غیات الدین بلبن: اس غلام کی کہانی جو دلی کا سلطان بنا

،تصویر کا ذریعہNCERT
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
جیسے ہی التمش کے سب سے چھوٹے بیٹے ناصرالدین محمود نے دہلی کا تخت سنبھالا، دہلی سلطنت میں سیاسی استحکام بحال ہونا شروع ہو گیا لیکن اس سب میں سلطان محمود کا کوئی خاص کردار نہیں تھا۔
یہ کام ان کے سب سے خاص وزیر غیاث الدین بلبن کا تھا جنھیں سلطان محمود کے دور میں سب سے زیادہ طاقت حاصل رہی۔
بلبن نے سنہ 1246 سے لے کر سنہ 1287 تک تقریباً چالیس سال انھیں دی گئی اس طاقت بھرپور استعمال کیا۔ پہلے 20 سال سلطان کےمعتمدِ خاص کے طور پر اور اگلی دو دہائیاں دہلی کا سلطان بن کر۔
تاہم اس بیچ وہ سیاسی مخالفین کی چالوں کے باعث تقریباً دو سال تک اقتدار سے دور بھی رہے۔
بلبن کے دور کا مشاہدہ کرنے والے مورخ غیاث الدین بارانی اپنی کتاب ’تاریخ فیروزشاہی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’جب ناصر الدین محمود تخت نشین ہوئے تو اس وقت ان کی عمر صرف 17 سال تھی۔ ان میں نہ تو حکومت کرنے کی خوبیاں تھیں اور نہ ہی دلچسپی۔ انھوں حکومت کا سارا انتظام بلبن پر چھوڑ دیا تھا۔‘
’محمود ایک نرم مزاج، فیاض اور مذہبی شخص تھے جو اپنا زیادہ تر وقت قرآن کے نسخے بنانے میں صرف کرتے۔ ویسے تو کسی بھی انسان میں یہ خوبیاں اچھی سمجھی جاتی ہیں لیکن ایک سلطان بننے کے لیے نامناسب سمجھی جاتی تھیں۔ بلبن اپنے حریف درباریوں کے حسد اور سازشوں کے باوجود حالات کو قابو میں رکھنے میں کامیاب رہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPrimus Books
جب منگلوں نے بغداد میں بلبن کو غلاموں کے بازار میں بیچ دیا
ناصرالدین محمود کے بیس سالہ دور حکومت میں یہ بلبن ہی تھے جو دراصل حکومت چلا رہے تھے۔
بارنی لکھتے ہیں، ’اس دور میں، بلبن نے محمود کو ایک کٹھ پتلی کے طور پر استعمال کیا۔ انھوں نے پوری انتظامیہ کو چلایا اور سلطان نہ ہونے کے باوجود، تمام شاہی نشانات، جیسے ’شاہی چھتری‘ کا استعمال کیا۔ محمود کا پورا دور حکومت، ایک طرح سے، بلبن کا دور تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
1216 میں پیدا ہونے والے غیاث الدین بلبن الباری ترک تھے۔ ان کا اصل نام بہاؤالدین تھا۔ انھیں منگولوں نے پکڑ کر اور بغداد میں غلام کے طور پر بیچ دیا۔ بلبن کے آقا، خواجہ جمال الدین انھیں دہلی لے آئے، جہاں التمش نے 1233 میں انھیں خرید کر اپنا معتمد بنایا۔
التمش کی وفات کے بعد اس کی بیٹی رضیہ نے بلبن کو امیرِ شکار مقرر کیا۔ 1249 میں انھوں نے سلطان ناصر الدین کی بیٹی سے شادی کی۔ ناصرالدین محمود نے انھیں نائب الملک مقرر کیا۔ یہ عہدہ ملنے کے بعد بلبن نے اپنی پسند کے لوگوں کو اہم عہدوں پر تعینات کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی کشلی خان کو محل کی انتظامیہ کا سربراہ مقرر کیا۔
