ایران کے سستے شاہد ڈرون کو مار گرانے پر کتنا خرچہ آتا ہے؟

اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حملوں کے بعد ایران نے مشرق وسطیٰ پر خود کش ڈرونز کے ذریعے 2000 سے زائد جوابی حملے کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ان نسبتاً سستے ایرانی ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے اب تک 800 سے زیادہ دفاعی میزائل داغے جا چکے ہیں، جن میں سے ہر میزائل کی لاگت 40 لاکھ ڈالرز تک ہے۔
فنانشل ٹائمز کے سکیورٹی اور دفاعی امور کے نامہ نگار چارلس کلوور نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر پیٹریاٹ میزائل کی مالیت تقریباً 40 لاکھ ڈالرز ہے۔
خلیجی خطے کے دفاع کے لیے امریکہ کا سب سے عام دفاعی نظام پیٹریاٹ ہی ہے جسے اتحادی ایرانی ڈرونز کو روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
کلوور نے کہا: ’یہ جنگ امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادیوں کے لیے بہت مشکل رہی ہے۔ ایک جانب ایرانی ڈرونز سے دفاع کے لیے نظام ناکافی ہے اور دوسری جانب مزید میزائل تیار کرنے میں وقت لگے گا۔‘
متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اب تک ملک میں ایک ہزار سے زائد ایرانی ڈرونز مار گرائے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق، ان میں سے صرف 71 ڈرونز دفاعی نظام کی رکاوٹ کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔
جب ایران نے سنہ 2024 میں سینکڑوں ڈرونز کے ساتھ اسرائیل پر حملہ کیا، بتایا جاتا ہے کہ اس وقت برطانیہ نے ان میں سے کچھ کو گرانے کے لیے لڑاکا طیاروں کے ذریعے میزائل داغے، ہر میزائل کی قیمت تقریباً دو لاکھ پاؤنڈز بتائی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ’شاہد‘ ڈرونز کو روکنے کا واحد ذریعہ یہی مہنگے دفاعی میزائل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUS CENTCOM
ایران کے شاہد 136 ڈرون کی لاگت کا تخمینہ 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالرز کے درمیان لگایا گیا ہے۔
اب امریکہ کوشش کر رہا ہے کہ ایرانی ڈرونز کو غیر مؤثر بنانے کے لیے کوئی سستا طریقہ تلاش کیا جائے، اس کے لیے امریکہ نے یوکرین کے تجربے سے استفادہ کرنے کا سوچا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے سکیورٹی اور دفاعی امور کے نامہ نگار نے مزید کہا کہ یوکرین نے ایسے ڈرونز بنائے ہیں جو دوسرے ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
یہ ڈرونز نسبتاً آہستہ پرواز کرتے ہیں، لیکن یہ روسی ڈرونز کے خلاف مؤثر ثابت ہوئے ہیں اور انھیں وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔
ایران حالیہ برسوں میں روس کو ڈرونز برآمد کرتا رہا ہے، لیکن اب روس خود ایرانی ٹیکنالوجی استعمال کر کے ملک میں کم قیمت اور زیادہ مؤثر ڈرونز بنا رہا ہے۔
کلوور کے مطابق روس نے ان ڈرونز کو زیادہ تعداد میں استعمال کیا ہے اور یوکرین کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔
امریکہ نے حال ہی میں ایک نیا ڈرون ’لوکس‘ (لو کاسٹ ان مینڈ کمبیٹ سٹرائیک سسٹم) بھی لانچ کیا ہے۔ رؤئٹرز کے مطابق ایک ڈرون کی قیمت کم از کم 35 ہزار ڈالر ہو سکتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کہتے ہیں: ’امریکہ نے ایرانی ڈیزائن کی نقل تیار کی، اسے بہتر بنایا اور اب اسے ایران کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔‘
کلوور نے مزید کہا کہ یوکرینی ڈرونز کی پیداوار وسیع نہیں ہے اور اس وقت امریکہ کے لیے کافی ڈرونز دستیاب نہیں ہیں۔
لیکن یوکرین سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماہرین پینٹاگون بھیجے تاکہ امریکہ کو کم لاگت والے ڈرونز بنانے کا طریقہ سکھایا جا سکے۔
سستا مگر تباہ کن
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
