکھا ہے کہ بی ایس سی کی ڈگری ہمارے ڈپلومے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا انھوں نے ڈپلومے کے بعد نوکری کے لیے کوشش نہیں کی تھی۔

اس کے جواب میں عدنان کہنے لگے کہ ’ہم بہت جوشیلے تھے، سمجھتے تھے کہ 50 ہزار کا چیک مل جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا، حقیقت مختلف ہوتی ہے۔ وہاں آئس کریم کے پلانٹ میں گئے تو انھوں نے کہا جھاڑو لگاؤ۔ کچھ دن کام کیا پھر سمجھ آئی کہ نہیں ابھی مزید پڑھنا ہو گا۔ اس لیے میں نے بی ٹیک کر لیا‘۔

عدنان

،تصویر کا ذریعہAdnan

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے بی ٹیک کی بنیاد پر اینگرو میں یوٹیلیٹی آفیسر کی نوکری مل گئی اور اب میں اللہ کا شکر ہے بہت اچھا کما رہا ہوں‘۔

عدنان کہتے ہیں کہ اصل میں ڈپلومہ کرنے والے کے بارے میں یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ ای میل پر رابطہ کاری میں بی ایس سی اور ڈگری ہولڈر سے کم قابل ہوگا ورنہ پریکٹیکل کام میں ڈپلومہ ہولڈر ہی بہتر ہوتا ہے۔

’مجھے ابتدا میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہ کہتے تھے تجربہ لے کر آؤ لیکن شاید یہ ہر نوکری میں ہی ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ تجربہ ہے یا نہیں‘۔

عدنان کا کہنا ہے کہ ’میری کلاس کے سبھی لڑکوں کو کوئی نہ کوئی نوکری مل گئی تھی۔ رابطہ کرنے کے لیے ہمارا ایک وٹس ایپ گروپ بنا ہوا ہے‘۔

محمد اعجاز انہی کے ہم جماعت ہیں جنھوں نے مکینیکل میں ڈپلومہ کیا لیکن ان کا تجربہ کچھ بہت اچھا نہیں رہا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرا تجربہ اتنا اچھا نہیں رہا۔ سعودیہ کا ویزا ملا اور ٹیکنیشن کے طور پر نوکری ملی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس میں آپ سے بہت زیادہ کام لیا جاتا ہے۔ میں نے سات سال وہاں کام کیا۔‘

لیکن پھر وطن واپس آنا پڑا تو اعجاز نے یہاں نوکری ڈھونڈنے کے بجائے ایک مختلف کاروبار کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’میں نے پاکستان واپس آ کر پانچ لاکھ روپے سے ایک کنٹریکٹر کا کام شروع کیا۔ میں ہسپتالوں کے سالانہ ٹینڈرز لیتا ہوں اور اللہ کا شکر ہے کہ بہت اچھا کام چل رہا ہے۔‘

ان دونوں طالب علموں کے استاد سمیع اللہ خان گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ساہیوال میں فرائض انجام دے رہے ہیں لیکن انھیں پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔

tevta

،تصویر کا ذریعہTevta

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ اس وقت مختلف طرح کے کورسز کروائے جا رہے ہیں اور ہم ساتھ ساتھ بچوں کی کاؤنسلنگ بھی کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس تین قسم کی کیٹیگریز ہیں۔ تین سال کا پروگرام ہوتا ہے جس میں ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کروایا جاتا ہے۔ گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (جی ٹی ٹی آئی) ہوتے ہیں وہاں دو سال اور ایک سال کے کورسز ہوتے ہیں، یہ ڈپلومہ نہیں ہوتا۔ تیسرے گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس ہیں جہاں بچوں کو تین یا چھ ماہ کے پروگرام آفر کیے جاتے ہیں۔'

ان تین قسم کے کورسز سے نوکری کے کس قدر مواقع میسر ہو سکتے ہیں؟

انھوں نے بتایا کہ `ڈپلومے والے آگے پڑھ بھی لیتے ہیں یا یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں، نہ بھی پڑھیں تو کسی جگہ کسی بھی انڈسٹری میں لیب ٹیکنیشن کے طور پر کام شروع کر لیتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجسٹ ہوتے ہیں، انجینئیر نہیں ہوتے۔ دو سال اور ایک سال کا کورس کرنے والوں کو بیرون ملک میں بھی اچھی نوکری مل جاتی ہے یا پاکستان کی اچھی انڈسٹریوں میں جیسے ہائر ہے، ٹیوٹا ہے، اس میں نوکری مل جاتی ہے۔‘

رحیم یار خان کے ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ میں اٹلس ہونڈا لمیٹڈ کی ٹیم جانب سے انٹرویوز لیے جا رہے ہیں جنھوں نے شیخوپورہ لاہور میں کام کے لیے کل 27 سٹوڈنٹس کو منتخب کیا

،تصویر کا ذریعہTWITTER

،تصویر کا کیپشنحال ہی میں رحیم یار خان کے ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ میں اٹلس ہونڈا لمیٹڈ کی ٹیم جانب سے انٹرویوز لیے گئے۔ شیخوپورہ میں کام کے لیے کل 27 سٹوڈنٹس کو منتخب کیا

سمیع اللہ مانتے ہیں کہ اپنے 15 سال سے زیادہ عرصے کے تجربے میں انھوں نے اس نظام تعلیم میں ایڈمیشن لینے والے زیادہ تر طلبہ کو فیس کی مجبوری یا کم نمبروں کی وجہ سے اس فیلڈ کا انتخاب کرتے دیکھا لیکن ان کا خیال ہے کہ آنے والے وقت میں ہنر مندی کا حصول اور انٹرپنیورشپ ہی اچھے مستقبل کی ضمانت ہوں گے۔

’میرا خیال ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ لوگ انٹرپنیورشپ کی جانب جائیں گے، ہمیں جانا ہوگا۔ ہم ایسے لوگ تیار کریں جو نوکری پیدا کرنے والے ہوں، نوکری ڈھونڈنے والے نہ ہوں۔ ایک چھوٹی سی دکان جو دو لاکھ سے بھی شروع ہو گی، کام چلے گا تو یا وہ اسے بڑھائے گا یا پھر اسی میں وسعت پیدا کرے گا اور کسی کو رکھے گا۔ '