اس ہی زمانے میں مراکش سے ہندوستان آنے والے ایک مشہور سیاح ابن بطوطہ کے مطابق، ’بلبن ایک چھوٹے قد کا آدمی تھا جو ظاہری شکل و صورت کے اعتبار سے زیادہ پرکشش نہیں تھا، لیکن ان کی اعلیٰ ذہنی صلاحیت اور ہنر اس کمی کی تلافی کر دیتا تھا۔‘
منہاج سراج اپنی کتاب ’طبقات ناصری‘ میں لکھتے ہیں کہ ’التمش بلبن کو بہت باصلاحیت انسان سمجھتے تھے، اس لیے انھوں نے بلبن کو اعلیٰ عہدہ دے کر ایک طرح سے اس کی تقدیر کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ بلبن کا مقام روز بروز بڑھتا گیا اور چند ہی دنوں میں وہ ’ترکان چہلطانیہ‘ کے رکن بن گئے۔ یہ چالیس افراد پر مشتمل گروہ سلطان کو مشورے دیا کرتا تھا۔‘
بلبن کے حریفوں کو ان کے اثر و رسوخ میں تیزی سے اضافہ پسند نہیں آیا اور انھوں نے اسے ان کے عہدے سے ہٹانے کی سازشیں شروع کر دیں۔

،تصویر کا ذریعہPenguin Books
جب بلبن اپنے مخالفین کا اعتماد جیت کر دوبارہ اپنی کرسی پر بحال ہو گئے
ستیش چندر اپنی کتاب ’ہسٹری آف میڈیول انڈیا‘ میں لکھتے ہیں، ’نصیر الدین محمود کے درباریوں نے ان کے اقدامات پر اثر انداز ہو کر بلبن کو اس کے عہدے سے ہٹوا دیا۔ بلبن کی جگہ عماد الدین ریحان نے لے لی۔ اگرچہ ترک سردار تمام طاقت اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے تھے، لیکن وہ اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ ان میں سے کون بلبن کی کرسی پر بیٹھے گا لہذا وہ ریحان کی تعیناتی پر متفق ہو گئے۔‘
’بلبن نے خود کو عہدے سے ہٹائے کی مخالفت نہیں کی، لیکن ڈیڑھ سال کے اندر وہ اپنے کچھ مخالفین کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہو گئے۔ سلطان محمود نے بلبن کے ساتھیوں کی زیادہ طاقت کی وجہ سے ریحان کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا۔ کچھ عرصے بعد ریحان کو قتل کر دیا گیا۔ اس طرح بلبن نے اپنے بہت سے مخالفین کو خاموش کر دیا۔‘
فروری 1266 میں سلطان محمود کی موت تک بلبن اس عہدے پر فائز رہے۔
اپنی موت سے پہلے سلطان محمود نے بلبن کو اپنا جانشین قرار دے دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ التمش کا کوئی بیٹا زندہ نہیں تھا، اور صرف بلبن جیسا ہی کوئی شخص اس افراتفری کو سنبھال سکتا تھا جس نے سلطنت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
مزید برآں، بلبن نے اپنے آپ کو ترک ہیرو افراسیاب کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرکے تخت پر اپنے دعوے کو مضبوط کیا۔ سلطان کی حیثیت سے بلبن نے بڑی ذمہ داری اور تندہی سے کام کیا۔
سلطان بنتے ہی انھوں نے وہ تمام آسائشیں ترک کر دیں جن کے وہ عادی ہو چکے تھے۔
ضیاء الدین بارانی لکھتے ہیں، ’ایک درباری کے طور پر، بلبن کو شراب نوشی اور طرح طرح کی تفریح کا شوق تھا۔ وہ ہفتے میں تین بار دعوتوں کا اہتمام کرتے اور اپنے مہمانوں کے ساتھ جوا کھیلتے۔ لیکن تخت پر بیٹھتے ہی انھوں نے خود کو ان برائیوں سے دور کر لیا۔ ان کا صرف ایک ہی شوق رہ گیا تھا: شکار جسے انھوں نے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور اس کے ذریعے وہ اپنے فوجیوں کی تربیت کرتے۔‘

