قصور: 500 روپے میں جنسی عمل کے لیے بیٹی دینے والا باپ گرفتار

پاکستان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسکول میں سردیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے بچی گھر پر اپنے والد کے ساتھ اکیلی موجود تھی جبکہ اس کی والدہ اور بہنیں مزدوری کے لیے گھر سے باہر تھیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور کی تحصیل پتوکی میں عدالت نے اپنی 10 سالہ بیٹی کو 500 روپے کے عوض مبینہ طور پر جنسی عمل کے لیے ایک شخص کے حوالے کرنے والے باپ اور بچی کو ریپ کرنے کی کوشش کرنے والے شخص کو چار دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

معاملے کی ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ رواں مہینے کی تین تاریخ کو پھول نگر کے علاقے میں پیش آیا تھا۔ پولیس نے مذکورہ بچی کی والدہ کی مدعیت میں ریپ کا مقدمہ درج کیا اور اتوار کو دونوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

بی بی سی کی ترہب اصغر سے بات کرتے ہوئے مذکورہ بچی کے ماموں کا کہنا تھا کہ 'میری بہن کی چار بیٹیاں ہیں اور جس بچی کو ریپ کرنے کی کوشش کی گئی وہ سب سے چھوٹی ہے اور وہ دوسری جماعت میں پڑھتی ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ ان کی بہن اور اس کی دو بیٹیاں محنت مزدوری کرکے گھر کا خرچ چلاتی ہیں جبکہ ان کا بہنوئی کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

واقعے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ سکول میں سردیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے ان کی چھوٹی بھانجی گھر پر اپنے والد کے ساتھ اکیلی موجود تھی جبکہ اس کی والدہ اور بہنیں مزدوری کے لیے گھر سے باہر تھیں اور ان کی غیرموجودگی میں یہ واقعہ پیش آیا۔

بچی کی والدہ کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کے شوہر نے 500 روپے لے کر ان کی بیٹی کو اپنے ہی گھر میں ملزم کے حوالے کیا۔

خاکہ

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشنخاندان کے مطابق واقعے کے بعد بچی کے باپ نے اسے مارا پیٹا اور دھمکایا اور کہا کہ اپنی والدہ سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہ کرے

والدہ کی جانب سے مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی بیٹی کو ریپ کیا گیا تاہم بچی کے ماموں اور پولیس کا کہنا ہے کہ ریپ کی کوشش کے دوران ہی ملزم بچی کے شور مچانے پر فرار ہو گئے تھے۔

بچی کے ماموں کے مطابق ’ملزم جس وقت بچی سے جنسی زیادتی کر رہا تھا اس وقت بچی کی چیخ و پکار سن کر اہل علاقہ موقع پر پہنچے تو ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔‘

لڑکی کے ماموں نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کے بعد بچی کے باپ نے اسے مارا پیٹا اور دھمکایا اور کہا کہ اپنی والدہ سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہ کرے۔

ایف آئی آر کے مطابق جب شام میں بچی کی والدہ گھر واپس آئیں تو انھیں سارے معاملے کے بارے میں پتا چلا تو انھوں نے اپنے شوہر کے اس بارے میں دریافت کیا تو اس نے تسلیم کیا کہ ایسا ہوا ہے۔

شوہر کے گھر سے باہر جانے پر بچی کی والدہ پولیس تک پہنچیں اور مقدمہ درج کروایا۔

ریپ

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشنایس پی راشد ہدایت کے مطابق بچی کا والد اور زیادتی کی کوشش کرنے والا ملزم موقعے سے فرار ہو گئے تھے جبکہ ملزم کا ریکارڈ چیک کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ پہلے بھی 2013 میں ایک آٹھ سالہ بچے سے پتوکی میں ہی زیادتی کے مقدمے میں نامزد رہا ہے

بچی کے ماموں کا کہنا تھا کہ بچی کا باپ ان کی بہن پر بھی تشدد کرتا تھا اور ان کی ’بہن نے ایک سال پہلے اپنے شوہر سے علیحدگی لے لی تھی مگر ہم نے اسے سمجھا بجھا کر واپس اس کے گھر بھیج دیا تھا۔'

قصور پولیس کے ایس پی راشد ہدایت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ مذکورہ بچی کا طبی معائنہ کروایا گیا ہے جس میں یہ ثابت ہوا ہے کہ بچی کو ریپ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس سوال پر کہ بچی کے اہلخانہ اس کے ساتھ متعدد بار جنسی زیادتی کیے جانے کا الزام لگا رہے ہیں، ایس پی کا کہنا تھا کہ پولیس کے سامنے تو بچی اور اس کی والدہ نے صرف ایک ملزم کا ہی ذکر کیا ہے۔

ایس پی راشد ہدایت کے مطابق بچی کا والد اور زیادتی کی کوشش کرنے والا ملزم موقعے سے فرار ہو گئے تھے جبکہ ملزم کا ریکارڈ چیک کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ پہلے بھی 2013 میں ایک آٹھ سالہ بچے سے پتوکی میں ہی زیادتی کے مقدمے میں نامزد رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ معلومات کے مطابق ملزم علاقے میں اینٹوں کے ایک بھٹے پر مزدوری کرتا تھا اور مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے بعد ملزم اور بچی کے والد کو ایک بھٹے سے ہی گرفتار کیا گیا ہے۔