ایل او سی کی خلاف ورزی: انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دونوں جانب سے فائرنگ کے باعث کئی ہلاک اور زخمی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

،تصویر کا ذریعہSDMA Muzaffarabad

جمعے کو انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف سیکٹروں پر دونوں جانب سے گولہ باری اور شیلینگ کے واقعات کے بعد پاکستان اور انڈیا نے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے جبکہ اس کے باعث دونوں جانب متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق سات اور آٹھ نومبر کی درمیانی شب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں وادی نیلم کی دوسری جانب انڈین فوج اور مقامی عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں انڈین فوج کے چار فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان کی فوج کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ ’انڈین فوج نے اپنے عوام کے سامنے اس واقعے کے خفت مٹانے کے لیے اس واقع کی وجہ تلاش کرنے اور اس کا حل نکالنے کی بجائے 13 نومبر کو ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے متعدد علاقوں پر بھاری گولہ باری اور شیلنگ کا سلسلہ شروع کر دیا۔‘

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ان علاقوں میں وادی نیلم کے علاقے نکرون، کیل، شاردا، دھنیال، شاہکوٹ، جورا، نوسری سیکٹر، وادی لیپہ کے دانا، منڈیال اور کیانی سیکٹر، وادی جہلم کے چہام اور پانڈو سیکٹر، وادی باغ کے پیرکانتھی، سانکھ، حاجی پیر، بیدوری اور کیلیر سیکٹر شامل ہیں۔

جبکہ دوسری جانب انڈین فوج کا کہنا تھا کہ جمعہ کے روز پاکستان نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب گوریز اور اوڑی سمیت متعدد سیکٹروں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ اور شیلینگ کی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

،تصویر کا ذریعہIndian Army

پاکستانی فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق ’انڈین فوج نے ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ صرف فوجی چوکیوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ عالمی قوانین کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں چار شہری ہلاک جبکہ 12 زخمی ہو گئے ہیں۔‘

پاکستان فوج کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’پاکستانی فوج نے بلا اشتعال فائرنگ کا جواب دیتے ہوئے انڈین چوکیوں کو نشانہ بنایا جس میں انڈیا کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس جھڑپ میں پاکستانی فوج کا ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

،تصویر کا ذریعہSDMA Muzaffarabad

انڈیا کی فوج کا دعویٰ

انڈین فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کے روز پاکستان نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب گوریز اور اوڑی سمیت متعدد سیکٹروں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ اور شیلینگ کی۔

انڈین فوج کے مطابق اس فائرنگ کے تبادلے میں انڈین سکیورٹی فورسز کے تین جوانوں سمیت کم از کم چھ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ تین اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

سری نگر میں انڈین فوج کی چنار کور کے بیان کے مطابق ’پاکستان نے حملے کے لیے مارٹر گولوں اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔‘

انڈین فوج نے بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان نے جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔‘ جبکہ اس جھڑپ میں پاکستانی فوج کے انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

انڈین فوج کے عہدے داروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی کے نمبالہ سیکٹر میں دو فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ حاجی پیر سیکٹر میں بی ایس اے ایف کے ایک سب انسپکٹر کی موت ہو گئی۔ حاجی پیر سیکٹر میں ایک انڈین فوجی زخمی بھی ہوا ہے۔

انڈین فوج کے عہدیداروں کے مطابق ضلع بارہمولہ کے علاقے اوڑی کے کمال کوٹ سیکٹر میں دو شہری ہلاک ہوئے جبکہ اوڑی کے حاجی پیر سیکٹر میں بالاکوٹ کے علاقے میں ایک خاتون کی موت ہوئی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

،تصویر کا ذریعہSDMA

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سے دفاع کے ترجمان راجیش کالیا نے بتایا کہ ’فوج نے سرحد کے قریب کیران سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کے دوران دراندازی کی سازش کو ناکام بنا دیا۔‘

انھوں نے کہا ’ہماری فوج نے شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں کیران سیکٹر میں جمعہ کے روز کچھ مشکوک نقل و حرکت دیکھی تھی۔ ہماری فوجی دستوں نے دراندازی کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔‘

انڈین فوج کے ایک سینئر فوجی افسر نے بتایا کہ جموں وکشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تعینات بی ایس ایف کے تقریباً تمام یونٹوں کو جمعہ کی صبح سے ہی شدید فائرنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