،تصویر کا ذریعہNCERT
شان و شوکت پر یقین
التمش کو چھوڑ کر، دہلی کے سلاطین تمام درباریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتے تھے۔ بلبن کے خیال میں اس سے انتظامیہ میں سستی اور سلطنت میں افراتفری پھیلتی تھی۔
درباریوں اور صوبائی گورنروں کا ہمیشہ سلطان کے ساتھ جھگڑا رہتا جس کی وجہ طاقت پر سلطان کی پکڑ کمزور پڑ جاتی۔
قدیم ایرانی دربار سے متاثر ہو کر بلبن نے محسوس کیا کہ حیثیت میں تخت کو درباریوں سے اوپر ہونا چاہیے اور انھوں نے سلطان کو خدا کا نمائندہ بنا کر پیش کرنا شروع کیا۔
بارانی لکھتے ہیں، ’بلبن کے بادشاہت کے تصور میں نے اس بات پر زور دیا جاتا کہ جب بھی درباری سلطان کے سامنے آئیں، تو انھیں جھک کر آنا چاہیے اور تخت یا سلطان کے پاؤں چومنا چاہیے۔ بلبن دربار میں ہوں یا کسی عوامی مقام پر، وہ ہمیشہ تلواریں اٹھائے شاہی محافظوں کے گھیرے میں ہوتے تھے۔ انھوں نے سلطان اور دیگر کے درمیان جسمانی اور نفسیاتی فاصلہ پیدا کر دیا تھا۔‘
’دہلی کے کسی حکمران نے کبھی ایسی شان و شوکت کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ ان کے خادموں نے مجھے بتایا کہ جب کوئی انھیں دیکھ بھی نہیں رہا ہوتا، تب بھی وہ شاہی لباس پہنتے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
’جب بھی میں کسی ادنیٰ انسان کو دیکھتا ہوں تو میرے ہاتھ اپنی تلوار کی طرف بڑھ جاتے ہیں‘
اپنے پورے دور کے دوران بلبن کو نہ تو اپنے سے کم حیثیت پیشے کے شخص سے بات کرتے ہوئے دیکھا گیا اور نہ ہی انھیں اجنبیوں کے ساتھ میل جول بڑھاتے دیکھا گیا۔
ستیش چندر لکھتے ہیں، ’بلبن نے تمام ہندوستانی مسلمانوں کو اقتدار کے اہم عہدوں سے بے دخل کر دیا۔ انھوں نے ایسے لوگوں کی سرکاری عہدوں پر تعیناتی بند کر دی جن کا تعلق اشرافیہ کے خاندانوں سے نہیں ہوتا۔ بعض اوقات، وہ ایسے اہم تاجروں سے بھی ملنے سے انکار کر دیتے جن کا تعلق کسی اعلیٰ خاندان سے نہیں ہوتا تھا۔‘
بارانی نے بلبن کے حوالے سے کہا کہ ’میں جب بھی کسی ادنیٰ انسان کو دیکھتا ہوں تو میری آنکھیں جلنے لگتی ہیں اور میرے ہاتھ اپنی تلوار کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔‘
’بلبن نے لوگوں کے ساتھ مذاق کرنا چھوڑ دیا۔ ان کی موجودگی میں کسی کو ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ وہ اپنے دربار میں کبھی زور سے نہیں ہنسے اور نہ ہی کسی کو ہنسنے دیا۔‘
’بلبن نے اپنی سلطنت کے تمام حساس مقامات پر احتیاط سے منتخب کردہ جاسوسوں کا ایک ایسا نیٹ ورک قائم کیا جو انھیں کسی بھی ممکنہ بغاوت سے آگاہ رکھے۔‘

،تصویر کا ذریعہOrient Black Swan
فوج مہمات کے مخالف
دیگر بادشاہوں کے برعکس بلبن کو جنگیں جیت کر شہرت حاصل کرنے کی خواہش نہیں تھی۔
ابراہم ایرالی لکھتے ہیں، ’اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ فوجی مہمات کے مخالف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ نئی فتوحات پر وقت ضائع کرنا غیر دانشمندانہ ہے، خاص طور پر جب ایسے میں جب ان کے زیر کنٹرول علاقہ مکمل طور پر مستحکم نہیں تھا اور وقتاً فوقتاً منگولوں کے حملے ہوتے رہتے تھے۔‘
