کشمور: ماں اور کمسن بیٹی کے ریپ کا ملزم ’فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع کشمور میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک ماں اور اس کی کمسِن بچی سے ریپ کا مرکزی ملزم فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہو گیا ہے۔
ایس ایس پی کشمور امجد شیخ نے بی بی سی اردو کے ریاض سہیل کو بتایا کہ ملزم نے دورانِ حراست تفتیش کے دوران بتایا تھا کہ بخشاپور میں واقع قبرستان کے قریب ان کا ایک ٹھکانہ ہے جہاں وہ عورتوں کو رکھتے ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس پارٹی مرکزی ملزم کو ساتھ لے مذکورہ علاقے میں پہنچی تو وہاں موجود ’ایک اور ملزم نے پولیس کو دیکھ کر فائرنگ کی جس میں مرکزی ملزم ہلاک ہو گیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
امجد شیخ کے مطابق پولیس نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد ریپ کیس کے دوسرے ملزم کو اسلحے سمیت گرفتار کر لیا ہے۔
اس واقعے سے کچھ دیر قبل حکومتِ سندھ کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ملزم نے دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کروایا ہے اور جرم کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ کشمور کے واقعے نے ’ہم سب کو بحیثیت قوم جھنجوڑ دیا ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔‘
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ کی حکومت ملزم کی گرفتاری میں اہم کردار ادا کرنے والے پولیس کے اے ایس آئی محمد بخش برڑو کو قائداعظم پولیس میڈل دینے کے لیے وفاق کو خط لکھے گی۔
ترجمان نے بتایا کہ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون اور ان کی بیٹی کو سول ہسپتال لاڑکانہ میں ضروری علاج کی سہولیات دی گئی ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو بچی کے علاج کے لیے دنیا میں کہیں بھی جانا پڑے تو سندھ حکومت انتظامات کرے گی۔
ریپ کا شکار بچی کا ہسپتال میں آپریشن کیا گیا ہے اور ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس وقت بچی کی طبیعت بہتر ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’بچی کو انتہائی وحشیانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کے جسم پر تشدد کے نشان موجود تھے، پیٹ کی آنت بھی نکل آئی ہے اس کے لیے لیپروٹامی سرجری کی گئی۔‘
اس سے قبل ایس ایس پی کشمور امجد شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ طبی معائنے میں بچی کے ساتھ متعدد بار ریپ کی تصدیق ہوئی ہے اس کی حالت تشویشناک ہے جس کی وجہ سے اس کو لاڑکانہ ہسپتال بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ بچی کمزور نظر آتی ہے اس کے سر کے بال بھی بیدردی سے کاٹے گئے ہیں۔
بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’تشدد میں بچی کے دانت تک توڑ دیے ہیں، گلا دبایا گیا ہے اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے۔‘
خاتون اور بچی کراچی سے کشمور کیسے پہنچی

،تصویر کا ذریعہThinkstock
پولیس کے مطابق ایک خاتون منگل کی صبح کشمور تھانے پر آئی اور شکایت کی اس کی بیٹی کو یرغمال بنایا گیا ہے، پولیس نے سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے میں چھاپہ مارکر خاتون کی بیٹی کو برآمد کر تھا۔
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ کراچی کے ایک سرکاری ہسپتال میں رہتی تھی وہاں ملزم سے رابطہ ہوا جس نے کہا کہ وہ اسے کشمور میں نوکری دلائے گا۔
اس کے بقول ملزم کا کہنا تھا کہ ’تمہیں پرسوں کی تلاشی لینی ہے بیٹھے بٹھائے چالیس ہزار روپے تنخواہ ہوگی‘۔ جس کے بعد وہ خاتون اس کے ساتھ کشمور آگئی جہاں اس کو ویران علاقے میں لے جایا گیا۔ خاتون کے بقول اس کے استفسار پر اسے متنبہ کیا کہ خاموشی سے چلتی رہو اور اسے لے جاکر کمرے میں بند کردیا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق اس عورت کو گاؤں لایا گیا جہاں اس کے ساتھ تین روز اجتماعی ریپ کیا گیا۔ اس کے بعد اسے کراچی جانے کا کرایہ دے کر ان کے لیے کوئی عورت لانے کو کہا گیا جبکہ اس کی بیٹی کو یرغمال بنا لیا گیا۔ متاثرہ عورت کراچی چلی گئی اور دوبارہ کشمور آنے پر پولیس کو پوری کہانی بتائی۔
کشمور تھانے پر سرکار کی مدعیت میں اغوا، ریپ اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، ایف آئی میں کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ والدہ سے ناراض ہوکر اس نے بچی پر تشدد اور ریپ کیا۔













