کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بسنے والوں کی مشکلات: ’چھوٹا بیٹا تو دو یا تین فائر کی آواز سن کر بےہوش ہو گیا‘

- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو، میرابکوٹ، پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر
فائرنگ، گولے، شیلنگ، بنکرز، مورچے۔۔۔ یہ الفاظ کشمیر میں روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔یہاں زیرو لائن کے نزدیک گهر تعمیر کرنا ہو تو کچھ پیسے مورچوں کی تعمیر کے لیے الگ رکهنا پڑتے ہیں۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان دن میں ایک بار بهی فائرنگ ہو جائے تو بچوں کے سکول بند کر دیے جاتے ہیں۔
فائرنگ کے بعد چند دن تک تو ہر آہٹ پر فائرنگ کا ہی گمان ہوتا ہے۔ فائرنگ ہو تو لوگوں کو پیدل ہی سفر کرنا پڑتا ہے کیونکہ گاڑیوں والے یہاں آنے سے انکار کر دیتے ہیں
یہ سب لائن آف کنٹرول کے قریب واقع کسی بهی گاؤں میں رہنے والوں کی زندگی کے شب و روز ہیں لیکن ایل او سی سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع میرابکوٹ کے باسیوں کے لیے زندگی کا یہ انداز قدرے مشکل ہے، وہ آج کل ایک مشکل صورتحال کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ گاؤں اب ایل او سی کی اِس جانب موجود دیہات میں اب ایک مثال کے طور پر بهی پیش کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہاں 15 سال کی مکمل خاموشی کے بعد شیلنگ اور گولہ باری کا آغاز ہے۔
میرابکوٹ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے چکوٹهی سیکٹر میں واقع ہے۔ اس گاؤں کی تین جانب بلند و بالا چوٹیوں پر پاکستانی فوج کی چوکیاں ہیں اور چوتهی سمت میں انڈین فوج بیٹهی ہے۔ یہاں کے رہائشیوں کے مطابق آخری بار یہاں تباہ کن گولہ باری 1998 میں ہوئی تهی۔ ’پھر تهوڑی بہت شیلنگ معمول کی بات تهی مگر 2003 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیزفائر کے معاہدے کے بعد یہاں ایک بار بهی گولی نہیں چلی'۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
پاکستان اور انڈیا کے درمیان لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ نومبر 2003 میں طے پایا تها، جس کے بعد 2005 میں دونوں ملکوں نے لائن آف کنٹرول پر پانچ مقامات پر مسافروں کی پیدل آمدورفت اور زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان کی ترسیل کے لیے کهولنے پر اتفاق کیا تها۔
بس سروس کے آغاز کے علاوہ ان پانچ کراسنگ پوائنٹس میں سے دو کو بعد ازاں تجارت کے لیے بهی کهولا گیا اور ایک تجارتی کراسنگ پوائنٹ اسی گاؤں کے ساتھ چکوٹهی سیکٹر میں بهی واقع ہے۔
لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے۔ تجارت اور آمدورفت کئی ماہ سے معطل ہے۔ گاؤں کے رہائشی شوکت اعوان کہتے ہیں کہ ’1998 کے بعد تو ہمارے ذہن میں نہیں تها کہ اس طرح اچانک فائرنگ شروع ہو جائے گی۔ ہمارے ذہن میں یہ تها کہ اب امن ہے۔ بس سروس ہے، تجارت ہو رہی ہے، کبهی سوچا بهی نہیں تها کہ انڈین آرمی اس طرح کی فائرنگ کبهی ہمارے اس علاقے میں کرے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب فائرنگ ہوئی تو خوف بہت تها، بہت زیادہ خوف تها اور تقریباً ہم یہاں سے رات کے گیارہ بجے مظفرآباد کی طرف نقل مکانی کر گئے تو ہر آدمی ہی پریشان تها'۔
یہ گاؤں 15 سال بعد رواں برس فروری میں پہلی بار گولہ باری کا نشانہ بنا۔ نازش بی بی (فرضی نام) کے مطابق وہ دن ان کے لیے قیامت سے کم نہیں تها۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں ایسا لگا کہ جیسے بس اب جنگ شروع ہو گئی ہے۔