بارانی لکھتے ہیں، ’ایک بار بلبن کے درباریوں نے ان سے فوجی فتح حاصل کر کے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے اپنا نام درج کروانے کی درخواست کی، بلبن نے اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا۔‘
بلبن نے کہا، ’میں نے اپنی سلطنت کی تمام آمدنی اپنی فوج کو مضبوط کرنے پر خرچ کر دی ہے۔ میری فوجیں منگولوں کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ میں اپنی سلطنت کو کبھی نہیں چھوڑوں گا اور نہ ہی کبھی اس سے دور جاؤں گا۔‘

،تصویر کا ذریعہPenguin India
چنگیز خان کے پوتے سے اچھے تعلقات
دہلی سلطنت کے وزیر کے طور پر، بلبن نے منگول چیلنج کا مقابلہ چالاک سفارت کاری، چوکسی اور فوجی طاقت کے مظاہرے کے ساتھ کیا جس کے باعث منگول ان کی سلطنت کو زیادہ نقصان پہنچانے میں ناکام رہے۔
ابراہم ایرالی لکھتے ہیں، ’بلبن نے ہمیشہ ایران میں منگول کے نمائندے اور چنگیز خان کے پوتے ہلاکو کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے۔ ہلاکو نے انھیں یقین دلایا کہ منگول دریائے ستلج سے آگے نہیں بڑھیں گے۔‘
ہلاکو نے 1259 میں ایک خیر سگالی مشن دہلی بھیجا، جس کا بلبن نے گرمجوشی سے خیرمقدم کیا، لیکن انھوں نے کبھی منگولوں کو تاثر نہیں ہونے دیا کہ وہ کسی بھی اعتبار سے عسکری طور پر کمزور ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میواتی ڈاکوؤں کے خلاف مہم
بلبن کے زمانے میں میوات کے لوگوں نے دہلی کے آس پاس کے علاقوں میں دہشت پیدا کر دی تھی۔
بارانی لکھتے ہیں، ’میواتی دہلی کے آس پاس کے دیہی علاقوں میں لوٹ مار کرتے تھے۔ وہ گھنے جنگلوں میں چھپ جاتے جہاں سے بہت سی سڑکیں گزرتی تھیں۔ وہ مسافروں پر گھات لگا کر ان کا سارا سامان لوٹ لیتے۔ ان کے خوف سے دلی کے مغربی دروازے عصر کی نماز کے بعد بند کر دیے جاتے تھے۔ بلبن کو ان ڈاکوؤں کی بے باکی پسند نہیں تھی۔‘
’ان سے نمٹنے کے لیے، انھوں نے ذاتی طور پر ایک مہم کی قیادت کی۔ بیس دن تک بلبن کے سپاہیوں نے میو کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ بلبن نے اپنے سپاہیوں میں اعلان کیا کہ ہر ایک میو کے سر کے بدلے ایک سونے کا سکہ اور زندہ پکڑنے پر دو سونے کے سکے دیے جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے میواتی ڈاکوؤں کو پکڑ کر دہلی لایا گیا، جبکہ کچھ کو ہاتھیوں کے پیروں تلے کچل دیا گیا۔‘
ان پر قابو پانے کے لیے بلبن نے دہلی کے آس پاس کے تمام جنگلات کاٹ کر وہاں فوجی چوکیاں قائم کر دیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگال میں بغاوت کی سرکوبی
بلبن کو بیرونی حملہ آوروں کے مقابلے میں اپنے صوبائی گورنروں سے زیادہ بڑا چیلنج درپیش تھا۔ بنگال ایک اہم ریاست تھی، اس لیے بلبن نے اپنے سب سے قابل اعتماد، تغرل خان کو اس کا گورنر مقرر کیا۔ طغرل ایک متحرک اور نڈر آدمی تھا لیکن بنگال پہنچنے کے فوراً بعد اس نے بلبن کے خلاف بغاوت کر دی۔
