کشمور: نوکری دلانے کا جھانسہ دے کر ماں اور کمسن بیٹی کا مبینہ ’ریپ‘ کرنے کا ملزم ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

بچے، ریپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع کشمور میں کم سِن بچی اور ان کی والدہ کے ساتھ مبینہ طور پر ریپ کے الزام میں گرفتار ملزم کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

ایس ایچ او کشمور اکبر چنا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ملزم کو بدھ کو سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، پولیس نے ملزم سے مزید تفیش کے لیے عدالت سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔ عدالت نے تین روز کے لیے ملزم کو پولیس کے حوالے کر دیا۔‘

ایس ایچ او نے بتایا کہ مقدے میں نامزد مزید دو ملزمان کی گرفتاری کے لیے بدھ کی صبح بھی چھاپا مارا گیا تھا لیکن وہ سندھ سے صوبہ بلوچستان کی طرف فرار ہو گئے ہیں، لیکن کوششیں جاری ہیں۔

دوسری جانب مبینہ ریپ کا شکار بچی کا ہسپتال میں آپریشن کیا گیا ہے۔

ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت بچی کی طبیعت بہتر ہے۔

اسی بارے میں

انھوں نے بتایا کہ ’بچی کو انتہائی وحشیانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کے جسم پر تشدد کے نشان موجود تھے، پیٹ کی آنت بھی نکل آئی ہے اس کے لیے لیپروٹامی سرجری کی گئی۔‘

اس سے قبل ایس ایس پی کشمور امجد شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ طبی معائنے میں بچی کے ساتھ متعدد بار ریپ کی تصدیق ہوئی ہے اس کی حالت تشویشناک ہے جس کی وجہ سے اس کو لاڑکانہ ہسپتال بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ بچی کمزور نظر آتی ہے اس کے سر کے بال بھی بیدردی سے کاٹے گئے ہیں۔

بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’تشدد میں بچی کے دانت تک توڑ دیے ہیں، گلا دبایا گیا ہے اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے۔‘

خاتون اور بچی کراچی سے کشمور کیسے پہنچی

خاکہ

،تصویر کا ذریعہThinkstock

پولیس کے مطابق ایک خاتون منگل کی صبح کشمور تھانے پر آئی اور شکایت کی اس کی بیٹی کو یرغمال بنایا گیا ہے، پولیس نے سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے میں چھاپہ مارکر خاتون کی بیٹی کو برآمد کر تھا۔

متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ کراچی کے ایک سرکاری ہسپتال میں رہتی تھی وہاں ملزم سے رابطہ ہوا جس نے کہا کہ وہ اسے کشمور میں نوکری دلائے گا۔

اس کے بقول ملزم کا کہنا تھا کہ ’تمہیں پرسوں کی تلاشی لینی ہے بیٹھے بٹھائے چالیس ہزار روپے تنخواہ ہوگی‘۔ جس کے بعد وہ خاتون اس کے ساتھ کشمور آگئی جہاں اس کو ویران علاقے میں لے جایا گیا۔ خاتون کے بقول اس کے استفسار پر اسے متنبہ کیا کہ خاموشی سے چلتی رہو اور اسے لے جاکر کمرے میں بند کردیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق اس عورت کو گاؤں لایا گیا جہاں اس کے ساتھ تین روز اجتماعی ریپ کیا گیا۔ اس کے بعد اسے کراچی جانے کا کرایہ دے کر ان کے لیے کوئی عورت لانے کو کہا گیا جبکہ اس کی بیٹی کو یرغمال بنا لیا گیا۔ متاثرہ عورت کراچی چلی گئی اور دوبارہ کشمور آنے پر پولیس کو پوری کہانی بتائی۔

کشمور تھانے پر سرکار کی مدعیت میں اغوا، ریپ اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، ایف آئی میں کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ والدہ سے ناراض ہوکر اس نے بچی پر تشدد اور ریپ کیا۔