'جب بھی چھوٹے فائر ہوں ہمیں آواز آتی ہے، ہر وقت آتی ہے۔ چاہے پانڈو سیکٹر میں ہوں یا جہاں کہیں ہوں، فائرنگ کی آواز آتی رہتی ہے لیکن وہ فائر تو جیسے ہمارے سر پر تھے۔ ان کی آواز بہت سخت تھی ، بچے بہت ڈرے ہوئے تھے۔ ساڑهے تین سال کا چھوٹا بیٹا تو دو یا تین فائر کی آواز سن کر بےہوش ہو گیا تھا۔ جو بڑا بیٹا ہے اس نے سب کچھ سنا ہے، وہ کلمے پڑهتا رہا۔
’میں رو رہی تھی وہ کہنے لگا کہ مما کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا کہ کیا پتا آج ہمارا آخری دن ہے۔ یہ بچوں کے سامنے کہا۔ اکیلا بندہ مر جائے تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن بچوں پر کوئی آنچ نہ آئے۔ پورے گاؤں میں یہی حال تها، ہر بندہ ڈرا ہوا تها، ہر بچہ ڈرا ہوا تها۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’وہ فائر ہی ایسا تها، ہم ایک لینٹر کے نیچے تهے اور یہ پورا مکان ہل رہا تها۔ یہاں چاروں طرف سے آوازیں آ رہی تهیں کہ نجانے کیا گر رہا ہے، ہوا میں فائرنگ ہو رہی تهی کہ پتا نہیں کیا ہو رہا تها‘۔
اس گاؤں میں گولہ باری سے ایک اب تک ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں جبکہ کچھ مکانات کو بهی نقصان پہنچا ہے۔ یہاں کی زیادہ تر آبادی طویل عرصے تک امن رہنے کی وجہ سے لوہے کی چادروں سے بنی چهتوں والے گهروں میں رہتی ہے۔
حالیہ تین ہفتوں میں ابهی تک یہاں براہ راست شیلنگ تو نہیں ہوئی ہے لیکن اب یہاں معمولاتِ زندگی تبدیل ہو گئے ہیں۔ لوگ اب زیرِ زمین یا زمین کے اوپر ہی مورچے بنانے کے لیے پیسے جمع کر رہے ہیں۔

گاؤں کے رہائشی شریف چغتائی کہتے ہیں کہ انھیں حکومت سے کسی قسم کی کوئی امید نہیں ہے۔ ’ہمارے اپنے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ مورچے بنا سکیں، تو میں یہی کہتا ہوں کہ حکومت ہماری مدد کرے، اگر ہمیں مورچے بنا کر نہیں دیتی تو کم از کم قرضہ دے تاکہ لوگ خود مورچے بنا سکیں'۔
انھی کے ساتھ موجود مقصود احمد نے بتایا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں وہاں کی حکومت نے حفاظتی اقدامات کر رکهے ہیں۔
’لائن آف کنٹرول کی اس جانب سے لوگ آتے ہیں تو کوئی ہمیں ملے تو ہم ان سے پوچهتے ہیں تو وہ یہی بتاتے ہیں کہ ہمارے پاس سیفٹی ہے، ہمیں حکومت نے بنا کر دی ہوئی ہے۔ یہاں پر تو حکومت نے، پاکستان کی حکومت نے کچھ بهی نہیں دیا ہوا'۔
اس گاؤں کی ماؤں کی پریشانی سب سے زیادہ ہے۔ ان کے دن رات اسی سوچ میں گزرتے ہیں کہ ان کے بچوں کے ساتھ کیا ہو گا۔
نازش بی بی کہتی ہیں کہ بچے کئی دن تک صدمے میں رہتے ہیں، وہ گولیوں کی آواز سن کر سہم جاتے ہیں۔ 'بچے کہتے ہیں کہ ہم نے بیڈ پر نہیں سونا، ہمیں مورچے میں لے جاؤ۔ ان کا ڈر کئی دن تک ختم نہیں ہوتا۔ ہم انھیں گهر سے دور نہیں جانے دیتے کہ فائرنگ شروع ہو گئی تو کہاں ڈهونڈیں گے۔‘

ان کے مطابق ’سکولوں میں کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں تو سکول بهیجتے ہوئے بهی ڈر لگتا ہے، خود پر تو ہر تکلیف برداشت کی جا سکتی ہے مگر بچوں پر تو ماں آنچ بهی نہیں آنے دے سکتی'۔
اس صورتحال میں لائن آف کنٹرول کے قریبی دیہات میں چهوٹے بچوں کے سکولوں میں پہلے ہی چهٹیاں دے دی گئی ہیں۔
نازش بی بی کہتی ہیں کہ اب انہیں یقین ہو گیا ہے کہ دونوں ملکوں میں ہر معاہدے کے بعد بهی جنگ کا امکان ختم نہیں ہو گا۔
'ان دو تین ماہ میں یہ عالم ہے کہ ہم کہیں دور پار بهی نہیں جا رہے، کہ کیا خبر کیا ہو جائے۔ آدهے اِدهر رہ جائیں، آدهے اُدهر ہو جائیں۔ کچھ پتہ نہیں چلتا ہے، یہ ہمارے درمیان خوف ہے، نہ کهانے میں سکون ہے، نہ کسی اور چیز کا سکون ہے۔‘
لائن آف کنٹرول کے پاس ان چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں زندگی اب اسی کشمکش میں گزرتی ہے کہ 'رات ہوتی ہے تو یہی سوچ کر گزارا کرتے ہیں کہ رات کو فائر نہ ہو، دن کو پهر کچھ کر لیں گے اور پهر جب دن آتا ہے تو دن بهی اسی خوف و ہراس میں گزر جاتا ہے'۔