خودکش ڈرونز دھماکہ خیز مواد لے کر چلتے ہیں، ہدف پر لگنے کے بعد پھٹتے ہیں اور خاصا نقصان پہنچاتے ہیں۔
اب تک جنگ میں امریکی افواج پر سب سے مہلک حملہ ایک ڈرون کے ذریعے ہی کیا گیا ہے۔
ایک ایرانی ڈرون کویت میں ایک فوجی اڈے کے اندر جا کر پھٹ گیا جس سے چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
ان میں سے کچھ حملے شہروں میں بھی ہوئے ہیں جنھوں نے خلیج فارس کے ممالک میں خوف پھیلایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ایران کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے جس کا مقصد ’خوف پیدا کرنا‘ اور امریکہ پر جلد از جلد جنگ سے دستبردار ہونے کا دباؤ ڈالنا ہے۔
بی بی سی کی تصدیق شدہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ایرانی ڈرون تیز رفتاری سے نیچے آتا ہے اور منامہ، بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے صدر دفتر میں نصب ایک ریڈار سے ٹکراتا ہے، جس کے نتیجے میں ملبہ فضا میں بکھر جاتا ہے اور ڈھانچہ نیچے گر جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ڈرون دبئی کے علاقے پام جمیرہ میں ہوٹل سے ٹکراتا ہے، جس کے نتیجے میں آگ کا ایک بڑا گولا بنتا ہے اور دھماکے کی زوردار آواز آتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
خطے میں موجود توانائی کے شعبے پر ان ڈرونز کے حملے خاص طور پر مؤثر رہے ہیں۔ خلیجی ساحل پر واقع سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری راس تنورہ نے اس وقت پیداوار روک دی جب ایک ڈرون کو روکے جانے کی کوشش کے دوران ملبہ گرنے سے وہاں آگ بھڑک اٹھی۔
قطر میں بھی دنیا کی سب سے بڑی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمد کرنے والی تنصیب بند کر دی گئی جب اس مقام کو ایرانی ڈرونز نے نشانہ بنایا۔
ان ڈرونز کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریباً 2500 کلومیٹر ہے اور یہ تہران سے یونانی دارالحکومت ایتھنز تک پرواز کر سکتے ہیں۔
متعدد تجارتی ڈرونز کے برعکس، شاہد ڈرون کو پرواز کے دوران کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بجائے، اسے لانچ کرنے سے پہلے پروگرام کیا جاتا ہے تاکہ وہ سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم کی مدد سے ہدف تک طے شدہ راستے پر پرواز کرے۔
اگرچہ یہ ڈرونز بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں بہت کم رفتار سے سفر کرتے ہیں، لیکن ان کا ڈیزائن اور کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت انھیں ریڈار اور دفاعی نظاموں کی پکڑ میں آنے سے بچاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFars
خیال کیا جاتا ہے کہ ایران نے جنگ شروع ہونے سے پہلے لاکھوں کی تعداد میں شاہد ڈرونز تیار کیے تھے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد ان میں سے کتنے صحیح سلامت موجود ہیں۔
سوموار کے روز ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی نے ایک تصویر شائع کی جس میں قطار در قطار ڈرونز ایک ایسی جگہ موجود ہیں جو زیر زمین سرنگ دکھائی دیتی ہے۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ ویڈیو کس وقت ریکارڈ کی گئی۔
خیال رہے ایران نے زیرِ زمین عسکری تنصیبات بنائی ہیں جن میں میزائل اور ڈرون سٹوریج کی صلاحیت موجود ہے۔
ایرانی امور کے ماہر نکولس کارل کے مطابق ڈرونز اور میزائلوں کے استعمال کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے دفاعی نظاموں کا ذخیرہ استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کا ایک اور مقصد بھی ہے: ’خوف اور نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا‘ تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جنگ بند کرنے کے لیے آمادہ کیا جا سکے۔