بارانی لکھتے ہیں، ’بلبن نے پھر تغرل کو کچلنے کے لیے اودھ کے گورنر امین خان کو بھیجا، لیکن تغرل نے اسے باآسانی شکست دے دی۔ بلبن پھر بغاوت کو کچلنے کے لیے خود بنگال گئے۔ جب بلبن اپنی فوجوں کے ساتھ وہاں پہنچے تو تغرل اس امید پر تریپورہ کی طرف بھاگا کہ بلبن اس کا تعاقب نہیں کریں گے لیکن انھوں نے اس کا تعاقب کیا اور قتل کر دیا۔‘
’بلبن تغرل کے گرفتار شدہ سپاہیوں کے ساتھ لکھنوتی واپس پہنچے۔ وہاں ممکنہ باغیوں کو تنبیہہ کے طور پر، انھوں نے مرکزی بازار کے دونوں طرف پھانسی کے تختے لگوائے اور طغرل کے تمام بیٹوں اور دامادوں کو پھانسی دینے کا حکم دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہNCERT
بیٹے کی موت نے بلبن کو ہلا کر رکھ دیا
بلبن کو دہلی سلطنت کی انتظامیہ میں اصلاحات کا سہرا جاتا ہے۔ انھوں نے انتظامیہ کا وقار بحال کیا۔ ان کی جانب سے لاگو سخت قوانین اور غیر متزلزل نفاذ نے تمام شہریوں کو، چاہے وہ اعلیٰ طبقے سے ہوں یا نچلے طبقے کے، اس کے اختیار کے تابع ہونے پر مجبور کیا۔
بلبن نے وقار، عزت اور طاقت کے ساتھ حکومت کی۔ 1285 میں بلبن کا بڑا بیٹا اور جانشین محمد ملتان میں منگولوں کے ساتھ جنگ میں مارا گیا۔ اس سانحے نے بلبن کو ہلا کر رکھ دیا۔
بارانی لکھتے ہیں، ’انھوں نے اس غم سے نمٹنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ دن کے اوقات میں وہ اپنا دربار لگائے رکھتے جیسے سب کچھ نارمل ہو، لیکن رات کو وہ غم سے چیختے، اپنے کپڑے پھاڑتے اور سر پر مٹی ڈالتے۔ آہستہ آہستہ بلبن کی حکومت اپنے انجام کی طرف بڑھنے لگی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
71 سال کی عمر میں وفات
محمد کی وفات کے دو سال بعد 1287 میں بلبن نے بھی اس دنیا کو الوداع کہا۔
انھوں نے اپنے دوسرے بیٹے بغرا خان کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ انھوں نے اسے بلوایا اور کہا کہ تمہارے بھائی کی موت نے مجھے بستر مرگ تک پہنچا دیا ہے، میری زندگی کسی بھی لمحے ختم ہو سکتی ہے۔ یہ تمہاری غائب ہونے کا وقت نہیں ہے، کیونکہ میرا کوئی دوسرا بیٹا نہیں، تمہیں میرے ساتھ رہنا چاہیے۔ لکھنوتی جانے کی خواہش ترک کر دو۔
لیکن بغرا خان نے اپنے والد کے مشورے پر عمل نہیں کیا۔
بارانی لکھتے ہیں، ’وہ ایک لاپرواہ شہزادہ تھا۔ اسے دہلی کے تخت کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ دہلی میں دو مہینے رہنے کے بعد، جب ایسا لگا کہ بلبن کی صحت بہتر ہو رہی ہے، تو وہ اپنے والد کو بتائے بغیر لکھنوتی واپس چلا گیا۔‘
بلبن نے اپنے درباریوں کو بلایا اور کہا کہ وہ ان کے پوتے خسرو کو تخت کے لیے تیار کریں۔
بلبن نے کہا، ’میں جانتا ہوں کہ وہ جوان ہے اور حکومت کرنے کے قابل نہیں، لیکن میں کیا کر سکتا ہوں؟‘
اس کے تین دن بعد سلطان بلبن نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔













